کشف کا اعلیٰ ترین درجہ کشفِ معانی ہے— اور اِن معنوں میں “کشف المحجوب” کشف دَر کشف ہے۔ تصوف پر لکھی گئی یہ تصنیفِ لطیف گزشتہ ایک ہزار برس سے طالبینِ حق کے دلوں پر راج کر رہی ہے۔ سیّد علی بن عثمان ہجویریؒ کے یہ رشحاتِ قلم راہروانِِ حق کے لیے ایک ایسا فکری اور عملی نصاب مرتب کرتے ہیں جس کی بنیادیں بہت مضبوط ہیں۔ متلاشیانِ حق اپنے سفر کے جس بھی موڑ پر راستہ کھونے لگتے ہیں، اس کتاب کا کوئی ایک جملہ قطبی ستارے کی طرح یوں راہنمائی کرتا ہے کہ وہ واپس اُسی صراطِ مستقیم پر آجاتے ہیں جو انعام یافتگان کی پہچان ہے۔
اِس کتاب کا اسلوب انتہائی دل نشیں ہے۔ بحمدللہ! بحکمِ مرشد میں اِس کتاب کو گزشتہ چالیس برس سے پڑھ رہا ہوں۔ جنوری کی انیس تاریخ تھی اور سن انیس سَو پچاسی کا، وقت صبح دس اور گیارہ کے درمیان— مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ سے پہلی ملاقات کا شرف حاصل ہوا، اِس ملاقات میں جہاں آپؒ نے ”کرن کرن سورج “ تحفے میں دی ، وہاں ”کشف المحجوب“ پڑھنے کا حکم بھی دیا۔ اِس کتاب نے ذہن میں بہت سے فکری جالے صاف کردیے۔ وہ ژاں پال سارتر کے قبیل سے تعلق رکھنے والے تما م فکری طفیلیے (پیراسائیٹ) جو خانہ ِ شعور میں ایمان کے سرسبز شجرِ طیبّہ کی جڑوں کو کمزور کر رہے تھے ، اُن کا مؤثر سدِّ باب اِس کتاب کی شکل میں موجود تھا۔ آپؒ اپنی محافلِ گفتگو میں اکثر ”کشف المحجوب“ سے واقعات بیان کرتے اور پھر اِن سے خوب صورت روحانی اسباق اَخذ کرتے۔ آپؒ اکثر اِس بات کا اظہار کرتے کہ اِس کتاب کا آسان ترجمہ ہونا چاہیے۔ سوال و جواب پر مشتمل ” گفتگو” سیریز میں آپؒ کے الفاظ یوں قلم بند ہوئے”آج تک کسی نے ایسا نہیں کیا کہ کشف المحجوب کو آسان کر کےایسا لکھ دے تاکہ بچوں اور بوڑھوں سب کو سمجھ آسکےکہ داتا صاحبؒ کی کتاب میں کیا لکھا ہوا ہے۔ اس کتاب کو عام فہم بنانا چاہیے، مثلاً توحید کا بیان ہے تو یہ سب کو سمجھ آسکے کہ داتا صاحبؒ نے اس بارے میں یہ پوائنٹس لکھے ہیں “۔
سچی بات یہ ہے کہ اس وقت ہمیں یہ قطعاً علم نہیں تھا کہ روئے سخن ہماری طرف ہے۔ گزشتہ دنوں جب ترجمے کے بیل کچھ منڈے چڑھنے لگی تو ایک رفیقِ طریق نے اِس جملے کی طرف توجہ مبذول کروائی۔ بہر طور جوں جوں ترجمے کا کام آگے بڑھ رہا ، اس کی گہرائی اور گیرائی اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ جیسے جیسے زبانِ فارسی کے دَرک میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کا اسلوبِ بیان ہمیں ورطہِ حیرت میں ڈال رہا ہے۔
کہتے ہیں، اصنافِ سخن دو ہیں— ایک نظم اور دوسرا نثر— لیکن قرآن کے نزول کے بعد معلوم ہوا کہ اصنافِ سخن دو نہیں ، بلکہ تین ہیں۔ تیسری صنفِ سخن قرآن خود ہے۔ یہ نظم ہے ، نہ نثر، لیکن یہاں نثر ایسی ردھم میں ہے کہ نظم کی بحور میں ہے — قرآن کی ہر آیت جہاں سے بھی تلاوت کریں، وزن اور بحر میں ہے۔ بظاہر نثری پیرایہ ہے، لیکن لفظوں کی نشست و برخاست میں اِس قدر غنائیت ہے کہ نظم کا گمان ہوتا ہے۔ جب ہر آیت اور جزوِ آیت اپنے مخصوص صوتی آہنگ میں دنیا کی ہر نظم کو مات دے رہی ہے تو ایسے میں اہلِ سخن قرآن کو نثر میں شمار کرنے سے رہے۔ رب کا کلام، کلاموں کا رب ہے۔ کلامِ ربّی — دنیا بھر کے کلاموں کی ربوبیت کر رہا ہے۔ قرآن اپنے اندر غور کرنے والوں کو اپنے ساتھ ہم آہنگ کر دیتا ہے۔ قرآن میں غوطہ زن علمائے ربانیین کے کلام میں بھی کلامِ الٰہی کے اس مخصوص اسلوب کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے۔ ظاہر ہے، جب انہوں نے اپنے دامنِ مراد میں معانی کے لولؤ و مرجان اسی بحرِ بیکراں میں غواضی کرتے ہوئے سمیٹے ہیں تو اِن کی تحریروں میں قرآنی اسلوب کا پایا جانا کچھ بعید از فہم نہیں۔ یہ قرآنی اسلوب کشف المحجوب کے فارسی متن میں بدرجہِ اتم پایا جاتا ہے۔ اس کے اسلوب میں ایسا صوتی ردھم ہے کہ باذوق قاری اِس کی مدھر نثر میں کھو کھو جاتا ہے۔ روحانی مطالب کی ترسیل کے لیے شاید یہی اسلوب زیادہ مؤثر ٹھہرتاہے، کہ مجرد نثر اور مجرد نظم دونوں ہی دقیق معانی کا حمل اٹھانے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔ القصہ کشف المحجوب کا موضوع ایک طرف، اسلوب ہی ایسا منفرد اور یگانہ ہے کہ عقل اور وجدان دونوں کی ربوبیت کر رہا ہے۔ ایک ایک جملہ کئی کئی دنوں تک شعور پر مستی کا خمار طاری کیے رکھتا ہے۔
سیّدِ ہجویرؒ اپنی طریقت میں جنیدیؒ ہے۔ آپؒ اور آپؒ کے تمام مشائخ جنیدیہ سلسلہِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں سُکر قابلِ توجہ نہیں۔ یہاں غلبہِ شوق کے زیرِ اثر مدہوشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے اور صحو یعنی کامل ہوشمندی اور عقل و شعور کا قیام ضروری سمجھا جاتا ہے۔ متعددمقامات پر سیّدِ ہجویرؒ نے اِسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ صحو اور سُکر کے باب میں آپؒ نے اسے واضح طور بیان کر دیا ہے۔ آج کل ہم صحو و سکر کے باب کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ یہاں آپؒ نے دنیائے تصوف کی دو انتہائی اہم شخصیات کے درمیان ایک مکالمہ درج کیا ہے۔ یہ مکالمہ تصریحاً یہ بتا دیتا ہے کہ سُکر کے باب میں آپؒ کا نظریہ کیا ہے۔ آپؒ بیان فرماتے ہیں: —
” جب حسین بن منصورؒ اپنے غلبۂ خودی میں جناب عمرو بن عثمان ؒ سے بیزار ہو کر حضرت جنید بغدادی ؒ کے پاس پہنچے تو حضرت جنید بغدادیؒ نے اُنؒ سے پوچھا:” میرے پاس کس لیے آئے ہو؟“ جنابِ حسین بن منصورؒ نے کہا: ”آپؒ کی صحبت اختیار کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں“۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے کہا:” ہم دیوانوں کو اپنی صحبت میں نہیں لیتے، کیونکہ صحبت کے لیے ضروری ہے کہ صحتِ حال میسر ہو ( یعنی ہوش مندی کی حالت قائم ہو)، اسی حالت میں جب تم ہماری صحبت میں جگہ پاؤ گے تو اِسے بھی سہل تُستریؒ اور عمرو بن عثمانؒ کی صحبت کی طرح کر دو گے۔ اگر تم نے اپنی صفات کی فنا کے ساتھ میری صحبت اختیار نہ کی تو ا ِس صحبت کا بھی وہی حال ہوگا جو گذشتہ صحبتوں کا تم کر چکے ہو“۔ اس سے قبل آپؒ نے خوب عقلی استدلال سے یہ بیان کیا ہے کہ طالبِ حق کے لیے لازم ہے کہ وہ بطور طالب موجود ہو، جبکہ سُکر میں اُس کی حالتِ طلب قائم نہیں رہتی۔
یہ اقتباس پیش کرنے کی ضرورت اِس لیے پیش آئی کہ یہاں مترجم کو اپنی ایک کیفیت کا بیان مطلوب ہےجو ”کشف المحجوب“ کے مطالعہ کے دوران میں وارد ہوئی جاتی ہے۔ یہاں دست بستہ کچھ عرض کرنے کو دل چاہتا ہے، 983 ویں عرس پر — صاحبِ عرس کے حضور یہ فقیر اب کیسے عرض کرے کہ حضور آپؒ تو صحو کے داعی ہیں، لیکن آپؒ کی کتاب کے جملے اِس قدر کیف آگیں ہیں کہ پڑھنے والے پر کیفیتِ سُکر طاری کیے دیتے ہیں!!
( روزنامہ “نئی بات” میں ہفتہ وار کالم “عکسِ خیال” بروز بدھ 2026ء)


