دیسی پن کے دائرے میں/ نادیہ زید

یار، میں دل سے شدید دیسی ہوں۔ اتنی دیسی کہ آج بھی ملک باٹل کو فیڈر اور کولڈ ڈرنک کو بوتل کہہ دیتی ہوں۔ دیسی کھانے بدرجہ اتم پسند ہیں، اور اگر کہیں عذرا جہاں یا نصیبو لال لگ جائیں تو مجھے آج بھی اتنا ہی مزہ آتا ہے جتنا بچپن میں گھر کے باہر والے سٹاپ پر نائی کی دکان میں بجتے ٹیپ ریکارڈر سے یہ گانے سن کر آتا تھا۔ ہاں، اگر پسندیدہ گلوکاروں کی فہرست بنانی ہو تو اس میں نصرت فتح علی خان، مہدی حسن، غلام علی، شفقت امانت علی، عابدہ پروین صاحبہ اور میڈم نور جہاں ہوں گی۔ میڈم نور جہاں سے تو مجھے محبت ہے۔ گاتے گاتے کبھی ہونٹ دبا کر مسکراتیں، کبھی آنکھیں مچکا کر سامعین کی طرف دیکھتیں، اور اگلے ہی لمحے اپنی ہی لے میں یوں گم ہو جاتیں جیسے چند لمحوں کے لیے بھول گئی ہوں کہ سامنے لوگ بھی بیٹھے ہیں۔ مجھے ہمیشہ ان کے گانے سے بھی زیادہ، ان کا اپنے گانے سے محبت کرنا اچھا لگا ہے۔ وقت کے ساتھ ایک بات سمجھ آئی کہ مجھے اصل میں صرف ایسے گلوکار ہی نہیں، ہر طرح کے ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جنہیں فرق پڑتا ہے۔ جو کسی بھی کام کو بس نمٹاتے نہیں، بلکہ اس کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

ویسے تو مجھے ذہانت اٹریکٹ کرتی ہے، مگر ذہین لوگوں سے بھی زیادہ مجھے وہ لوگ پسند ہیں جنہیں فرق پڑتا ہے۔ جو چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی نظرانداز نہیں کرتے۔ میرا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ دنیا میں تقریباً ساری خوبصورتی چیزوں میں نہیں، انہیں برتنے کے طریقوں میں ہوتی ہے۔ اگر صرف رنگ ہی کافی ہوتے تو پینٹ کی دکان کا ہر فرش شاہکار ہوتا۔ مگر انہی رنگوں کو کوئی ٹھہر ٹھہر کر، سوچ سمجھ کر، ایک ایک اسٹروک محبت سے کینوس پر اتارے تو تصویر آرٹ بن جاتی ہے۔ جیسے ہر کوئی کھانا پکا لیتا ہے، مگر کچھ لوگ ایک ہی ترکیب بار بار صرف اس لیے بناتے ہیں کہ اگلی بار پچھلی بار سے بہتر ہو۔ مجھے ایسے لوگ اچھے لگتے ہیں جو “چلتا ہے” پر مطمئن نہیں ہوتے، بلکہ دل ہی دل خود سے پوچھتے رہتے ہیں، “اور بہتر کیسے ہو سکتا ہے؟”

اور ایک بات میں نے ایسے لوگوں میں ہمیشہ مشترک دیکھی ہے۔ وہ کبھی ہمیشہ کے لیے ایک جیسے نہیں رہتے۔ کوئی نئی بات ان کی رائے بدل سکتی ہے، ان کا طریقہ بھی، اور اس کے ساتھ وہ خود بھی بدل رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہیں خود سے زیادہ اس راستے سے محبت ہوتی ہے جو بہتری کی طرف جاتا ہے۔ انہیں یہ ماننے میں کوئی جھجھک نہیں ہوتی کہ “یہ بات مجھے پہلے معلوم نہیں تھی۔” نہ اپنی غلطی تسلیم کرنے میں انا آڑے آتی ہے، نہ کسی اچھی بات کو صرف اس لیے رد کرتے ہیں کہ وہ ان کے اپنے سماجی یا ثقافتی دائرے سے باہر کی ہے، اور نہ صرف اس لیے اپنی کسی اچھی چیز کو چھوڑ دیتے ہیں کہ اب وہ پرانی یا غیر فیشن ایبل سمجھی جاتی ہے۔ ان کے فیصلے لوگوں کے بنائے ہوئے خانوں کے مطابق نہیں، اپنے اصولوں کے مطابق ہوتے ہیں۔ اس لیے نہ ہر نئی چیز انہیں متاثر کرتی ہے، نہ ہر پرانی چیز انہیں صرف اس لیے قیمتی لگتی ہے کہ وہ پرانی ہے۔ دونوں کو ایک ہی سوال کی کسوٹی پر رکھتے ہیں، “کیا یہ درست ہے؟” “کیا یہ بہتر ہے؟” مجھے لگتا ہے جو انسان سچائی کے پیچھے چلتا رہے، وہ لوگوں کے بنائے ہوئے خانوں میں زیادہ دیر ٹھہر ہی نہیں سکتا۔

چند ماہ پہلے فجر کی نماز کے بعد باہر واک کر رہی تھی۔ واپس آئی تو پیاس سے برا حال تھا۔ فریج میں اسٹرابیری کیفیر رکھا تھا۔ اس میں پانی ڈالا، ایک بڑا سا گلاس بنایا، ایک گھونٹ پیا اور دل میں آیا، “ارے، یہ تو بالکل اسٹرابیری لسی بن گئی!” تصویر کھینچی اور خوشی خوشی لکھ دیا، “اسٹرابیری لسی۔” بھئی، مجھے کیا پتا تھا کہ اس ایک گلاس لسی سے لوگ میری پوری شخصیت کا خلاصہ نکال لیں گے۔ کمنٹس آنے شروع ہو گئے۔ “اصل تو پینڈو ہی ہے۔” “دیکھو، بندہ کہیں بھی چلا جائے، رہتا وہی ہے۔” “پتا چلتا ہے کس ماحول سے آئی ہے۔” پہلے غصہ آیا، پھر ہنسی۔ بھائی، میں نے آخر کب دعویٰ کیا تھا کہ میں کہیں اور سے آئی ہوں؟ میں تو آج بھی وہی نادیہ ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب لسی کے ساتھ بلیک کافی بھی پی لیتی ہوں۔

ایسا ہی کچھ مجھے اس وقت بھی سننے کو ملا جب اپنے کچھ اصولوں پر قائم رہنے کی وجہ سے میرے اپنے سوشل میڈیا کے حلقۂ احباب نے کہنا شروع کیا کہ “کچھ لوگ دنیا میں کہیں بھی چلے جائیں، رہتے پچھلی صدی میں ہی ہیں۔” میں نے سوچا، اگر پچھلی صدی سے مراد اپنے گھر والوں سے محبت، اپنے شوہر کی عزت، اپنے بچوں کے لیے وقت نکالنا اور کچھ ایسی قدریں ہیں جو آج بھی مجھے درست محسوس ہوتی ہیں، تو پھر مجھے اس نسبت پر کوئی اعتراض نہیں۔ میں کسی اچھی چیز کو صرف اس لیے نہیں چھوڑ سکتی کہ وہ پرانی ہے، اور کسی نئی چیز کو صرف اس لیے نہیں اپنا سکتی کہ وہ نئی ہے۔

اسی لیے کبھی مذہب پر لکھ دوں تو ایک حلقہ ناراض ہو جاتا ہے۔ خواتین کے حق میں لکھوں تو دوسرا۔ فیمنزم سے اختلاف کر دوں تو تیسرا۔ اور پھر نہ جانے کتنے اور۔ پہلے پہل مجھے واقعی لگتا تھا کہ مسئلہ مجھ ہی میں ہے۔ ایک دو بار تو اکاؤنٹ بھی ڈی ایکٹیویٹ کر دیا، کیونکہ سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ آخر ہر طرف سے اعتراض کیوں آ رہا ہے۔ پھر آہستہ آہستہ ایک بات سمجھ آنے لگی۔ مسئلہ یہ نہیں تھا کہ میں ہر ایک سے اختلاف کرتی ہوں، مسئلہ یہ تھا کہ میں کسی ایک گروہ کی مستقل رکن بن ہی نہیں پاتی۔ میں ہر بات کو اپنی سمجھ کے مطابق دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں۔ غلط بھی ہوتی ہوں، سیکھتی بھی ہوں، رائے بھی بدلتی ہوں، مگر صرف اس لیے کسی بات کو نہیں مان سکتی کہ میرے اردگرد کے باقی لوگ بھی وہی بات کہہ رہے ہیں۔

پھر مجھے محسوس ہوا کہ مسئلہ صرف میرا نہیں۔ ہم انسانوں کو خانوں میں رکھنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ جو شخص ایک خانے میں پورا نہ اترے، وہ ہمیں الجھا دیتا ہے۔ اگر آپ دیسی ہیں تو پھر پوری زندگی ان کی دیسی ہونے کی تعریف پر پورا اتریں۔ اگر انگریزی بولنے لگے ہیں تو اب نصیبو لال سننا بند کر دیں۔ اگر سوشیالوجی پڑھتے ہیں تو پھر ملک باٹل کو فیڈر کہنا آپ کو زیب نہیں دیتا۔ خدا کی پناہ… انسان نہ ہوا، اچار کا مرتبان ہو گیا، کہ ایک بار لیبل لگا تو اب قیامت تک وہی رہنا چاہیے۔

بعد میں اسی بارے میں پڑھ رہی تھی تو بڑی دلچسپ باتیں سامنے آئیں۔ Claude Steele کہتے ہیں کہ انسان کی شناخت ایک نہیں ہوتی، کئی شناختیں مل کر اسے بناتی ہیں۔ اسی لیے ایک ہی انسان بیک وقت دیسی بھی ہو سکتا ہے، محقق بھی، ماں بھی، تھیوریز کا شوقین بھی، لسی پینے والا بھی اور ایسپریسو پسند کرنے والا بھی۔ پھر Integrative Complexity پر پڑھا تو اور مزہ آیا۔ اس کے مطابق ذہنی پختگی کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آدمی بظاہر مختلف نظر آنے والی دو باتوں کو ایک ساتھ قبول کر سکے۔ ہر سوال کا جواب “یا یہ، یا وہ” نہیں ہوتا۔ بہت سے سوالوں کا جواب “دونوں” بھی ہوتا ہے۔ اور Pierre Bourdieu کو پڑھا تو قسم سے دل گارڈن گارڈن ہوگیا۔ اور میرے اس خیال کی تائید ہو گئی کہ انسان اچھی چیز جہاں سے ملے، اٹھا لیتا ہے۔

کچھ دن پہلے زید نے مجھ سے بڑی دلچسپ بات کہی۔ بولے، “نادیہ، آپ جو سیکھنا چاہو سیکھ لیتی ہو، پھر بھی لوگوں جیسی چالاکیاں کیوں نہیں سیکھتیں؟ حالانکہ سب سے زیادہ تکلیف بھی آپ کو انہی سے ہوتی ہے۔” میں کافی دیر اس بات پر سوچتی رہی۔ پھر خیال آیا، جن چیزوں سے میں دوسروں میں بددل ہوتی ہوں، وہی اگر اپنے اندر پیدا کر لوں تو پھر بچے گا کیا؟ آخر دن کے اختتام پر اپنے آپ کو پسند بھی تو آنا ہے۔

اصل میں مجھے لگتا ہے انسان کو بدلنا چاہیے، مگر صرف اس لیے نہیں کہ لوگ اسے قبول کر لیں۔ میں آج بھی وہی چیزیں اپناتی ہوں جو مجھے درست لگتی ہیں، اور وہی چھوڑتی ہوں جو مجھے درست نہیں لگتیں۔ اگر ایک دن نور جہاں سن کر خوش ہو جاؤں، دوسرے دن رات کے دو بجے کسی تھیوری پر ریسرچ پڑھ رہی ہوں، صبح کافی پی لوں، شام کو لسی، کبھی ویسٹرن پہنوں تو کبھی ایسٹرن، دوستوں کے ساتھ بچوں کی طرح ہنس بھی لوں اور کسی سنجیدہ موضوع پر گھنٹوں بحث بھی کر لوں، تو مجھے اس میں کوئی تضاد نظر نہیں آتا۔ انسان آخر ایک ہی چیز کیوں ہو؟ زندگی اگر سچ مچ جی جائے تو انسان ایک ہی وقت میں بہت سی چیزیں ہوتا ہے۔ اور اگر وہ آپ کے ایک چھوٹے سے خانے میں پورا نہیں سماتا، تو جناب عالی۔۔۔! آپ کو بس اتنی ذرا سی بات سمجھنی ہے کہ خانہ چھوٹا ہوتا ہے، انسان نہیں۔ اور ہماری اکثریت کا مسئلہ یہ ہے کہ
When people don’t fit into our boxes, we start bringing them down instead of broadening our boxes.

اپنا تبصرہ لکھیں