نفسِ عمارہ سے نفسِ مطمئنہ تک کا سفر/ محمد ذیشان بٹ

انسان کی سب سے بڑی جنگ کسی دشمن، کسی لشکر یا کسی طاقتور قوت سے نہیں بلکہ اپنے ہی نفس سے ہوتی ہے۔ یہی وہ جنگ ہے جس میں کامیابی دنیا کی عزت، آخرت کی نجات اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بنتی ہے۔ قرآنِ کریم نے نفس کے مختلف مراحل بیان کیے ہیں۔ ابتدا نفسِ عمارہ سے ہوتی ہے، پھر نفسِ لوامہ کی منزل آتی ہے اور آخرکار خوش نصیب بندہ نفسِ مطمئنہ کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ سفر ایک دن میں طے نہیں ہوتا بلکہ عمر بھر کے مجاہدے، استغفار، توبہ، صبر اور اللہ والوں کی صحبت کا ثمر ہوتا ہے۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا
“بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دیتا ہے، مگر وہ جس پر میرا رب رحم فرمائے
یہی نفس انسان کو گناہ کی طرف مائل کرتا ہے۔ ابتدا میں جب انسان نفسِ عمارہ کا غلام بن جاتا ہے تو اسے گناہ، گناہ محسوس ہی نہیں ہوتا۔ اگر کبھی ضمیر ہلکی سی آواز بھی دے تو وہ اسے نظر انداز کر دیتا ہے۔ رفتہ رفتہ برائی اس کی عادت بن جاتی ہے اور دل کی سختی اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ نصیحت بھی بے اثر محسوس ہونے لگتی ہے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کا کرم جب کسی بندے پر ہوتا ہے تو اس کی زندگی میں ہدایت کا دروازہ کھلتا ہے۔ کبھی کسی نیک انسان کی صحبت، کبھی کسی عالم کی نصیحت، کبھی قرآن کی ایک آیت اور کبھی کسی آزمائش کے ذریعے دل جاگ اٹھتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان پہلی مرتبہ اپنے گناہوں کو گناہ سمجھنا شروع کرتا ہے۔
یہی کیفیت نفسِ لوامہ کی ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ قیامہ میں فرمایا:
نفسِ لوامہ وہ ہے جو انسان کو اس کی غلطیوں پر ملامت کرتا ہے۔
اب وہی شخص جو کل تک گناہ پر فخر کرتا تھا، آج تنہائی میں بیٹھ کر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکلتے ہیں، زبان پر استغفار جاری ہوتا ہے اور دل سے یہ آواز بلند ہوتی ہے: “یا اللہ! مجھ سے غلطی ہوگئی، مجھے معاف فرما دے۔”
رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم خود بھی کثرت سے استغفار فرمایا کرتے تھے، حالانکہ آپ معصوم تھے۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایک ہی مجلس میں رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کو ستر سے زیادہ مرتبہ استغفار کرتے سنتے تھے۔ یہ امت کے لیے عملی سبق تھا کہ بندہ جتنا اپنے رب کے سامنے جھکے گا، اتنا ہی بلند ہوگا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیاں بھی اسی حقیقت کی روشن مثال ہیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے مسلمانوں کے سخت مخالف تھے، مگر جب قرآن کی آیات ان کے دل میں اتریں تو وہی عمرؓ اسلام کے عظیم ترین محافظ بن گئے۔ یہ نفسِ عمارہ سے نفسِ مطمئنہ کی طرف سفر ہی تو تھا۔
حضرت کعب بن مالکؓ کا واقعہ ہمارے استاد محترم حضرت مولانا ابو حفص طاہر کلیم صاحب اکثر ایمان افروز اپنے دروس میں سناتے ہیں کہ غزوۂ تبوک میں بلا عذر شریک نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے جھوٹ کا سہارا نہیں لیا بلکہ اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ پچاس دن تک سخت آزمائش برداشت کی، مگر سچائی کا دامن نہ چھوڑا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور قرآن میں ان کی معافی کا اعلان نازل فرمایا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سچی ندامت انسان کو اللہ کے قریب لے جاتی ہے۔
اسی طرح حضرت ابو لبابہؓ سے ایک لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے مسجد کے ستون سے خود کو باندھ لیا اور اس وقت تک نہ کھولا جب تک اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول نہ فرما لی۔ یہ احساسِ ندامت ہی تھا جس نے انہیں اللہ کا محبوب بندہ بنا دیا۔
نفسِ لوامہ انسان کو مجاہدے کی طرف لے جاتا ہے۔ اب دل میں خواہش تو پیدا ہوتی ہے، لیکن ایمان اسے روک لیتا ہے۔ گناہ کی دعوت بھی ہوتی ہے، مگر بندہ اپنے آپ سے کہتا ہے: “میں اپنے رب کو ناراض نہیں کرسکتا۔” یہی اصل جہاد ہے۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا
حقیقی مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے نفس سے جہاد کرے۔
یہ مجاہدہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ کبھی انسان کامیاب ہوتا ہے اور کبھی نفس دوبارہ حملہ آور ہو جاتا ہے۔ لیکن مومن کی پہچان یہ ہے کہ اگر وہ پھسل بھی جائے تو گناہ پر اصرار نہیں کرتا بلکہ فوراً اپنے رب کے حضور جھک جاتا ہے۔ قرآن کریم ایسے لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے فرماتا ہے:
“اور وہ لوگ کہ جب ان سے کوئی بے حیائی کا کام ہو جائے یا وہ اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور جان بوجھ کر اپنے گناہوں پر اصرار نہیں کرتے۔
استغفار صرف زبان کے چند الفاظ نہیں بلکہ دل کی کیفیت کا نام ہے۔ یہ انسان کے اندر سے غرور نکالتا ہے، دل کو نرم کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ جس دل میں ندامت پیدا ہو جائے، وہ کبھی ویران نہیں رہتا۔
پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب مسلسل مجاہدہ، عبادت، ذکر، توبہ اور اللہ والوں کی صحبت انسان کے مزاج کو بدل دیتی ہے۔ گناہ کی خواہش کمزور پڑ جاتی ہے اور نیکی میں سکون ملنے لگتا ہے۔ اب عبادت بوجھ نہیں رہتی بلکہ راحت بن جاتی ہے، استغفار عادت بن جاتا ہے اور اللہ کی رضا زندگی کا مقصد بن جاتی ہے۔ یہی نفسِ مطمئنہ ہے
اللہ تعالیٰ ایسے خوش نصیب بندے کو موت کے وقت خوشخبری دیتے ہوئے فرماتا ہے:
“اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف لوٹ چل، اس حال میں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے، پس میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا
یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی تمام جدوجہد کامیابی میں بدل جاتی ہے۔
آج ہمیں اپنے دل سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ہم کس مرحلے میں کھڑے ہیں؟ کیا گناہ ہمیں بے چین کرتے ہیں یا ہم انہیں معمولی سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟ اگر دل میں ندامت پیدا ہوتی ہے، آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں اور زبان پر استغفار آتا ہے تو یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نفسِ عمارہ سے نفسِ مطمئنہ تک لے جاتا ہے۔
یاد رکھیے، نفس پر قابو پانے کا کوئی مختصر راستہ نہیں۔ اس کے لیے مسلسل محنت، صبر، دعا، قرآن سے تعلق، سنت کی پیروی، صالحین کی صحبت اور ہر لغزش کے بعد سچی توبہ ضروری ہے۔ جو شخص ہر گرنے کے بعد دوبارہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے، وہی آخرکار منزل تک پہنچتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نفسِ عمارہ کے شر سے محفوظ رکھے، نفسِ لوامہ کی بیداری عطا فرمائے اور اپنی رحمت سے نفسِ مطمئنہ والوں میں شامل فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ لکھیں