سوات کا قدرتی حسن ہر سال لاکھوں سیاحوں کو اپنی
جانب متوجہ کرتا ہے۔ مالم جبہ، کالام، مہوڈنڈ جھیل، بحرین، مدین، مرغزار اور سفید محل جیسے مقامات نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے بھی کشش رکھتے ہیں۔ سیاحت سوات کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ، دستکاری، مقامی بازاروں اور ہزاروں خاندانوں کا روزگار براہِ راست سیاحت سے وابستہ ہے۔
ہر سال لاکھوں سیاح سوات کا رخ کرتے ہیں اور قدرتی حسن کا لطف اٹھاتے ہیں، جس سے مقامی معیشت میں اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، مگر جب بھی دہشت گردی یا بدامنی کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، سب سے پہلا نقصان سیاحت اور مقامی روزگار کو پہنچتا ہے۔ امن کے بغیر نہ سیاحت فروغ پا سکتی ہے، نہ خوشحالی آ سکتی ہے
گزشتہ دو دہائیوں سے خیبر پختونخوا، خصوصاً ضلع سوات، متعدد افسوسناک واقعات کی گواہ رہی ہے۔ پہلا بم دھماکا 12 جولائی 2007ء کو تحصیل کبل میں ہوا۔ اس وقت میں کلاس ششم کی طالبہ تھی۔ اسکول بند کر دیے گئے اور علاقے میں خوف پھیل گیا۔ ایک ایسا علاقہ جو کبھی امن، تعلیم اور سیاحت کی پہچان تھا، وہاں بار بار دھماکے ہونے لگے، جس نے نہ صرف معصوم جانیں لیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر دیا۔ سن 2022ء میں تحصیل کبل میں ایک بم دھماکے میں مقامی امن کمیٹی کے رکن، پولیس اہلکاروں اور شہریوں سمیت متعدد افراد شہید ہو گئے۔ اس کے بعد 2023ء میں تحصیل کبل میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (CTD) کی عمارت میں ہونے والے ہولناک دھماکے نے کئی پولیس اہلکاروں سمیت متعدد عام شہریوں کی جانیں لے لیں۔ یہ صرف دو یا تین واقعات نہیں، بلکہ اس طرح کے کئی بم دھماکے اور خودکش حملے ہوئے، جنہوں نے سینکڑوں گھر اجاڑ دیے۔ شاید یہ کہنا آسان ہے کہ فلاں شہید ہو گیا، لیکن ہر شہید کے پیچھے جو خاندان بچتا ہے، وہ زندہ لاشیں بن جاتے ہیں
مجھے معلوم ہے کہ اسلام میں شہادت کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ شہید زندہ ہے، اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے اور شہداء کے لیے عظیم بشارتیں بیان کی گئی ہیں۔ شاید یہی ایمان ہمیں صبر دیتا ہے، مگر اس کے باوجود کوئی ماں اپنے بیٹے، کوئی بہن اپنے بھائی، کوئی بیوی اپنے شوہر اور کوئی بچہ اپنے والد سے محروم نہیں ہونا چاہتا۔ ہر شہید اپنے پیچھے صرف ایک جنازہ نہیں چھوڑتا بلکہ ایک ایسی خلا چھوڑ جاتا ہے جو برسوں تک نہیں بھرتی۔ ایک ماں کی دعائیں، ایک باپ کا سہارا، بہنوں کی محبت، بچوں کے خواب اور پورے خاندان کی خوشیاں ایک ہی لمحے میں اجڑ جاتی ہیں۔
ضلع سوات میں ہونے والے خودکش حملے میں ایک بار پھر بے شمار خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیے گئے۔ اس حملے میں پولیس اہلکار، عام شہری، بچے، بوڑھے اور جوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ مجھے ذاتی طور پر ڈاکٹر معاذ کی شہادت نے بہت افسردہ کیا۔ وہ چار بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا جو اس مقصد کے لیے پاکستان آیا تھا تاکہ اپنی بہن کی شادی میں شرکت کر سکے، لیکن وہ خودکش حملے کی نذر ہو گیا۔ ان کی شہادت نے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ دہشت گردی کسی ایک فرد کو نہیں مارتی بلکہ پورے خاندان کی خوشیاں اور امیدیں چھین لیتی ہے۔
سوات کے لوگ گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے اندھیروں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہم نے اپنے پیاروں کو کھویا، اپنے گھر چھوڑے، اپنے خواب ٹوٹتے دیکھے، اس کے باوجود ہم نفرت کی بجائے امن کا راستہ اپناتے ہیں اور امن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شہادت یقیناً بلند مرتبہ ہے، لیکن ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے لوگ مسلسل شہید ہوتے رہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ شہداء کی قربانی قبول فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور سوات و خیبر پختونخوا کو ایسا پائیدار امن نصیب کرے جہاں بندوقوں کی آوازوں کی جگہ بچوں اور جوانوں کی ہنسی سنائی دے، جہاں خوف کی جگہ امید ہو، اور جہاں آنے والے سیاح یہی کہیں کہ سوات امن اور خوبصورتی کی سرزمین ہے…


