تقریبِ رونمائی کو انگریزی زبان میں Book unveiling Cermony یا لانچنگ سیریمنی کہتے ہیں۔تقریبِ رونمائی فارسی زبان کی ہی ترکیب ہے مگر ایران میں ایسی تقریب کو جشن رونمائی کہتے ہیں۔ہم لوگ ان دونوں تراکیب سے بخوبی واقف ہیں مگر جو لذت کے گھونٹ اپنی ماں بولی کے لفظ مکھ وکھالی سے حاصل ہوتے ہیں وہ پہلے والوں میں کہاں۔اسی کو لسان العصر اکبر الہ آبادی نے کہا تھا
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی
مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی
یہ مکھ وکھالی ویسے ہی لذت بھری ترکیب ہے تس پر یہ مکھ وکھالی والد کی کلیات کی ہو تو نور علی نور کہنا زیادہ اچھا لگتا ہے۔میرے والد ایک آزاد منش انسان اور دنیا میں رہتے ہوئے اس سے بیگانے تھے۔فیض کی زبان میں وہ اس عالم ِرنگ و بو میں آئے ہی پرورشِ لوح و قلم کے لیے تھے۔
وہ پنجابی شعروادب کی جانی مانی شخصیت ہیں۔وہ کلاسیکی شعرا اور کلاسیک عہد کے آخری شاعر تھے کہ ان کے بعد جدید پنجابی حسیت کا آغاز ہو گیا تھا۔سراج قادری ضلع گجرات اب منڈی بہاؤالدین میں انیس سو دس میں پیدا ہوئے۔وہ دینی اور دنیوی علوم کی خاطر غیر منقسم ہندوستان کے متعدد شہروں میں گئے۔ظاہری علوم دہلی، رام پور اور دیگر شہروں سے حاصل کی۔علوم باطنیہ کے لیے آپ بھیرہ شریف میں حضرت انور میر گیلانی کی بیعت سے مشرف ہوئے اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔آپ تخلیقی طور پر انتہائی فعال تھے اور تمام عمر یعنی رحلت ( انیس سو ستانوے) تک تخلیقی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ انہوں نے تین لوک داستانیں لیلٰی مجنوں، سوہنی مہینوال اور مرزا صاحباں لکھیں۔ان تین ضخیم کتب کے علاوہ انہوں نے سی حرفی کی صنف میں پنج گنج قادری کلاں، معجزات نبی کریم پر مشتمل کتاب گلشن قادری اور کئی دیگر کتب کے ساتھ سو سوا سو نعوت پر مشتمل خزینہِ رحمت اور غزلوں کی کتاب قطب ستارہ پنجابی زبان کو دان کی۔ان کی ایک اور ضخیم تصنیف خانہ معماراں عرف کسب نامہ ترکھاناں ہے جو بدقسمتی سے نایاب ہے۔ انہوں نے قرآن کریم کے پہلے پارے کا پنجابی ترجمہ کیا تھا اور ہمیں اس ترجمے کی زیارت کا بھی شرف حاصل ہوا تھا۔مگر وہ ترجمہ اور ضخیم کتاب خانہ معماراں نایاب ہونے کی وجہ سے اس کلیات میں شامل نہیں ہے۔ پلاک کے ادارے کی سربراہ بینش فاطمہ ساہی نے اسی سال اس پراجیکٹ کی منظوری دی اور ڈپٹی ڈائریکٹر شفاعت بلوچ اور رضوان الحق کی انتھک محنت نے اس پراجیکٹ کو ریکارڈ مدت میں مکمل کر دیا۔ایسے پرخلوص اور کام سے کام رکھنے والوں افسران نے نہ صرف ادارے کا وقار بحال کروایا بلکہ پنجابی زبان کے عشاق کی دعائیں بھی لیں۔ پنجاب کے صوفی شعرا کی ان گنت خوبیوں میں سے ایک خوبی ایسی ہے جو کسی دوسری زبان کے شعرا میں موجود نہیں رہی ہے۔ہماری قومی زبان کے تمام اساتذہ کسی نہ کسی شکل میں دربار سرکار سے منسلک رہے ہیں اور انہیں وظیفہ خوری کی جیسے عادت تھی۔وہ اساتذہ بادشاہ کے نزدیک ہونا، اس کا استاد مقرر ہونا اور پھر وظیفہ کی لت کا گرفتار ہونا کسی طرح معیوب نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس پر خوش ہوتے تھے۔کون کون کس دربار سے منسلک رہا اور کون کون دربار سرکار سے منسلک ہونے کی خاطر جوتیاں چٹخاتا رہا ہم سب کے علم میں ہے۔پنجاب کے کسی کلاسیک پر ایسی کسی تہمت کا داغ نہیں ہے۔پنجابی زبان کے بانی مبانی شاعر اور بعد میں میاں محمد بخش کھڑی شریف والی سرکار تک کوئی بھی کسی سرکار دربار سے وابستہ نہیں ہوا۔یہ کلاسیک وظیفہ خوری کو فی الاصل ’’ وظیفہ خواری‘‘ گردانتے تھے۔ان شعرا کی کلاس کی الگ تھی اور یہ کسی بادشاہ کو چنداں اہمیت بھی نہیں دیتے تھے یہی وجہ ہے کہ عام لوکائی کے نزدیک یہ ہستیاں خود بادشاہ اور بادشاہ گر تھیں۔لوگ باگ اپنی عرض اور مرض ان کے حضور یوں پیش کرتے تھے جیسے تمام اختیارات کے منبع وہی ہیں۔اسی قناعت نے انہیں مستجاب الدعا بھی بنا دیا تھا۔اسی ریت روایت کو سراج قادری نے اختیار کیا اور وقار کے ساتھ قناعت بھری زندگی گزاری۔ سراج اپنی گوشہ نشینی تے خوش ہاں ولائیت قناعت میری بادشاہی شاعری کے علاوہ آپ نے فلاحی اور قومی نوعیت کے کاموں میں خصوصی دلچسپی لی۔تحریکِ پاکستان میں حصہ لیا اور قائد اعظم کی ریلیف کمیٹی کی سربراہی کی۔تقسیمِ ہندوستان کے وقت غیر مسلموں کو بحافظت کیمپوں میں پہنچایا۔پاکستان آنے والے مہاجرین کی بحالی کو اپنا دینی فریضہ سمجھ کر اپنا زندگی کا مقصد ہی بنا لیا تھا۔ایوب خان کے مارشل لا کے دوران جب سکول غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے تب انہوں نے اپنا گھر اہل دیہہ کے بچوں کے لیے وقف بھی کیا اور اساتذہ کے نہ ہونے کے باوجود بچوں کی تعلیم کا سلسلہ بھی منقطع نہ ہونے دیا۔لوکائی کی بھلائی جیسے ان کا مشن تھا اور اسے وہ اپنا فرض عین سمجھتے تھے۔
روزنامہ بھلیکا اور پنجابی زبان کی ترویج و ترقی کے مہری مدثر اقبال بٹ کو ماں بولی کے عظیم شعرا سے عشق ہے۔ان سے عشق بنتا بھی ہے اور سجتا بھی۔وہ اس کے لیے بابا فرید سے لے کر سراج قادری تک تمام پنجابی شعرا کے مزار مرجح خلائق ہیں۔وہاں خلقت ان سے مرادوں کے لیے جاتے ہیں نذرانے چڑھاتے ہیں چادر پوشی کرتے ہیں۔عطر گلاب سے ان مزاروں کو غسل دیا جاتا ہے۔ہمیں اردو شعرا سے عشق ہے مگر خدا لگتی کہیے کہ کس اردو کے شاعر کی قبر پر چراغاں ہوتا ہے۔پنجابی بابوں کے مزاروں پر رات جاگتی ہے چار چراغ جلتے ہیں نذریں مانی جاتی ہیں اور چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں۔آج کلیات سراج قادری کی تقریب ہے اس کا اہتمام روزنامہ بھلیکا نے پنجابی تحریک کے چئیرمین اور مایہ ناز پنجابی لکھاری الیاس گھمن کی پردھانگی اور شہرہ آفاق ادیب عطاالحق قاسمی کی صدارت میں منعقد ہو رہی ہے۔اس تقریب میں حسین مجروح، ڈاکٹر یونس خیال، عباس مرزا اور ڈی جی پلاک اسلم شاہد خصوصی طور پر شرکت کر رہے ہیں۔روزنامہ بھلیکا اس وقت واحد پنجابی اخبار ہے جو پنجابی کاز کے لیے وقف ہے۔پنجاب ہاؤس پنجابی زبان کی ثقافتی سرگرمیوں کا دارالخلافہ بن چکا ہے۔ایسے اخبارات کو حکومتِ وقت کو خصوصی گرانٹ دی جانی چاہیے۔سندھی زبان کے روزانہ دو درجن کے قریب اخبار شائع ہوتے ہیں اور انہیں سندھ حکوت کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔روزنامہ بھلیکا پنجابی صحافت کا سہرا ہے اور ہر پنجابی بولنے والے کو اس پر فخر ہے۔پنجاب ذندہ باد اور پنجابی زبان پائندہ باد کہنے والے چند ہی سر پھرے رہ گئے ہیں۔ایسے بے لوث اور بے نیاز اخبار کی جتنی بھی توصیف ہو کم ہے۔


