ڈاکٹرز کی کوانٹٹی نہیں کوالٹی پر فوکس کریں/ڈاکٹر محمد شافع صابر

آج کل پنجاب بھر میں ڈاکٹرز کے حالات کافی خراب ہیں۔ پراپر سروس اسٹریکچر موجود نہیں، ٹرینگ سلاٹس بہت کم،ایڈہاک و کنٹریکٹ جابز ختم، جنرل کیڈر ڈاکٹرز کی پرموشن پر پابندی، ایم آوز ( میڈیکل آفیسرز ) ، ڈیبلیو ایم آوز ( وویمن میڈیکل آفیسرز) کے پی پی ایس سی ( پنجاب پبلک سروس کمیشن) بھی ختم کر دئیے گئے ہیں اور چل سو چل۔ یہ وہ مسائل ہیں جنکا آج ہم ڈاکٹروں کو سامنا ہے،لیکن آجکا مدعا یہ نہیں ۔
آجکا مدعا ہے کہ ہر سال جو ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز فیلڈ میں داخل ہو رہے ہیں،انکی کوالٹی اور کلینکل سکلز انتہائی کمزور ہیں اور یہ حقیقت ہے۔ میڈیکل کالجز کی بھرمار نے دھڑا دھڑ ڈاکٹرز تو بنا کر دئیے ہیں اور مسلسل بنائی جا رہے ہیں ۔ اب ان گریجویٹس کی بدقسمتی سے نا کوئی پرسنل گرومنگ ہو پا رہی ہے اور نا ہی پروفیشنل گرومنگ ۔
انڈر گریجویٹس پانچ سالوں کے دوران وارڈز جانا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور کچھ تو پہلی بار مریض دیکھتے ہی فائنل ائیر کے امتحان یا ہاوس جاب میں ہیں ۔
ہاوس جاب میں بھی آ کر وہ وارڈز سیلکٹ کیے جاتے ہیں جہاں کام کم ہو۔ الائیڈ وارڈز بھی وہ سلیکٹ کرنا ہے جہاں وارڈ کالز کم سے کم لگتی ہوں۔ اب تو پیسے دیکر “لوکم” ڈیوٹی کا اتنا گندا اور گھٹیا سسٹم آ گیا ہے۔ یعنی کہ آپ نے ہاوس جاب میں بھی کام نہیں کرنا اور نا ہی سیکھنا ہے،بلکہ اپنی جگہ کسی اور کو پیسے دیکر ڈیوٹی کروانی ہے۔
حالات یہ ہیں کہ ہاوس جاب ختم ہو جاتی ہے اور دوائیوں کی کونسی ڈوز (Dose/ گولی کی potency)کب دینی ہے ،اس کا بھی پتا نہیں ہوتا ۔کلینیکل سکلز کو تو چھوڑئیے، کمیونیکیشن سکلز حد سے زیادہ پور (poor) ہیں ۔ اگر مریض ایک بات دو بار پوچھ لے تو نوبت لڑائی تک جاتی ہے، اگر آن کال ڈاکٹر کی نیند کی بریک کے دوران کوئی اٹینڈنٹ آ کر اسے مریض کا کوئی مسئلہ بتائے تو ننید میں خلل پڑنے میں بھی لڑائی ہو جاتی ہے۔
مریض اور ساتھ آئے لواحقین کی کونسلنگ کیسے کرنی ہے، کنسنٹ کیسے لینی اور لکھنی ہے،نہیں معلوم۔ بیڈ نیوز ( bad news) کولواحقیں کے سامنے کس طرح بریک (break) کرنا ہے، یہ بھی نہیں معلوم ۔
ظلم یہ ہے کہ ہاوس جاب کی پہلی روٹیشن میں بھی یہی حالات تھے اور ہاوس جاب کی آخری روٹیشن میں بھی حالات ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں ۔ ہاوس جاب کے بعد جب پرماننٹ لائسنس مل جاتا ہے،جب ذمہ داری کندھوں پر آ پڑتی ہے،تب رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کچھ آتا ہی نہیں،بینادی کنیسپٹس ہی نہیں معلوم ۔۔اب کیا کریں؟؟ اب روئیں ۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم دھڑا دھڑ ڈاکٹرز بنائی جا رہے ہیں، جسکی وجہ سے کوالٹی گریجویٹس کی اشد کمی واقع ہو رہی ہے اور ہر سال اس کمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے، حکومت تمام ریگولیٹری اداروں کیساتھ مل کر ایسی مربوط حکمت عملی اختیار کرے،جس سے بہترین ڈاکٹرز فلیڈ میں آئیں۔
ہاؤس جاب میں دوران راونڈ ہمارے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب اکثر یہ جملہ کہا کرتے تھے کہ ایسے ڈاکٹر بنو کہ کل کو اپنی فیملی کے افراد کا علاج کر سکو،ایسے ڈاکٹر مت بنو کہ کل کو تمہارے جاننے والے ہی تمہارے پاس نا آئیں کہ اس ڈاکٹر کو تو کچھ آتا ہے نہیں ،ایسا بھی نا ہو کہ کل کو میں بیمار پڑ جاؤں اور تم لوگوں کے پاس علاج کے لئے نا آؤں کیونکہ مجھے علم ہو گا کہ میرا یہ ڈاکٹر تو نکھٹو ہے۔
استاد محترم کا یہ فقرا آج بھی کانوں میں گونجتا ہے اور اپنے آپ کو مزید بہتر کرنے کی لگن میں مزید محنت کرنے کا من چاہتا ہے۔
ہم ڈاکٹروں کا پروفیشن ایسا ہے کہ ہم نے اپنے جیسے انسانوں کا علاج کرنا ہے۔ اگر ہماری کلینکل سکلز ہی نہیں اچھی تو کیا خاک فائدہ ہماری لمبی چوڑی ڈگریوں کا. ایسا ڈاکٹر بنیے کہ کل کو آپ اپنے خاندان کے لوگوں کا علاج کر سکیں۔
میڈیکل کالج میں ہی مستقبل کے مسیحاؤں کی پرسنل و پروفیشنل گرومنگ کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں، لیکن بدقسمتی سے کوئی بھی پروفیسر اس چیلنج کو قبول کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا،سب ڈھنگ ڈھپاؤ پالیسی پر عمل پیراء ہیں، نتیجتاً اچھے ڈاکٹرز فلیڈ میں نہیں آ پا رہے ،جسکی وجہ سے ڈاکٹرز اور مریضوں کے درمیان دوریاں بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور یہ ایک خوفناک رجحان ہے۔ ہمارے ریگولیٹری داروں کو کوانٹٹی کی بجائے کوالٹی ڈاکٹرز بنانے کی پالیسی اپنانا ہو گی اور یہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں