خزاں کا موسم شروع ہو چکا تھا۔درختوں کے پتے سوکھ گئے
تھے۔ہلکی ہلکی سرد ہوائیں بدن کو چھو رہی تھیں۔ کانوں کو ہر روز زرد پتوں کے گرنے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جیسے وقت کی پرانی یادیں خاموشی سے رخصت ہو رہی ہیں۔
شاہد کو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ایک روز وہ اپنے ہاتھ میں کتاب تھامے ایک بڑے درخت کے نیچے آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے کتاب کھول کر مطالعہ شروع کیا تو درخت سے ایک بڑا زرد پتہ گرا۔اس پتے نے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔اس نے ایک نظر کتاب کو دیکھا اور دوسری نظر سے زرد پتے کو۔ دونوں کا رنگ ہی زرد تھا۔وہ گہری سوچ میں پڑ گیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ عمر رسیدگی کے ساتھ ساتھ اس کے چہرے کا رنگ بھی زرد تھا۔ وہ اپنی خوراک پر غور و خوض کرنے لگا کہ میں تواناہی حاصل کرنے کے لیے ہر روز ایک انڈا کھاتا ہوں۔اس کی زردی کا رنگ بھی زرد ہے۔
اس کی آنکھوں کے سامنے زرد سورج بھی سرخی میں تبدیل ہو گیا۔ شام آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی۔ وہ ڈھلتی شام کے ساتھ ساتھ زندگی کے دنوں پر غور کرنے لگا کہ زندگی میں کتنی شامیں طلوع و غروب ہوتی ہیں۔ وقت خیال کی طرح گزر جاتا ہے۔ انسان چھ یا سات دہائیوں میں اپنی قوت کھو دیتا ہے۔ اعصابی شکنیں اسے زندگی کی قدر و قیمت کی دعوت دیتی ہیں۔ وہ سوچنے لگتا ہے کہ زندگی بھی خزاں جیسی ہے۔ سدا وقت ایک جیسا نہیں رہتا۔ زندگی کا تصور بچپن جوانی اور بڑھاپے کی مثلث کے ساتھ وابستہ ہے۔پہلے دو دور ہنسی خوشی اور آوارگی میں گزر جاتے ہیں۔جیسے خزاں کے دنوں میں گرے ہوئے پتے ہوا کی نظر ہو جاتے ہیں۔ہوا انھیں جہاں چاہے اڑا کر لے جاتی ہے، انسان ان پتوں کو بھی پاؤں تلے روندتا ہے۔
وہ ان باتوں کو سوچ ہی رہا تھا کہ ایک چھوٹا لڑکا بھاگتا ہوا آیا۔ وہ پکار کر کہنے لگا بڑے ابو آپ پھر سے ان زرد پتوں کو دیکھ رہے ہیں۔ ان سے باتیں کر رہے ہیں۔ یہ تو بے جان ہیں۔ وہ مسکرا کر اپنے پوتے کے چہرے کو دیکھنے لگا۔ اس کے کانوں میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا بیٹا یہ زرد پتے بھی ہمیں کہانیاں سناتے ہیں۔ بچے نے حیرانی کے عالم میں پوچھا۔بڑے ابو زندگی کا فلسفہ کیا ہے؟ اس نے زندگی کے تصور کو بیان کرتے ہوئے کہا۔یہ موسموں کے ساتھ تغیر و تبدل کے ڈھانچے میں ڈھلتی ہے۔
اس میں گرمی، سردی، بہار اور خزاں جیسے رنگ پائے جاتے ہیں۔ یہ پل دو پل کی مہمان ہوتی ہے۔ کچھ لوگ بچپن میں بچھڑ جاتے ہیں۔ کچھ جوانی کو خیر بات کہہ دیتے ہیں۔کچھ بڑھاپے کی خزاں کو دیکھتے ہیں۔ زندگی بھی خوب صورت منظر کی طرح ہے۔کبھی یہ ہرے بھرے درخت کی مانند ہوتی ہے اور کبھی یہ زرد پتوں کی طرح۔ اس میں مسکراہٹ کی چاندی اور غم کی گھٹائیں پائی جاتی ہیں۔
ہم اپنی خواہشات کے مطابق زندگی کے رنگ نہیں بنا سکتے۔ کیوں کہ قانون قدرت بھی سات رنگوں میں پوشیدہ ہے۔
بچہ ان باتوں کو سن کر
خاموش ہو گیا۔ وہ بڑے ابو کے چہرے پر اداسی کے منظر دیکھنے لگا۔ اس میں شاید بڑی گہرائی و خاموشی سے کچھ سمجھ لیا تھا۔کیوں کہ چہرہ دل کے احوال کی تصویر دکھاتا ہے۔آنکھیں خوشی اور غم کی ترجمان ہیں۔ بڑے ابوکی آنکھوں سے انسو گرے۔وہ براہ راست کتاب کے زرد پتوں پر گرے۔ اس نے کتاب فورا بند کر دی۔پوتے سے کہا چلو میں تمھیں ایک دل چسپ کہانی سناتا ہوں۔ایک زرد پتے کی کہانی جو کبھی ہرا بھرا تھا۔ وہ درخت سے لپٹا رہتا تھا۔ وہ ہوا کے ساتھ گنگناتا تھا۔ اس کا یہ احساس زندگی کے تصور سے وابستہ ہے۔ لیکن جونہی وہ ہوا کے جھونکوں سے ٹوٹ گیا۔وہ زمین پر گر گیا۔اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔وہ زمین پر گرتے ہی آزاد ہو گیا۔اس کی آزادی میں تنہائی اور خاموشی تھی۔بچے نے پوچھا بڑے ابو پھر کیا ہوا۔بیٹا پھر وہ مٹی بن گیا۔اس نے وہ گرا ہوا زرد پتہ اٹھایا۔پوتے کے ہاتھ میں رکھ دیا۔اسے تنبیہ کی کہ اگر تمھیں بھی کبھی زندگی میں میری طرح زرد پتے کی کہانی سنانا پڑے تو تمہیں کوئی مشکل پیش نہ آئے کیوں کہ زندگی دکھ سکھ کا بندھن ہے۔


