خطہ لداخ بلتستان کے دو عظیم سپوت: سونم وانگچک اور آغا سید باقر الحسینی/ شیر علی انجم

شاعرِ مشرق حضرت علامہ اقبال فرماتے ہیں:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔
اس شعر کی تشریح کے لیے جب ہم اپنے معاشرے کی طرف رجوع کرتے ہیں تو جہاں سیاسی اور حکومتی نظام بانجھ پن کا شکار ہیں، وہیں اس معاشرے میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو معاشرے کے لیے کچھ بہتر کرنے کی نہ صرف جستجو کرتے ہیں بلکہ علمی طور پر معاشرے کو معاشرہ سازی کے لیے متحرک بھی کرتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے کا بہتر معاشی نظام اور تعلیمی صورتحال اس معاشرے کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔
خطۂ لداخ بلتستان، کرگل اور لہہ پر مشتمل علاقہ جات کو کہتے ہیں، جن کے درمیان ایک ایسا خونی لیکر کھنچا ہوا ہے جو اس خطے کے عوام کے لیے بڑے امتحان سے کم نہیں۔ لیکن دونوں ریجنز کے درمیان تہذیبی، نسلی، لسانی اور ثقافتی تعلق آج بھی لائن آف کنٹرول کے خونی لیکروں پر بھاری نظر آتا ہے۔ بلتی زبان جو کہ سائینو تبتی خاندان کی اٹھائیسویں شاخ ہے اور پورے لداخ میں بولی جاتی ہے، وقت کے ساتھ اس کی اندازِ بیان میں ثقافتی اور لسانی یلغار کی وجہ سے کچھ تبدیلیاں ضرور رونما ہوئی ہیں، لیکن اصلی رسمِ خط اس یلغار سے بھی آج تک متاثر نہیں ہوا۔ بلکہ اس زبان کی ترویج کے لیے دونوں ریجنز میں باقاعدہ کام ہو رہا ہے، جو کہ خوش آئند بات ہے۔
اگرچہ دونوں ریجنز میں کئی ایسی علمی شخصیات ہیں جن کی علمی خدمات پر آج بھی معاشرے کے لوگ فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن بدلتی ہوئی جغرافیائی صورتحال، موسمی و ماحولیاتی تبدیلیوں اور عالمی حالات کے تناظر میں دونوں ریجنز کو جو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں، ان سے نمٹنے کے لیے میری نظر میں جن دو شخصیات کی کارکردگی نمایاں ہے، وہ ہیں سکردو سے تعلق رکھنے والے آغا سید باقر الحسینی اور لہہ سے تعلق رکھنے والے سونم وانگچک۔
خطہ لداخ کے ضلع لہہ سے تعلق رکھنے والے سونم وانگچک نے 1988 میں جب صرف 22 سال کے تھے تو انہیں لداخ کے تعلیمی نظام پر فکر پیدا ہو گئی۔ اس وقت لداخ کے سرکاری اسکولوں میں تقریباً 95 فیصد بچے فیل ہو جاتے تھے۔ انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا کہ روایتی تعلیم یہاں کے ماحول اور زندگی سے بالکل بے جوڑ ہے۔ پس انہوں نے دیگر دوستوں کے ساتھ مل کر ایجوکیشنل اینڈ کلچرل موومنٹ آف لداخ (SECMOL) کے نام سے ایک ادارہ بنایا۔ اس ادارے کے تحت انہوں نے مقامی طرزِ تعمیر پر ایک گاؤں میں باقاعدہ اسکول کیمپس بنایا اور فیل ہونے والے طلبہ کو داخلہ دینا شروع کر دیا۔ یہ اسکول مکمل طور پر شمسی توانائی پر چلتا ہے؛ روشنی اور گرمی کے لیے کوئی فوسل فیول استعمال نہیں کیا جاتا۔ طلبہ خود اسکول چلاتے ہیں، قوانین بناتے ہیں، تعلیم کے ساتھ کھانا پکاتے ہیں، زراعت سیکھتے ہیں اور حقیقی مسائل پر تحقیق کرتے ہیں۔ یہاں سائنس کی کلاس شمسی ہیٹر ٹھیک کرنے سے شروع ہوتی ہے۔
بعد ازاں انہوں نے 1994 میں “Operation New Hope” شروع کیا جس سے لداخ کے پرائمری اسکولوں میں پاس فیصد 5 سے بڑھ کر 75 فیصد کے قریب پہنچ گیا۔ یوں یہ ماڈل بعد میں باقاعدہ طور پر سرکاری پالیسی بن گیا۔
اسی طرح انہیں محسوس ہوا کہ لداخ میں سردیوں میں پانی ضائع ہو جاتا ہے اور موسمِ بہار میں جب کسانوں کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو قدرتی گلیشیئرز ابھی تک نہیں پگھلتے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے آئس سٹوپا (Ice Stupa) پروجیکٹ ایجاد کیا۔ پہلا پروٹو ٹائپ 6 میٹر اونچا تھا اور تقریباً 1.5 لاکھ لیٹر پانی ذخیرہ کرتا تھا۔ بعد میں بڑے سٹوپے بنے جو کئی ملین لیٹر پانی دیتے ہیں۔ اب لداخ میں درجنوں آئس سٹوپے بن چکے ہیں اور یہ تکنیک نیپال، سوئٹزرلینڈ، منگولیا اور چلی تک پہنچ چکی ہے، لیکن بلتستان تک نہیں پہنچ سکی، حالانکہ یہ فارمولا بلتستان کے لیے بھی اس وقت اشد ضرورت ہے۔
اسی طرح انہوں نے 2016-17 کے اوائل میں اپنی اہلیہ کے ساتھ مل کر لداخ ہمالیئن الٹرنیٹو یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ اس کا بنیادی مقصد روایتی کلاس روم اور کتابوں کی بجائے حقیقی مسائل پر کام کرنا تھا۔ اس میں انہیں کامیابی ملی اور طلبہ یہاں ماحولیات، پائیدار تعمیرات، کاروبار، سیاحت اور پہاڑی علاقوں کے مسائل حل کرتے ہیں۔ کیمپس بھی غیر روایتی ہے—رمڈ ارتھ (مٹی کی دیواریں)، غیر فعال شمسی حرارتی نظام اور خود ساختہ عمارتیں جن میں سردیوں میں بھی اندر کا درجہ حرارت 18-20 ڈگری رہتا ہے۔ یہاں DIY لیبز ہیں جہاں طلبہ آئس سٹوپا، شمسی عمارتیں اور دیگر تجربات کرتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف اگر بلتستان کی واحد بلتستان یونیورسٹی کی بات کریں تو بلتستان کا یہ قومی ادارہ ان تمام صلاحیتوں سے کوسوں دور نظر آتا ہے۔
سونم وانگچک کی معاشرے کے لیے دیگر خدمات کا ذکر کریں تو مقامی فنِ تعمیر کی طرف لوگوں کو راغب کرنا اور مٹی، بھوسے اور روایتی تکنیک سے ایسی عمارتوں کی تعمیر جو بغیر ایندھن کے گرم رہیں، ان کے اہم پراجیکٹس ہیں۔ اسی طرح پانی اور ماحول کے دیگر تجربات جیسے سائفن تکنیک سے جھیلوں کا پانی نکالنا وغیرہ بھی ان کے کاموں کا حصہ ہیں۔ وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ تعلیم کا مقصد امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ اپنے علاقے کے مسائل حل کرنا ہے۔ لداخ کے اپنے مسائل کا حل بیرونی ماڈل تھوپے بغیر خود لداخی نوجوانوں کے ہاتھوں ہونا چاہیے۔
انہوں نے پہاڑی علاقے میں انٹرنیٹ جیسے مسائل کے حل کے لیے ماؤنٹین انٹرنیٹ تجربہ کرتے ہوئے لداخ میں LiFi (لائٹ فائیڈیلیٹی) ٹیکنالوجی متعارف کرائی۔ ان کا تعلیمی ادارہ SECMOL کیمپس پہاڑوں کے درمیان تھا جہاں عام موبائل سگنل نہیں پہنچتا تھا۔ انہوں نے پہاڑوں کو رکاوٹ کی بجائے ٹاور بنایا۔ ایک عام ٹیلی کام ٹاور سے سگنل لے کر پہاڑ کی چوٹی پر لیزر بیم کے ذریعے آگے بھیجا جاتا ہے، جو بغیر فائبر کیبل کے 3.5 سے 10 کلومیٹر تک تیز انٹرنیٹ (400-450 Mbps) فراہم کرتا ہے۔ سردی میں آلات خراب نہ ہوں اس کے لیے خاص گرم رکھنے والا کیسنگ بنایا گیا، جو اب بھی لداخ میں کامیابی کے ساتھ فعال ہے۔
وہ نہ صرف معاشرتی ترقی کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ لداخ کی سیاست میں بھی ان کا نام ایک معتبر شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ 5 اگست 2019 کو جب مودی حکومت نے جموں و کشمیر کے لیے ہندوستان کے آئین میں شامل خصوصی حیثیت پر مبنی آرٹیکل 370 کا خاتمہ کر کے خطۂ لداخ کو یونین ٹیریٹری کا درجہ دے کر براہِ راست دہلی سرکار کے ماتحت کیا تو لداخ والوں میں غیر مقامیوں کی آبادکاری، ماحولیاتی آلودگی اور سرکاری نوکریوں سمیت دیگر معاملات میں شدید خدشات پیدا ہوئے۔ اس معاملے پر ضلع کرگل اور لہہ نے مل کر بھرپور تحریک چلائی اور سرکار سے مطالبہ کیا کہ لداخ کو 6th Schedule کا درجہ دیا جائے تاکہ اس خطے کی جغرافیائی حیثیت میں کسی قسم کی ردوبدل کا امکان نہ رہے۔ اس مطالبے کو لے کر انہوں نے نہ صرف ہندوستان کے ایوانوں کا دروازہ کھٹکھٹایا بلکہ عام آدمی کو بھی لداخ کے مسائل پر متوجہ کرایا، جس کی وجہ سے مودی سرکار نے انہیں گرفتار کر کے ٹھیک 6 ماہ قید کر دیا۔ گزشتہ ماہ رہائی کے بعد انہوں نے ہندوستان میں نوزائیدہ نوجوانوں کی جماعت CJP کی حالیہ تحریک میں اپنی شرکت کو نہ صرف یقینی بنایا بلکہ 22 روزہ بھوک ہڑتال نے پوری دنیا کے میڈیا کو ان کی طرف متوجہ کر دیا اور ہندوستان کی طاقتور حکومت پر حاوی ہو گیا، جو کہ خطۂ لداخ کے لیے فخر کی بات ہے۔
اب اگر بلتستان ریجن کی بات کریں تو سکردو اپنی جغرافیائی وسعت کے سبب منی کراچی کا منظر پیش کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف پاکستان کے مختلف شہروں سے کاروبار اور محنت مزدوری کے لیے آنے والوں کا اس شہر پر پریشر ہے، وہیں بلتستان کے دیگر تینوں اضلاع اور گلگت کے تمام اضلاع سے کاروبار اور روزگار کے لیے سکردو میں قیام کرنے والوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے۔ لیکن اس شہر کے مسائل کے حل کے لیے حکومتی عدم توجہی اور سیاست دانوں کی ناکامی کے سبب آج سکردو میں ماحولیاتی آلودگی عروج پر ہے اور بجلی کی طویل لوڈ شیڈنگ کے ساتھ پانی کی شدید قلت اس شہر کا سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔
اس اہم قومی مسئلے کو محسوس کرتے ہوئے انجمن امامیہ بلتستان کے صدر محترم آغا سید باقر الحسینی نے سکردو میں پانی کی شدید قلت کے خاتمے کے لیے حکومت کا انتظار کرنے کے بجائے عوام کو متحرک کر کے اس مسئلے کا حل نکالنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کا ویژن یہ تھا کہ سکردو شہر سے لگ بھگ 11 کلومیٹر دور دیوسائی کے سنگلاخ پہاڑوں اور میدانوں کو چیر کر سکردو کے لیے واٹر چینل بنایا جائے۔ فیصلہ ہوا کہ فیالونگ دیوسائی کے مقام سے ندی کا رخ موڑ کر سکردو کی طرف کیا جائے۔ یہ پراجیکٹ گلگت بلتستان کا اولین کمیونٹی لیڈ منصوبہ ہے جو 14 ہزار فٹ اونچائی پر واقع دیوسائی فیالونگ نالے کا پانی سدپارہ ڈیم کی طرف موڑتا ہے۔ اس پراجیکٹ کا تخمینہ ڈیڑھ ارب کے قریب بتایا جاتا ہے جو خالص عوامی اشتراک سے بنایا جا رہا ہے۔ پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے حکومتِ گلگت بلتستان کی جانب سے 15 کروڑ کی شراکت کا اعلان ہوا تھا جس میں اب تک کی معلومات کے مطابق صرف 9 کروڑ جاری ہوا ہے۔ پراجیکٹ کی تکمیل کے لیے آغا باقر الحسینی کی قیادت میں مقامی انجینئرز اور رضاکاروں کی خدمات شامل ہیں۔ اس پراجیکٹ کا گزشتہ سال ٹیسٹ رن کر کے کامیابی سے پانی سدپارہ ڈیم تک پہنچایا جا رہا ہے جس سے سکردو کے تقریباً تین لاکھ لوگوں اور سات سو ایکڑ سے زیادہ زرعی زمینوں کو 120 کیوسک کے لگ بھگ پانی دستیاب ہوگا۔ اس سے زراعت، بجلی اور معیشت میں بہتری آئے گی۔
بلتستان ریجن میں آغا باقر الحسینی کو سیاسی طور پر بھی ایک قد آور شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ قومی مسائل کی نشاندہی اور حل کے لیے محراب و منبر کے ذریعے اربابِ اختیار تک دیدہ دلیری کے ساتھ پہنچاتے ہیں۔ اس کے باوجود آج بھی بلتستان ریجن کے بہت سارے مسائل درپیش ہیں جن میں بلتستان یونیورسٹی کو عالمی معیار کے مطابق لانے کے لیے جدوجہد، تعلیمی نظام کی بہتری اور پرائیویٹ اسکولوں کے نام پر کمرشل ایجوکیشن سسٹم شامل ہیں جو معاشرے میں نظامِ تعلیم کو برباد کرنے کے ساتھ طبقاتی فرق کو مسلسل پروان چڑھا رہا ہے۔ اس کی روک تھام اور معاشرے میں یکساں نظامِ تعلیم کے لیے ان کی قیادت میں کوشش ان شاء اللہ بلتستان کے معاشرے کو بلندیوں پر پہنچا سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں