بڑھتی ہوئی عالمی موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلوں نے دنیا کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ ان تبدیلوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ سائنس دانوں نے اگاہ کردیا ہے کہ ان تبدیلوں کے باعث ہونے والی تباہی سے بچانے کیلئے حکومتوں کو فوری اقدامات لینے کی ضررورت ہے۔ اس تناظر میں گلگت بلتستان کو دیکھیں تو موثر نظام حکومت کے نہ ہونے اور گلیشرز کے سائے میں پہاڑوں کے دامن اور ندی نالوں کےکنارے آباد ہونے کی وجہ سے حساسیت اور خطرات میں اور ذیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ گلگت بلتستان میں تمام اضلاع میں حالیہ سیلاب کی بربادی اسی سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ندی نالوں کے اطراف اور ان کے بہاؤ کے راستوں میں غیر قانونی تعمیرات میں بے ہنگام اضافہ، لوگوں کی جانب سے وقتی فوائد کے لیے دکانیں، مکانات اور ہوٹلوں تعمیرات جو سیلابی پانی کی قدرتی گزرگاہوں کی راہ میں سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی روک تھام کیلئے حکومتی سطح پر کوئی منظم پالیسی اور قانون سازی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تعمیرات نہ صرف پانی کے بہاؤ کو روکتی ہیں بلکہ خطرے کی شدت کو بھی بڑھاتی ہیں۔ اگر ندی نالوں کے اطراف اور قدیم آبی گزرگاہوں پر تعمیرات پر پابندی نہ لگائی گئی تو مستقبل میں یہ صورتحال بڑے انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے۔اس وقت عطا آباد جھیل پر بنی لگژری ہوٹلز سے لیکر ضلع شگر میں دریا کے کنارے بنائے گئے ہوٹلز اور شنگریلا سمیت وہ تمام ریسٹ ہاوسزز جو ندی اور دریا کنارے بنایا گیا ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں لیکن سیوریج براہ راست دریا اور ندی نالوں کی بربادی اور میٹھے پانی کو زہر آلود بننے کا سبب بن رہا ہے۔ یہ بھی ایک المیہ ہے کہ خطے میں اکثر لگژری ہوٹلوں اور ریسٹ ہاوسز کے سیوریج کو کھدائی کرکے زمین کے اندر چھوڑاجاتا ہے جو کچھ فاصلے پر چشمے کی شکل میںباہر آکر صاف پانی میں شامل ہوجاتا ہے جس نے نہ صرف پینے کا پانی زہر آلود ہوتا ہے بلکہ مختلف قسم کی بیماریاں بھی پھوٹ پڑنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔لیکن بدقسمی سے پورےخطے میں سوریج کی اخراج کیلئے متبادل انتظام کرنے کیلئے کوئی پالیسی نہیں۔سیاحت یقینی طور پر خطے کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی حیثیت رکھتے ہیں لیکن زراعت سیاحت سے ذیاہ منافع بخش ہونے کے ساتھ ماحول دوست صنعت ہے جس بھی کوئی توجہ دینے والا نہیں۔
اس وقت صورتحال ایسا ہوگیا ہے کہ بغیر کسی جامع منصوبہ بندی کے لاکھوں سیاحوں کی آمد خطے کے لیے وبالِ جان بنتی جا رہی ہے۔ سیوریج نظام کی عدم موجودگی، فضلہ، کچرا، شور اور گاڑیوں کا دھواں جھیلوں اور ندی نالوں کے قریب کچر ا پھیلانے سے نہ صرف پانی کو آلودہ کرتا ہے بلکہ مقامی حیات کو بھی شدید خطرناک لاحق ہیں۔دیکھا جائے تو سیاحت قدرتی ساخت کو بحال رکھ کر سہولیات فراہم کرنے کا نام ہے۔ لیکن گلگت بلتستان کو سیاحت کی آڑ میں کنکریٹ سٹی میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ہر دریا، ہر جھیل، ہر پہاڑ کی قیمت لگائی جا رہی ہے، جس نے نہ صرف مقامی آبادی کا استحصال ہو رہا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے خطے کو سیاحت کے نام پر کنکریٹ کا شہر بنانے کے بجائے مقامی فن تعمیر کی طرف لوگوں کو راغب کرکے قدیم طرز تعمیر پر مٹی، بھوسے اور روایتی تکنیک سے عمارتوں کی تعمیرات سے نہ صرف گلگت بلتستان کی قدیم طرز تعمیر کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔اسی طرح گلگت بلتستان کے زمینوں کی پر قابل کاشت زرعی فصلوں پر تحقیق کرکے زراعت کو فروغ دیا نہ صرف مقامی معیشت کو سیاحت سے ذیادہ فائدہ دے سکتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھا م کیلئے بھی کارفرما ثابت ہوسکتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کی روک تھام کیلئے جنگلات کی اہمیت پر بات کریں تو جنگلات فطری طور پر بارشوں کے پانی کو جذب کرنے اور زمینی کٹاؤ کو روکنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن گلگت بلتستان میں جنگلات کی
بے دریغ کٹائی حوالے سے ہم سوشل میڈیا پر مسلسل ویڈیوز دیکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ غیر قانونی عمل قانون نافذ کرنے والے اداروں اور محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہو رہا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سے بچانے کے لیے عوام اور سول سوسائٹی تحریک شروع کریں۔ اسلام آباد کے حکمرانوں، پاکستانی میڈیا، اور ماحولیاتی مسائل پر کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جائے۔ سیاحوں کو بھی باور کرانا ہوگا کہ وہ سیاحت کے دوران خطے کی قدرتی ساخت کو محفوظ رکھنے اور آلودگی کم کرنے کی ذمہ داری پوری کریں۔ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے شجرکاری کو فروغ دینا، غیر قانونی تعمیرات کو روکنا، اور سیاحت کے لیے پائیدار پالیسی وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسکولوں کے نصاب میں ماحولیاتی تحفظ کے موضوعات کو باقاعدہ شامل کیا جائے۔اس وقت صورتحال اس قدر گھمبیر ہوگیا ہے کہ ہم نے دیکھا کہ برف باری کے وقت میں بھی تبدیلی آئی ہے اور برف باری کے موسم میں بارش آنا شروع ہوگیا ہے جو کہ موسمیاتی تبدیلی کی طرف واضح اشارہ ہے۔
یقیناً پانی قدرت کا انمول تحفہ ہے اور گلگت بلتستان میں قطبین کے بعد میٹھے پانی کا دوسرا بڑا ذخیرہ گلیشیرز کی شکل میں موجود ہے۔ یہاں تقریباً تیرا ہزار سے زائد گلیشیرز ہیں جو دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کو پانی فراہم کرتے ہیں، جو پاکستان کی زراعت اور بجلی کی پیداوار کا اہم ذریعہ ہیں۔ برف باری گلیشیرز کی افزائش نسل کرتی ہے، یعنی برف کی تہہ گلیشیرز کو پگھلنے سے بچاتی ہے اور ان کی موٹائی میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرتی ہے کیونکہ برف کی تہہ فضائی آلودگی کو جذب کرتی ہے اور پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نظامِ زندگی کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن بدقسمتی سےایسا لگتا ہے کہ خطے کو کراچی جیسی شہری الودگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے جسے لوگ اسے ترقی سمجھ کر خاموش بیٹھے ہیں۔ نومبر اور دسمبر میں برف باری کے بجائے بارشیں واضح اشارہ ہے کہ گلیشئرز تیزی سے پگھل کر پھٹنےکے آثار نظر آرہا ہے،یعنیخطے میںگلیشئیرز لیک آؤٹ برسٹ فیلڈز(GLOFs) کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں نہ صرف مقامی آبادی کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ پورے خطے کی بقا کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔اگرچہ سیاحت گلگت بلتستان کی مقامی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، لیکن ایک اندازے کے مطابق ٹھوس کچرا (گرمیوں میں 55 ٹن یومیہ کے لگ بھگ)، پانی کی آلودگی، فضائی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی کا سبب بھی بنتی ہے اور سیاحوں کی گاڑیاں ٹریفک جام اور آلودگی کا باعث بنتی ہیں۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ماحول دوست سیاحت کی فروغ اور گلئیشرز کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے حکومت عملی اقدام اٹھائیں۔


