کیا یہ سچی محبت ہے یا لمرینس (Limerence)؟-

ہم قومِ فینٹسی اور میجیکل تھنکنگ کے لوگ ہیں۔ ہم سے زیادہ تر لوگ باتوں، جذبات اور خیالی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں اور حقیقت سے ہمارا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم کسی کی طرف مائل ہوتے ہیں تو فوری طور پر خود کو یہ باور کروانے لگتے ہیں کہ “ہم تو ایک دوسرے کے لیے ہی بنے ہیں” یا “ہم تو سول میٹ (Soulmates) ہیں”۔
لیکن نفسیات (Psychology) کی زبان میں اسے لمرینس (Limerence) کہا جاتا ہے—یعنی کسی انسان کے لیے حد سے زیادہ رومینٹک، خیالی اور غیر حقیقی جذبات رکھنا۔

لمرینس کیا ہے اور یہ کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟
لمرینس میں مبتلا انسان کا اپنے خیالات پر کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ آپ اس شخص کے بارے میں مسلسل سوچتے چلے جاتے ہیں اور خود کو روک نہیں پاتے کہ کیسے پڑھائی، اپنی صحت، اپنی نوکری یا اپنے موجودہ رشتوں پر توجہ دیں۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جب بھی آپ کو روزمرہ زندگی میں کوئی ذہنی تناؤ، اداسی، اکیلاپن یا بوریت (Boredom) ہوتی ہے، تو آپ کا دماغ اس درد سے بھاگنے کے لیے اس انسان کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے دماغ کو ایک عارضی خوشی (Pleasure/Reward) ملتی ہے، اور دماغ اس سوچ کا عادی ہو جاتا ہے۔

لمرینس کی اصل جڑ: آپ کا بچپن (Childhood Trauma)
لمرینس کا تعلق اکثر ہمارے بچپن اور ماحول سے ہوتا ہے۔ بچپن میں جب آپ کی جذباتی ضروریات (Emotional Needs) پوری نہیں ہوتیں—یعنی والدین کی طرف سے وہ وقت، توجہ اور پیار نہیں ملتا جس کے آپ حقدار تھے—تو آپ کا دماغ بڑا ہو کر اسی جذباتی خالی پن کو بھرنے کے لیے خیالی محبت اور غیر حقیقی رشتوں کا سہارا لینے لگتا ہے۔

والدین کے لیے ایک لمحہ فکریہ:
ہمارے معاشرے میں یہ سوچ عام ہے کہ “ہر بچہ اپنا رزق ساتھ لے کر آتا ہے”۔ بے شک رزق اللہ دیتا ہے اور کوئی بچہ بھوکا نہیں سوتا، لیکن بات صرف روٹی، کپڑا اور مکان کی نہیں ہے؛ بات جذباتی اور نفسیاتی ضروریات کی ہے۔
ہم چھ چھ، سات سات بچے تو پیدا کر لیتے ہیں لیکن کیا آج کے دور میں والدین کے پاس اتنے بچوں کو مکمل توجہ اور محبت دینے کا وقت ہے؟ اگر آپ کے پاس پیسے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بچوں کی لائن لگا دیں۔ اگر بچپن میں بچوں کی جذباتی صحت پر توجہ نہیں دی جائے گی تو وہ بڑے ہو کر اٹیچمنٹ ڈس آرڈر (Attachment Disorder) اور لمرینس جیسے عذاب سے گزریں گے۔

ناولوں اور فلموں کا کٹھ پتلی کردار:
خاص طور پر ہماری لڑکیاں جو اردو کے رومانی ناولز اور ڈرامے پڑھتی/دیکھتی ہیں، وہ اپنی دردناک اور کڑوی حقیقت سے بھاگنے کے لیے ایک خیالی دنیا بنا لیتی ہیں۔
مثلاً ہمارے ایک مشہور اردو ناول کا بہت پسندیدہ کردار “سالار” ہے۔ بے شک وہ کردار سب کو پسند ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں “سالار” نامی کوئی آئیڈیل انسان وجود نہیں رکھتا! ناولز اور فلموں کے ان خیالی اور پرفیکٹ کرداروں کے پیچھے بھاگنا بند کریں اور اپنی جذباتی تنہائی کو سچے طریقے سے ہیل (Heal) کریں۔

لمرینس سے باہر نکلنے کا 9 مرحلہ وار (Step-by-Step) طریقہ
لمرینس سے باہر نکلنے کا کوئی جادوئی فارمولا نہیں ہے۔ یہ عمل سست (Slow)، بوجھل (Boring) اور دردناک (Painful) ہے، اور جب تک آپ اس تکلیف سے نہیں گزریں گے، آپ اس حالت سے باہر نہیں آ سکتے۔
سیلف اویئرنس (خود آگاہی): اپنے سکولنگ سسٹم میں تو یہ سکھایا نہیں جاتا، جہاں صرف رٹا لگوایا جاتا ہے۔ خود کو سمجھیں اور اپنی فیملی پر غور کریں۔ آپ اور کچھ نہیں بلکہ اپنی فیملی کا پراڈکٹ ہیں۔ دیکھیں کہ آپ کے گھر میں غصہ، اگنور کرنا یا کون سے رویے زیادہ ہیں، تاکہ آپ اپنی شخصیت کو سمجھ سکیں۔
ٹریگرز اور پیٹرن کو سمجھیں: غور کریں کہ دن میں کن اوقات یا کن باتوں پر آپ کو اداسی اور اکیلاپن ہوتا ہے جس سے بھاگنے کے لیے آپ لمرینس کی فینٹسی میں جاتے ہیں۔
حقیقت کو قبول کریں (Accept Reality): خود کو اور اپنے دماغ کو بتائیں کہ سامنے والا انسان کوئی آئیڈیل یا پرفیکٹ نہیں ہے جیسا آپ سوچ رہے ہیں۔ یہ سب صرف آپ کے اپنے دماغ کا پیدا کردہ ڈرامہ ہے۔
غیر یقینی کو ختم کریں اور ریجیکشن اپنائیں: اگر سامنے والے انسان نے آپ کو صاف انکار (Reject) کر دیا ہے یا وہ آپ میں دلچسپی نہیں رکھتا، تو اس سچ کو تسلیم کریں۔ اس امید اور غیر یقینی (Uncertainty) سے باہر نکلیں کہ شاید کبھی ہم مل جائیں گے۔
سائیکولوجیکل ڈی پروگرامنگ: چونکہ آپ کے دماغ نے اس انسان کا ایک آئیڈیل امیج بنایا ہوا ہے، اس لیے جان بوجھ کر اس کی برائیاں، خامیاں اور منفی باتیں تلاش کریں، انہیں کاغذ پر لکھیں اور اپنے دماغ کو بار بار بتائیں۔
نو کانٹیکٹ (No Contact) اور رومینٹک کنٹینٹ بند: اس انسان سے ہر قسم کا رابطہ ختم کر دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام رومینٹک فلمیں، گانے اور ناولز جو آپ کے لمرینس کو ہوا دیتے ہیں، انہیں فوراً دیکھنا اور پڑھنا بند کر دیں۔
حقیقی سوشل لائف بنائیں: ٹی وی اور سوشل میڈیا کی مجازی دنیا سے باہر نکلیں۔ واقعی سچی زندگی میں باہر جائیں، لوگوں سے ملیں، دوست بنائیں، ان کی باتیں سنیں اور اپنی سنائیں۔
زندگی میں چھوٹے گولز (Small Goals) رکھیں: آپ نے ایلون مسک یا بل گیٹس نہیں بننا، بس چھوٹے چھوٹے اور قابلِ عمل اہداف بنائیں۔ جب آپ کوئی نئی چیز یا سکول سیکھتے ہیں تو دماغ میں نیچرل Dopamine ریلیز ہوتا ہے جو آپ کو کامیابی کا احساس دیتا ہے۔
پاز (Pause) لیں اور فزیکل ایکٹیویٹی کریں: جب بھی دماغ میں لمرینس کے شدید خیالات آئیں، رک جائیں۔ واک کریں، ورزش کریں، ڈائری میں اپنے احساسات لکھیں یا میڈیٹیشن کریں۔ ذھن کی پروگرامنگ کے ساتھ ساتھ جسمانی سرگرمی بے حد ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں