لڑائی مار کٹائی کے اسباب، معاشرے پر اثرات اور اسلامی تقاضے/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر اہل نظر کسی مضمون، گفتگو یا معاملے میں جھول اور غلطیوں کے تناظر میں کسی پر تنقید و تنقیص کرتے ہوں اور انکا انداز مخلصانہ اور محض سدھار اور اصلاح کی نیت سے ہو تو اس کے اچھے نتائج مرتب ہوتے ہیں اور راست فہم رکھنے والے لوگ نا صرف ان کے اس کردار کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی اصلاح کرکے شکر گزار بھی ہوتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ کسی کی جانب سے بھی اپنے معاملے میں دخل در معقولات کو پسند نہیں کرتے۔ اس لئے تنقید کاروں اور اصلاح پسندوں کو احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے اور اس بات پر اصرار نہیں کرنا نہیں چاہئے کہ ان کی بات کو ہر صورت میں تسلیم کیا جاۓ۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت کے برعکس ہے کہ زور زبردستی کے ذریعے کسی پر اپنی راۓ ٹھونسی جاۓ۔ اس طرح تنازعہ پیدا ہوتا ہے۔
تنازعہ، لڑائی جھگڑے کو جنم دیتا ہے، اور جب جگھڑا ہو تو پہلے منہ سے تو تکار ہوتی ہے اور اس کے ںعد نوبت مار پیٹ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس کا انجام اچھا نہیں پوتا۔ جس طرح ہم میں سے کچھ لوگ اپنی زبانی کلامی لڑائی میں منہ چھوٹ ہوتے ہیں، اسی طرح جسمانی قوت آزمائی میں ہاتھ چھوڑ لوگوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑائی، تکرار، جھگڑے، جھڑپ، معرکہ ارائی، ایک دوسرے سے الجھنا، بات بات پر بر سر پیکار ہونا، دھینگا مشتی، زور آزمائی، مبارزت اور جنگ و جدل عام ہے۔ ہر کوئی دوسرے کو کھا جانے والی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور کچھ نہیں تو اس طرح گھورتا ہے جیسے کچا کھا کر چھوڑے گا۔ ابھی پنجابی یا اردو فلموں کی نمائش بہت کم ہو گئی ہے مگر کچھ دہائیوں پہلے کوئی فلم ایسی نہیں ہوتی تھی جس میں ہیرو اور ولیئن کے درمیان جنگ و جدل اور مصنوعی مکوں اور لاتوں کی بارش نہ ہو رہی ہو۔ اس چیز نے معاشرے پر بھی مضر اثرات چھوڑے تھے۔ مگر اب لڑائی جھگڑوں کے واقعات پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ ہماری سیاست میں بھی اسکی خاصی جھلک نظر اتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارا پورا معاشرہ رزم گاہ بن چکا ہے۔ چند روز پہلے سوشل میڈیا پر ایک افسوس ناک خبر سننے کو ملی کہ قطر سے آئے ہوئے ایک شخص کو اس کے باپ نے اس وجہ سے گولی مار کر قتل کر دیا کہ اس کے بیٹے نے گھر میں باپ کی مرضی کے خلاف اپنی پسندیدہ سیاسی جماعت کا جھنڈا کیوں لہرایا۔ جان کی امان پاؤں تو یہ عرض کروں کہ یہ کیسا معاشرہ ہے جس میں جانی دشمن کو مارنے کے لئے جان جوکھوں سے کام لیا جاتا ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ وہ کیا وجوہ ہیں جو ہمیں جھگڑنے اور مرنے مارنے پر مجبور کرتی ہیں۔ ہمارے خیال میں ماسوائے ان لوگوں کے جن کی فطرت میں مار پیٹ اور طاقت کے اظہار کا پیدائشی مادہ ہو، بہت سے ایسے عوامل ہیں جو لڑائی کو دعوت دیتے ہیں۔ مثلآ غصے اور طیش میں آنا، برداشت کا جواب دے جانا، کسی کا مقابلے کا چیلنج دینا، کسی کی بے عزتی کرنا، کسی کے ساتھ نفرت سے پیش آنا، تعصب برتنا، ضد پر اڑ جانا، کسی کا حق چھیننا یا سیاسی نظریاتی اختلاف ہونا۔ یہ تمام اسباب وہ ہیں جن کی شروعات گھروں سے ہوتی ہے۔ خاندانوں میں اپس کے جھگڑے بسا اوقات سنگین نوعیت کے جرائم و کرائم میں بھی ڈھل جاتے ہیں۔ اسی طرح گھروں میں کام کرنے والے بچوں بچیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ عمومآ گھروں میں کام کرنے والی خواتین کی اکثریت ایسی ہوتی ہے جن کے شوہر بیویوں کی کمائی کھاتے ہیں اور خود کوئی کام نہیں کرتے یا نشے کی لت کا شکار ہوتے ہیں۔ نشے کے لئے انہیں پیسے نہ ملیں تو وہ بیویوں کو مارتے اور ایذا پہنچاتے ہیں۔ میرے نزدیک اس جبر و تشدد اور نشے کی لت میں جہالت کا کردار ہوتا ہے۔ جاہلوں کی نسبت پڑھے لکھے لوگوں میں لڑائی سے گریز کی سوجھ ںوجھ ذیادہ ہوتی ہے وہ الگ بات ہے کہ وہ اس کا استعمال کریں یا نہیں۔
یہ لڑائی جھگڑے معاشرے میں انتشار، بے چینی، عدم تحفظ اور بےامنی کی وجہ بنتے ہیں۔ تنازعات کا فروغ آپس داری، محبت، اخوت، باہمی محبت، وفاداری، رشتوں کے تقدس، اتفاق و اتحاد، احترام، اور روا داری کے لئے سم قاتل ثابت ہوتا ہے۔ ہمیں اس زہر ہلاہل سے نجات کے لئے کیا اقدامات کرنا چاہئیں یہ کوئی ماوراۓ فہم بات نہیں۔ اس کے لئے سب سے پہلے برداشت اور صبر وتحمل کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس معاشرے سے برداشت اور صبر و تحمل رخصت ہو جائے وہاں لڑائی جھگڑوں اور مار پیٹ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ عفو و در گزر جو اسلامی صفات میں سے ہے، چپقلش اور عداوت کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ دوسروں کو معاف کرنے اور باتوں کو تحمل اور در گزرکے ساتھ برداشت کرنے سے مسائل بھی حل ہوتے ہیں اور مزاحمت کی بھی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے اور عزت و احترام دینے سے اختلاف راۓ میں شدت نہیں رہتی اور یہ بات باہمی اتفاق کو قائم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ لوگوں کے درمیان تنازعات کو ختم کرانے، صلح جوئی اور مفاہمت کے کام کرنے سے معاشرے سے افراتفری کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔
اسلام میں دوسروں کے درمیان تصفیہ کرانا اور جھگڑوں کو ختم کرانا انتہائی پسندیدہ فعل ہے۔ حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی دامت براکاتہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق ایک حدیث بیان فرماتے ہوۓ کہا ک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ساری زندگی میں کبھی امامت نماز کا ناغہ نہیں فرمایا ماسوائے ایک وقت کے، جب آپ کو دو فریقین کے درمیان صلح کی کوشش فرماتے ہوئے اتنی تاخیر ہو گئی کہ آپ نماز کی امامت کرانے مسجد تشریف نہ لاسکے۔ اپ صل اللہ علیہ وسلم نے صلح اور مفاہمت کرانے کے عمل کو شرعی نقطہ نظر سے اتنا افضل قرار دیا کہ جو شخص آپس کے تنازع میں حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے۔ یعنی وہ حق پر ہو اور اپنے حق پر ہوتے ہوۓ ضروری کاروائی کر سکتا ہو مگر وہ اس خیال سے کہ اس سےجھگڑا بڑھےگا، وہ دستبردار ہو جاۓ تو میں اس کا ذمہ دار ہوں کہ اسے روز قیامت اللہ سےجنت کے بیچوں بیچ اس کے لئے گھر دلوانے کی سفارش کروں ۔ لہٰذا یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اور کوئی ایسا عمل نہیں جس کے لئے آپ صلات و سلام نے ایسا کہا ہو۔ اس لئےسب لوگوں کو اس نیکی کے حصول کی خاطر کہ حضور صلواہ وسلام کہ طرف سےجنت کے بیچ گھر دلوانے کی سفارش نصیب ہو، ہم ہر طرح کے جھگڑے اور تنازعے کو چھوڑ دیں۔ اس سے معاشرے میں امن و سکون، محبت، انسیت اور چاہت کے چراغ روشن ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔

اپنا تبصرہ لکھیں