طاقت کے ایوانوں میں ظالموں کی برطرفی ان کے ظلم کی سزا نہیں ہوتی۔ ظلم تو اکثر ان کے منصب کی پہلی شرط ہوتا ہے۔ اقتدار کے بازار میں سوال یہ نہیں ہوتا کہ کس نے کتنے گھر اجاڑے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ کس کے ہاتھوں اجڑے ہوئے گھروں کی راکھ سے سلطنت کی دیواریں اب بھی مضبوط کھڑی ہیں یا نہیں۔ جب ظلم اپنی افادیت کھو بیٹھے، جب جبر کی تلوار رعایا کے سینے میں خوف کے بجائے نفرت جگانے لگے، تب تخت کے محافظ اپنے ہی شہسوار کو بے زین کر دیتے ہیں۔
یہی وہ ساعت ہے جس میں مغربی ضمیر اچانک بیدار ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ سلطنتیں کبھی آئین کی عاشق نہیں ہوتیں، وہ صرف مفاد کی پجاری ہوتی ہیں۔ ان کے ترازو میں وفاداری نہیں، کارکردگی تولی جاتی ہے۔ جب کوئی مہرہ مطلوبہ نتائج دینا چھوڑ دے تو تعریفوں کے گلدستے پل بھر میں تنقید کے کانٹوں میں بدل جاتے ہیں۔
دو برس سے زائد عرصے تک عاصم منیر کو اس یقین کے ساتھ پیش کیا گیا کہ وہ عوام کی رائے کے بغیر بھی پاکستان کو “چلا” سکتے ہیں۔ گویا ووٹ محض ایک غیر ضروری تعطل ہے، پارلیمان ایک فضول رسم، اور عوامی تائید اقتدار کے راستے کی رکاوٹ۔ ایک ایسا سپہ سالار جس کے بارے میں یہ تصور قائم کیا گیا کہ وہ مقبول سیاسی قیادت کو زندان میں رکھ سکتا ہے، جماعتوں کو منتشر کر سکتا ہے، عدالتوں کی سمت متعین کر سکتا ہے، صحافت کی آواز دبا سکتا ہے، اور پھر اسی عمل کو استحکام کا نام دے کر دنیا سے داد وصول کر سکتا ہے۔
مگر استحکام کی اس لغت میں امن کا مطلب انصاف نہیں، بلکہ خاموشی ہے؛ قانون کا مفہوم مساوات نہیں، بلکہ طاقت ہے؛ اور ریاست کا مقصد عوام کی خدمت نہیں، بلکہ اقتدار کی حفاظت ہے۔ سلطنتوں کے نزدیک وہی ملک مستحکم ہے جہاں خوف دستور بن جائے اور اختلاف جرم قرار پائے۔
جب اندر سے جواز ختم ہونے لگے تو نگاہیں باہر اٹھتی ہیں۔ تب خارجہ پالیسی قومی مفاد کا منشور نہیں رہتی بلکہ اقتدار کی عمر بڑھانے کا اشتہار بن جاتی ہے۔ کبھی جغرافیہ فروخت ہوتا ہے، کبھی انٹیلی جنس، کبھی ثالثی، کبھی فوجی تعاون، اور کبھی اسٹریٹجک فرمانبرداری۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ریاست اپنے وسائل نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کی قسطیں نیلام کر رہی ہو۔
واشنگٹن کو کسی پل کی ضرورت ہو تو پاکستان حاضر، ریاض کو یقین دہانی چاہیے تو پاکستان حاضر، خلیج کو مزید عسکری تعاون درکار ہو تو پاکستان حاضر۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جو ریاست اپنے شہری کو روٹی، بجلی، انصاف، تعلیم اور علاج نہ دے سکے، وہ دنیا بھر کی سلامتی کی ضمانتیں آخر کس اخلاقی اختیار سے بانٹتی پھر رہی ہے؟ یہ قومی حکمتِ عملی نہیں، اقتدار کے گرد حفاظتی حصار کھڑا کرنے کی ایک بے تاب کوشش ہے۔
ہر غیر ملکی مصافحہ عوامی مینڈیٹ کا نعم البدل بنا دیا جاتا ہے۔ ہر دفاعی معاہدہ گویا عوامی اعتماد کا متبادل قرار پاتا ہے۔ ہر مشترکہ تصویر کو یوں پیش کیا جاتا ہے جیسے کسی غیر ملکی دارالحکومت نے پاکستان کے عوام کی جگہ فیصلہ صادر کر دیا ہو کہ اب یہی اقتدار کا جائز وارث ہے۔
لیکن تاریخ کی عدالت میں درآمد شدہ جواز زیادہ دیر نہیں چلتا۔ قوموں کی قسمت تصویروں سے نہیں، عوام کی رضامندی سے لکھی جاتی ہے۔ پاکستان کا سیاسی ڈھانچہ جبر، آئینی تحریف، منتخب احتساب اور ادارہ جاتی عدم توازن کے بوجھ تلے مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔ اختلافِ رائے کو جرم، خاموشی کو وفاداری اور طاقت کو قانون بنا دیا جائے تو ریاست بظاہر مضبوط ضرور دکھائی دیتی ہے، مگر اس کی بنیادیں اندر ہی اندر کھوکھلی ہونے لگتی ہیں۔
تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے: تلواریں سلطنتیں قائم کر سکتی ہیں، مگر انہیں ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں رکھ سکتیں۔ دوام صرف اسی اقتدار کو نصیب ہوتا ہے جو عوام کے دلوں سے نکلے، نہ کہ خوف کے سایوں سے۔


