Peniaphobia (پینیابھوبیا) دراصل غربت یا مالی بربادی کے اس مستقل اور جان لیوا خوف کا نام ہے جو انسان کی روح تک کو جکڑ لیتا ہے۔ عام مالی دباؤ تو حالات کے ساتھ بدلتا رہتا ہے، لیکن یہ ایک ایسا خاموش روگ ہے جو انسان کی جیب میں پیسے ہونے اور بینک اکاؤنٹ محفوظ ہونے کے باوجود اس کے دل میں مفلسی کا ایسا ڈراؤنا سایہ ڈال دیتا ہے کہ وہ راتوں کی نیند گنوا بیٹھتا ہے۔ نفسیاتی اور معاشی ماہرین کے مطالعے کے مطابق، اس کیفیت کو باقاعدہ طور پر Peniaphobia (پینیابھوبیا) کا نام دیا گیا ہے، جس کی بازگشت ہمیں جدید نفسیاتی اور سماجی تحقیقات میں صاف دکھائی دیتی ہے۔
یہ سمجھنا ایک بڑی فکری غلطی ہوگی کہ اس مالیاتی خوف کا شکار صرف آج کی نووارد جنریشن زی (Gen-Z) ہے؛ بلکہ سائنسی اور اقتصادی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ملیینیلز (Millennials – یعنی وہ لوگ جو 1981 سے 1996 کے درمیان پیدا ہوئی ۔اور وہ نوجوان جو 1990 کی دہائی کے آخر اور دو ہزار کی دہائی کے شروع میں پیدا ہوئے (جو اس وقت 27 سے 30 یا اس سے زائد سال کے ہیں)، اس فوبیا اور شدید معاشی اضطراب کی سب سے بڑی زد میں ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور نفسیات کی حالیہ تحقیقات (جیسے امریکن سائیکولوجیکل ایسوسی ایشن کی رپورٹس) یہ ثابت کرتی ہیں کہ کیرئیر کے آغاز، گھر خریدنے کی عمر، اور فیملی کے نفقے کے مرحلے پر کھڑی یہ جنریشن، ہاؤسنگ بحران، مہنگائی اور ملازمتوں کے غیر یقینی توازن کی وجہ سے سب سے زیادہ دائمی مالی خوف کا شکار ہے۔
جب یہ ساختیاتی اور معاشی عدم تحفظ معاشرے کی رگوں میں اترتا ہے تو اس کے زمینی حقائق انتہائی ہولناک شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ آج آسمان کو چھوتی مہنگائی، رہائش کے بحران اور روزگار کے جمود نے اس نوجوان نسل کو دیوار سے لگا دیا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اس مالیاتی عدم تحفظ اور خوف کے تلے گھٹن کا شکار ہو کر اب ایک بڑا طبقہ فوری امیر ہونے کے ناپاک شارٹ کٹس (مختصر راستوں) کی تلاش میں لگ گیا ہے—یہاں تک کہ مالیاتی مجبوریوں کے تحت کچھ لوگ بڑی عمر کے امیر افراد کی طرف مائل ہو کر اپنے مستقبل اور عزت کے سودے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں، یا پھر کیمرا اٹھا کر ٹک ٹاکر بن کر اپنا بدن اور تماشا بیچنے پر اتر آئے ہیں تاکہ کسی طرح اس معاشی دلدل سے باہر نکل سکیں۔
مگر اس اندھی مادی دوڑ اور فکری خوف کا علاج دنیا کا کوئی زرعی یا صنعتی نظام نہیں بلکہ وہ ابدی اصول ہے جو خالقِ کائنات نے ہمیں عطا کیا ہے۔ مالیاتی انتظام اور اعتدال کے حوالے سے سورۃ بنی اسرائیل (آیت نمبر 29) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
(ترجمہ: اور نہ تو اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھ رکھو اور نہ ہی اسے بالکل کھول دو کہ تم ملامت زدہ اور عاجز ہو کر بیٹھ رہو۔)
اسلامی تعلیمات میں میانہ روی اور اعتدال ہی وہ بنیادی ستون ہیں جو انسان کو مالی توازن عطا کرتے ہیں۔ زندگی میں نہ تو اس قدر بخل اختیار کیا جائے کہ انسان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بنیادی ضروریات پر بھی خرچ نہ کرے، اور نہ ہی اتنی اسراف و فضول خرچی کی جائے کہ انسان قرضوں کے بوجھ تلے دب کر معاشرے میں رسوا ہو جائے۔ یہ متوازن طرزِ عمل انسان کو معاشی دباؤ کے منفی اثرات اور نفسیاتی زوال سے محفوظ رکھتا ہے۔
اس کے برعکس، جب دلوں میں مال کی کمی کا خوف گھر کر جاتا ہے تو انسان اخلاقی پستی کی طرف گرنے لگتا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے اور تمہیں فحشاء (بخل اور برائی) کا حکم دیتا ہے، اور اللہ تم سے اپنے یہاں سے بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔”سورۃ البقرۃ: 268″
جب انسان اس شیطانی وسوسے سے باہر نکل کر اسلام کے نظریہ توکل کو اپناتا ہے تو تمام تر معاشی اور نفسیاتی خوف کافور ہو جاتے ہیں؛ کیونکہ شیطان مایوسی کا پیکر ہے جبکہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا، وہ جانتا ہے کہ اس کا رزق کسی ڈیجیٹل مارکیٹ یا زمینی آقا کے ہاتھ میں نہیں بلکہ اس ذات کے قبضے میں ہے جو رزق کی تقسیم میں کبھی خطا نہیں کرتی۔ جیساکہ نبی کریمﷺ کا فرمانِ مبارک ہے:
ترجمہ: اگر ابنِ آدم اپنے رزق سے اس طرح بھاگے جس طرح وہ موت سے بھاگتا ہے، تب بھی اس کا رزق اسے اس طرح آ کر پکڑ لے گا جیسے موت اسے آ کر دبوچ لیتی ہے۔ “حوالہ: شعب الإيمان للبيهقي، حديث نمبر: 1042، اور مجمع الزوائد از الہیثمی”
اور وہ خالق اتنا رحیم ہے کہ وہ پتھر کی گہرائی میں موجود کیڑے کو بھی اس کا رزق تنہا نہیں چھوڑتا بلکہ وہاں تک پہنچاتا ہے۔


