سوچ سے تخلیق تک -چیٹ میرا ہمسفر(4)- مبشرہ علوی

کیا ہماری تعلیم جواب یاد کرتی ہے یا سوال پیدا کرتی ہے؟

پچھلی قسط کے اختتام پر ہم نے ایک سوال چھوڑا تھا۔

اگر آنے والے دور کی اصل طاقت درست سوال پوچھنا ہے، تو پھر ہماری موجودہ تعلیم ہمیں جواب یاد کرنا کیوں سکھاتی ہے، سوال پیدا کرنا کیوں نہیں؟

یہ سوال صرف مصنوعی ذہانت کا نہیں۔

یہ اسکول، کالج، یونیورسٹی، دفتر، اخبار، عدالت، لیبارٹری اور حتیٰ کہ گھر کا بھی سوال ہے۔

ہم نے تعلیم کو آخر سمجھا کیا ہے؟

ایک بچے کا تصور کیجیے۔

وہ تین برس کا ہے۔

وہ ہر چیز کے بارے میں پوچھتا ہے۔

یہ کیا ہے؟

کیوں ہے؟

کیسے ہے؟

اگر ایسا نہ ہو تو کیا ہوگا؟

ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ بچہ فطری طور پر ایک محقق ہوتا ہے۔

اس کی پہلی زبان سوال ہوتی ہے۔

پھر وہ اسکول جاتا ہے۔

پہلے دن اسے کہا جاتا ہے:

“زیادہ سوال نہ پوچھو، پہلے سنو۔”

کچھ برس بعد کہا جاتا ہے:

“جو کتاب میں لکھا ہے، وہی امتحان میں آئے گا۔”

پھر:

“جواب الفاظ بدل کر نہیں لکھنا۔”

آہستہ آہستہ ایک عجیب تبدیلی آتی ہے۔

جس بچے کی پہچان سوال تھے، وہ جواب یاد کرنے لگتا ہے۔

یہ مسئلہ صرف ہمارے معاشرے کا نہیں۔

برازیل کے ماہرِ تعلیم پاؤلو فریرے نے اپنی مشہور کتاب Pedagogy of the Oppressed میں اسے Banking Model of Education کہا۔

ان کے مطابق بہت سے تعلیمی نظام طالب علم کو ایک خالی اکاؤنٹ سمجھتے ہیں، جس میں استاد معلومات جمع کراتا رہتا ہے۔

طالب علم کا کام صرف محفوظ رکھنا اور امتحان میں واپس نکال دینا ہوتا ہے۔

لیکن علم اس طرح پیدا نہیں ہوتا۔

علم سوال، تجربے، مکالمے اور تنقیدی فکر سے جنم لیتا ہے۔

یہی بات امریکی فلسفی جان ڈیوی نے بھی کہی۔

انہوں نے لکھا کہ تعلیم زندگی کی تیاری نہیں، بلکہ خود زندگی ہے۔

اگر کلاس روم میں سوال پوچھنے کی آزادی نہیں، تو وہاں معلومات تو ہو سکتی ہیں، مگر فہم پیدا نہیں ہوتی۔

اب ذرا اپنے زمانے کی طرف واپس آئیں۔

مصنوعی ذہانت چند سیکنڈ میں وہ معلومات دے سکتی ہے، جنہیں تلاش کرنے میں پہلے کئی دن لگ جاتے تھے۔

تو پھر تعلیم کا مقصد کیا رہ گیا؟

اگر امتحان صرف معلومات یاد رکھنے کا نام ہے، تو مشین پہلے ہی انسان سے آگے نکل چکی ہے۔

لیکن اگر تعلیم کا مقصد سوچنا، سوال پیدا کرنا، دلیل قائم کرنا اور اخلاقی فیصلہ کرنا ہے، تو انسان کا کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔

میں: تو کیا مصنوعی ذہانت استاد کی جگہ لے لے گی؟

چیٹ: شاید نہیں۔

کیونکہ استاد صرف معلومات نہیں دیتا۔

وہ طالب علم کے اندر سوال پیدا کرتا ہے۔

اور سوال کسی کتاب یا مشین میں نہیں ڈالے جا سکتے، وہ ایک زندہ ذہن سے دوسرے زندہ ذہن تک منتقل ہوتے ہیں۔

ہم نے برسوں تعلیم کو معلومات کے پیمانے سے ناپا۔

کسے زیادہ یاد ہے؟

کس کے نمبر زیادہ ہیں؟

کس نے زیادہ کتابیں پڑھی ہیں؟

لیکن شاید مستقبل ایک اور سوال پوچھے گا۔

کس نے زیادہ گہرائی سے سوچا؟

کس نے بہتر سوال دریافت کیا؟

کس نے اپنی غلطی تسلیم کر کے اپنی رائے بدلی؟

یہی وہ مقام ہے جہاں مصنوعی ذہانت ایک امتحان بھی ہے اور ایک موقع بھی۔

اگر طالب علم صرف جواب نقل کرے گا تو اس کی علمی نشوونما رک جائے گی۔

لیکن اگر وہ AI سے بحث کرے گا، اس کے دلائل پر اعتراض کرے گا، اس سے بہتر سوال نکلوائے گا، تو یہی اوزار اس کی فکری تربیت کا حصہ بن سکتا ہے۔

مشین کا اصل فائدہ جواب لینا نہیں۔

اپنی سوچ کو آزمانا ہے۔

مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بہترین کلاس روم وہ ہوگا جہاں استاد یہ نہ پوچھے:

“سبق یاد کیا؟”

بلکہ یہ پوچھے:

“آج تم نے کون سا سوال دریافت کیا؟”

شاید اسی دن تعلیم دوبارہ زندہ ہو جائے۔

ہماری تہذیب میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔

امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں سوال کرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا۔

امام غزالی نے اپنی فکری زندگی کا آغاز ہی شک اور سوال سے کیا۔

ابنِ رشد نے ارسطو سے اتفاق بھی کیا اور اختلاف بھی۔

مسلم علمی روایت کا سنہری دور تقلید سے نہیں، مکالمے سے پیدا ہوا تھا۔

مصنوعی ذہانت نے ہمیں ایک غیر معمولی موقع دیا ہے۔

اب معلومات تک رسائی پہلے سے کہیں آسان ہے۔

اس لیے شاید پہلی بار انسان کو معلومات جمع کرنے سے زیادہ، معلومات منتخب کرنے کی ضرورت ہے۔

پڑھنے سے زیادہ سمجھنے کی۔

اور جواب دینے سے زیادہ سوال پیدا کرنے کی۔

ممکن ہے آنے والی نسلیں ہمیں دیکھ کر حیران ہوں۔

وہ کہیں:

“یہ وہ لوگ تھے جو تعلیم صرف اس لیے حاصل کرتے تھے تاکہ امتحان میں درست جواب لکھ سکیں۔”

جس طرح آج ہمیں وہ زمانہ عجیب لگتا ہے جب علم صرف چند لائبریریوں میں قید تھا، شاید کل ہماری رٹنے والی تعلیم بھی تاریخ کا ایک مرحلہ سمجھی جائے۔

لیکن ایک سوال اب بھی باقی ہے۔

اگر تعلیم بدلنے والی ہے…

اگر استاد کا کردار بدلنے والا ہے…

اگر مصنف کی تعریف بدل رہی ہے…

تو کیا ادب بھی اپنی پرانی شکل میں باقی رہے گا؟

یا وہ بھی ایک نئے دور میں داخل ہونے والا ہے؟

ہمسفر…

جب انسان اور مصنوعی ذہانت مل کر سوچنے، لکھنے اور تخلیق کرنے لگیں گے، تو کیا ہمیں ادب کی ایک نئی صنف تخلیق کرنا ہوگی؟

منتخب مراجع

Paulo Freire، Pedagogy of the Oppressed* (1970)
John Dewey، Democracy and Education* (1916)
Neil Postman، Teaching as a Conserving Activity*
Seymour Papert، Mindstorms*
امام غزالی، المنقذ من الضلال*
ابنِ رشد، فصل المقال*

اپنا تبصرہ لکھیں