کون سا نظام ناکام ہو چکا؟-کاشف رضا

محسن نقوی صاحب نے کہا ہے کہ مانیں نہ مانیں، نظام ناکام ہو چکا۔ ارے بھئی یہ ہائبرڈ نظام آپ ہی نے تو بنایا ہے اور آپ ہی اس کے سب سے بڑے بنیفشری ہیں۔ موجودہ اسمبلیوں نے جو آئینی ترامیم کیں وہ اسی نئے نظام کے تحفظ کے لیے کیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام ناکام ہو چکا تو ناکام آپ ہوئے ہیں۔ اگر یہ نظام ناکام ہو گیا ہے تو اسے تحفظ دینے والی آئینی ترامیم کو ریورس کریں۔
گدھے سے گر کر کمہار کو الزام دینے کے مصداق آپ نے بھی نئے نظام کا یہ فارمولا پیش کیا ہے کہ نئے انتظامی یونٹ بنائے جائیں۔ میرا تو خیال تھا کہ آزاد کشمیر کی مثال نئے صوبوں کا جواز گھڑنے والوں کے لیے عبرت ثابت ہوگی۔ وہاں سوا پانچ ہزار مربع میل رقبے کے لیے تین ڈویژن اور نو دس اضلاع ہیں۔ ایک چیف سیکرٹری ہے۔ 44 لاکھ آبادی میں سے سوا لاکھ آبادی سرکاری ملازم ہے۔ دس بارہ لاکھ آدمی بیرون ملک ہیں۔ پھر بھی وہ رو رہے ہیں کہ ہمیں کچھ نہیں ملا۔ تو پاکستان میں مزید صوبے بنانے سے ان کے عوام پر کون سا من و سلوی’ اترنے لگے گا۔
مجھے تو یہ اشرافیہ ہی کی سازش لگتی ہے کہ ان کے لیے چار چھ نئے سیکرٹریٹ کھل جائیں۔ درجنوں نئی وزارتیں بنیں اور ہزاروں لاکھوں کا نیا عملہ بھرتی کر کے عوام پر مسلط کر دیا جائے۔
دنیا گورنمنٹ کی تعداد کم کرنے پر جا رہی ہے اور ہم یا ہماری اشرافیہ اس کی تعداد بڑھانا چاہتی ہے۔ دنیا دفاتر اور سیکرٹریٹ کم کر رہی ہے، ہم انھیں بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ علاج نہیں، اس سے تو پاکستانی عوام تک جو تھوڑے بہت پیسے پہنچتے ہیں وہ بھی کم ہو جائیں گے۔
حل کیا ہے؟
موجودہ صوبے برقرار رہیں اور گلگت بلتستان کو نیا صوبہ بنایا جائے۔
پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں اور بلدیاتی الیکشن کو باقاعدہ بنانے کی ضمانت آئین میں دی جائے۔ صوبے این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے حصے کو ضلعے کی سطح تک منصفانہ تقسیم کے پابند ہوں۔
ہائبرڈ رجیم کی ضرورت مان بھی لی جائے تو یہ مستقل بندوبست نہیں۔ آئین کو اٹھارھویں ترمیم والی صورت پر بحال کیا جائے۔ آئین سے شخصی فائدے کی ترامیم بھی ختم کی جائیں۔ پرامن احتجاجوں پر کان دھرے جائیں۔ پرتشدد گروہوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔
فارم 47 کی نحوست ختم کی جائے جس سے خاص طور پر کراچی میں عوامی نمایندگی کا تاثر تباہ ہو گیا ہے۔
جو حل محسن نقوی نے بتایا ہے وہ تو ایسے ہے جیسے ٹائر کہیں اور سے پاٹا ہوا ہو اور پنکچر کہیں اور لگا دیا جائے۔ پنکچر لگا دیکھ کر آپ کی تشفی تو ہو جاتی ہے مگر ٹائر پاٹا ہی رہتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں