خیبر پختونخوا کی تقسیم، وسائل اور سیاسی مستقبل: ایک سنجیدہ قومی مکالمے کی ضرورت/ نصیر اللہ خان ایڈوکیٹ

خیبر پختونخوا صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ تاریخ، ثقافت، شناخت اور قدرتی وسائل سے مالا مال ایک وحدت ہے۔ اس سرزمین کے پہاڑ، دریا، جنگلات، معدنیات، تیل و گیس، قیمتی پتھر، زراعت اور دیگر قدرتی ذخائر یہاں کے عوام کے مستقبل سے براہِ راست جڑے ہوئے ہیں۔

کسی بھی صوبے کی ترقی کا بنیادی اصول یہ ہونا چاہیے کہ وہاں کے وسائل پر مقامی عوام کا حق تسلیم کیا جائے، شفاف نظام قائم ہو اور وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی براہِ راست عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور روزگار پر خرچ ہو۔

آج خیبر پختونخوا کی ممکنہ تقسیم یا نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ ایک اہم سیاسی بحث بن چکا ہے۔ یہ بحث صرف انتظامی سہولت تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کے معاشی، سماجی، آئینی اور قومی اثرات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ہزارہ، مالاکنڈ، کوہاٹ، وزیرستان، پشاور اور ڈیرہ اسماعیل خان جیسے خطے اپنی تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ قدرتی وسائل سے بھی بھرپور ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر انتظامی تقسیم کی جائے تو کیا اس سے عوام کو حقیقی فائدہ پہنچے گا یا وسائل کے انتظام اور اختیار کے حوالے سے نئی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی؟

ہزارہ ڈویژن، جس میں مانسہرہ، ہری پور، بٹگرام، ایبٹ آباد، شانگلہ اور کوہستان جیسے علاقے شامل ہیں، معدنیات، جنگلات، پانی اور سیاحت کے وسیع امکانات رکھتا ہے۔ اسی طرح مالاکنڈ ڈویژن معدنی ذخائر، آبی وسائل اور قدرتی حسن کے اعتبار سے انتہائی اہم ہے۔ ان علاقوں کے مستقبل کا فیصلہ محض سیاسی مفادات کی بنیاد پر نہیں بلکہ عوامی رائے، آئینی اصولوں اور طویل المدتی مفاد کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔

خیبر پختونخوا کی جغرافیائی مرکزیت کا تعین بھی ایک سنجیدہ موضوع ہے۔ کسی بھی علاقے کو مرکز بنانے کا فیصلہ سیاسی طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ آبادی، جغرافیہ، معاشی امکانات اور عوامی سہولتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔ ترقی کے مراکز ان علاقوں میں قائم ہونے چاہئیں جہاں وسائل، مواقع اور عوامی ضرورت موجود ہو۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کا تصور مضبوط ہوا، لیکن اصل چیلنج یہ ہے کہ صوبوں کو اپنے وسائل کے استعمال، انتظام اور عوامی فائدے کے لیے مؤثر اختیار کیسے دیا جائے۔ اگر صوبائی وسائل پر مقامی سطح پر شفاف نگرانی نہ ہو تو صرف انتظامی تقسیم سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے۔

قدرتی وسائل کسی بھی خطے کی اصل طاقت ہوتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے وسائل کے حوالے سے ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ ان پر پہلا حق یہاں کے عوام کا ہونا چاہیے۔ معدنیات، جنگلات، پانی اور دیگر وسائل کی حفاظت، شفاف لیزنگ نظام، مقامی روزگار اور آمدنی کی منصفانہ تقسیم وقت کی اہم ضرورت ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی وسائل کے فیصلے عوام کی شمولیت کے بغیر کیے گئے تو احساس محرومی پیدا ہوا۔ اس لیے صوبائی وحدت، وسائل پر عوامی اختیار اور شفاف حکمرانی کے اصولوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔

خیبر پختونخوا کی طاقت اس کی تقسیم میں نہیں بلکہ اس کے عوام، ثقافت، وسائل اور اجتماعی صلاحیت میں ہے۔ اگر انتظامی اصلاحات کی ضرورت ہو تو وہ عوامی اتفاق رائے، آئینی طریقہ کار اور حقیقی ترقی کے مقصد کے تحت ہونی چاہئیں، نہ کہ ایسے فیصلوں کے ذریعے جن سے عوام میں مزید محرومی کا احساس پیدا ہو۔

اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے صوبے ہوں گے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کے وسائل پر اختیار کس کا ہوگا، فیصلے کیسے ہوں گے اور ترقی کا فائدہ عام شہری تک کیسے پہنچے گا۔

ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی یافتہ خیبر پختونخوا کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسائل کے تحفظ، شفاف حکمرانی اور عوامی حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے۔

اپنا تبصرہ لکھیں