سوچ سے تخلیق تک-چیٹ میرا ہمسفر(3)- مبشرہ علوی

کیا بہترین سوال پوچھنا بھی ایک فن ہے؟

پچھلی قسط کے اختتام پر ہم نے ایک سوال چھوڑا تھا۔

اگر مصنوعی ذہانت مصنف نہیں بلکہ ہمسفر ہے، تو پھر مستقبل کا سب سے بڑا ادیب وہ ہوگا جو بہترین لکھتا ہے… یا وہ جو بہترین سوال پوچھتا ہے؟

اس سوال کا مختصر جواب ہے:

دونوں۔

لیکن ترتیب بدل چکی ہے۔

پہلے لکھنا سیکھا جاتا تھا، پھر سوال پیدا ہوتے تھے۔

اب سوال پیدا کرنا سیکھنا ہوگا، تبھی بہتر تحریر وجود میں آئے گی۔

یہ بات نئی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں اتنی نئی نہیں۔

سقراط نے اپنی زندگی میں کوئی کتاب نہیں لکھی۔

پھر بھی وہ مغربی فلسفے کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔

کیوں؟

کیونکہ ان کی اصل طاقت جواب دینا نہیں تھی۔

سوال پوچھنا تھی۔

وہ بازار میں کھڑے ہو کر کسی شخص سے پوچھتے:

“عدل کیا ہے؟”

سامنے والا جواب دیتا۔

سقراط دوسرا سوال پوچھتے۔

پھر تیسرا۔

پھر چوتھا۔

رفتہ رفتہ جواب دینے والا خود محسوس کرنے لگتا کہ وہ جس بات کو یقینی سمجھ رہا تھا، اس کی بنیاد اتنی مضبوط نہیں۔

یہ طریقہ بعد میں Socratic Method کہلایا۔

یہ تعلیم کا طریقہ بنا، قانون کی تعلیم کا بھی اور فلسفے کی روح بھی۔

اچھا سوال اکثر اچھے جواب سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔

جواب ایک منزل تک پہنچاتا ہے۔

سوال کئی نئی راہیں کھول دیتا ہے۔

اسی لیے البرٹ آئن اسٹائن سے منسوب ایک مشہور قول ہے:

“اگر میرے پاس کسی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک گھنٹہ ہو، تو میں پچپن منٹ مسئلے کو سمجھنے اور صرف پانچ منٹ حل پر صرف کروں۔”

اس قول کی اصل نسبت پر اہلِ تحقیق میں اختلاف ہے، لیکن اس کا مفہوم جدید سائنسی تحقیق کے مزاج سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔

بہترین سائنس دان وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب جانتا ہو۔

بلکہ وہ ہے جو درست سوال دریافت کر لیتا ہے۔

یہی اصول ادب پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

غالب نے ہمیں جواب نہیں دیے۔

انہوں نے سوال دیے۔

اقبال نے انسان کو تیار جواب دینے کے بجائے اسے خودی کی تلاش پر بھیجا۔

منٹو نے عدالت قائم نہیں کی۔

آئینہ رکھا۔

عظیم ادب اکثر فیصلہ نہیں سناتا۔

وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ساتھ بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔

دو لوگ ایک ہی AI استعمال کرتے ہیں۔

ایک لکھتا ہے:

“میرے لیے ایک مضمون لکھ دو۔”

دوسرا لکھتا ہے:

“اس خیال کی کمزوریاں کیا ہیں؟ اس کے خلاف مضبوط دلائل کیا ہو سکتے ہیں؟ اس موضوع پر مغربی اور مشرقی روایت میں کیا فرق ہے؟ میری دلیل میں کہاں خلا ہے؟”

دونوں کو ایک ہی مشین جواب دے رہی ہے۔

لیکن نتائج یکساں نہیں۔

فرق مشین میں نہیں۔

فرق سوال میں ہے۔

میں: تو کیا مستقبل میں سوال پوچھنا بھی ایک مہارت شمار ہوگا؟

چیٹ: شاید صرف مہارت نہیں، بنیادی علمی صلاحیت بن جائے۔ جس طرح ایک زمانے میں کتاب پڑھنا ایک غیر معمولی قابلیت تھی، پھر عام مہارت بن گئی، اسی طرح مؤثر سوال پوچھنا بھی آنے والے زمانے کی بنیادی خواندگی بن سکتا ہے۔

یہاں ایک غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے۔

کیا اس کا مطلب ہے کہ اب ہر شخص صرف سوال پوچھے گا اور باقی کام مشین کرے گی؟

نہیں۔

کیونکہ سوال صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا۔

ہر اچھے سوال کے پیچھے تجربہ، مطالعہ، مشاہدہ اور حیرت موجود ہوتی ہے۔

اگر ایک ڈاکٹر سوال پوچھتا ہے اور وہی سوال ایک انجینئر پوچھتا ہے تو دونوں کے سوال کا پس منظر مختلف ہوتا ہے۔

اگر ایک مورخ اور ایک شاعر ایک ہی موضوع پر گفتگو کریں تو ان کی جستجو الگ ہوگی۔

یعنی سوال پوچھنے کا فن بھی انسان کی پوری زندگی سے تشکیل پاتا ہے۔

اسی لیے مصنوعی ذہانت انسانی تجربے کی جگہ نہیں لے سکتی۔

وہ آپ کے تجربے کو منظم کر سکتی ہے۔

اسے تبدیل کر سکتی ہے۔

اسے وسیع کر سکتی ہے۔

لیکن وہ آپ کی زندگی نہیں جی سکتی۔

اس نے کبھی کامیابی کا انتظار نہیں کیا۔

کسی عزیز کو کھونے کا دکھ نہیں جھیلا۔

کسی استاد کی خاموش نظر سے سبق نہیں سیکھا۔

یہ سب انسانی تجربات ہیں، اور یہی سوالوں کو گہرائی دیتے ہیں۔

شاید آنے والے برسوں میں تعلیم کا ایک بڑا مقصد بدل جائے۔

آج ہم بچوں سے پوچھتے ہیں:

“صحیح جواب کیا ہے؟”

کل شاید ہم پوچھیں گے:

“صحیح سوال کیا ہے؟”

یہ تبدیلی معمولی نہیں ہوگی۔

یہ پوری تعلیمی روایت کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرے گی۔

ہم ایک ایسے زمانے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں معلومات کی کمی مسئلہ نہیں رہی۔

مسئلہ یہ ہے کہ معلومات کے اس سمندر میں کون سا سوال ہمیں صحیح سمت لے جائے گا۔

مصنوعی ذہانت لاکھوں صفحات پڑھ سکتی ہے۔

لیکن یہ فیصلہ اب بھی انسان کو کرنا ہے کہ تلاش کس چیز کی کرنی ہے۔

شاید اسی لیے مستقبل میں بہترین مصنف وہ نہیں ہوگا جو سب سے زیادہ لکھتا ہے۔

بلکہ وہ ہوگا جو اپنے قاری کو ایسے سوال دے جائے جن کا جواب وہ کتاب بند کرنے کے بعد بھی ڈھونڈتا رہے۔

کیونکہ سوال صرف مکالمے کا آغاز نہیں ہوتے۔

بعض اوقات وہ پوری زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں۔

ہمسفر…

اگر آنے والے دور کی اصل طاقت درست سوال پوچھنا ہے، تو پھر ہماری موجودہ تعلیم ہمیں جواب یاد کرنا کیوں سکھاتی ہے، سوال پیدا کرنا کیوں نہیں؟

منتخب مراجع

Plato، Apology، Meno، Republic
Leonard Nelson، The Socratic Method
John Dewey، How We Think
Karl Popper، Conjectures and Refutations
دیوانِ غالب
علامہ اقبال، تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ

جاری ہے

اپنا تبصرہ لکھیں