ہماری آزمائشیں اور صبر و استقامت کی ضرورت / محمد کوکب جمیل ہاشمی

مشکل حالات میں صبر کرنا ہر انسان کے لئے سہل نہیں ہوتا۔ اگر لفظ صبر کا ص شروع سے ہٹا کر آخر میں متصل کر دیا جائے تویہ لفظ برص بن جاتا ہے۔ برص ایک ایسا مرض ہے جس میں انسان کے جسم، ہاتھ پاؤں اور چہرے پہ بد نما دھبے پھیل جاتے ہیں۔ اسے عرف عام میں پھلبہری بی کہا جاتا ہے۔ یہ داغ دھبے یقیناً شکل و صورت کی تازگی، خوبصورتی اور دلکشی کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ لیکن شاباش ہے ان مریضوں پر کہ وہ درپیش مرض کا علاج انتہائی صبر کے ساتھ کرواتے ہیں اور معاشرتی رویوں اور دوسروں کی ناپسندیدہ نظروں کے ناوکوں کے وار کو تحمل اور صبر کے ساتھ سہتے ہیں۔ انکے پاس اپنی زندگی میں سواۓ صبر و شکر کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بالخصوص خواتین کو یہ مرض لاحق ہو جاۓ تو دیکھنے والوں کی نگاہوں کے نشتر ان کے جذبات کومجروح کرنے میں کسر نہیں اٹھا رکھتے۔ لیکن یہاں بھی داد دینی پڑتی ہے کہ صبر آزما طویل علاج اور اپنی جذباتی کشمکش کے ہوتے ہوۓ بھی وہ صبر و استقامت کی پیکر بنی ہوتی ہیں۔ ان کی استقامت اور مشکل وقت میں صبر و شکر لائق تحسین ہوتا ہے ۔ اور یہ بات طے ہے کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کی مشکل آسان فرماتا ہے۔ متبرک و آفاقی کتاب قرآن حکیم میں اللہ کا صبر کرنے والوں کے بارے فرمان ہے کہ انا اللہ مع الصابرین۔ جسکا مطلب ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

صبر کی بابت ایک خیال یہ ہے کہ یہ ایک دشوار صفت ہے جسے انسان مجبوری اور بے چارگی میں اپناتا ہے۔ ورنہ گھبراہٹ، پریشانی اور بے اطمینانی اسے کچوکے مارتی رہتی پے۔ یعنی ایسا کچھ ہو جانا، جس میں انسانی اختیار کا عمل دخل نہ ہو، وہاں صبر کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔ بالخصوص جب کسی گھر میں بچے اپنی مشفق و پیار لٹانے والی پیاری ماں، اللہ کو پیاری ہو جاۓ یا کہیں بچے اپنے شفیق والد کے سایہ شفقت سے محروم ہو جائیں تو اولاد اور خاندان کے دوسرے افراد کے دل رنج و غم اور دکھ درد سے معمور ہو جاتے ہیں۔ بعض گھروں میں میت گھر میں موجود ہو تو گھر والے اور دیگر رشتے دار وفور جذبات سے رو رو کر برا حال کرلیتے ہیں۔ انکی دیکھا دیکھی محلے والے بھی رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ ہوں فضا مزید سوگوار ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر ہرکسی کو بین کرنے سے روکنے اور آہ و بکا نہ کرنے کی نصیحت ناگوار گزرتی ہے۔ لہٰذا سب کو صبر کرنے کو کہا جاتا ہے۔
کیونکہ جینا مرنا اللہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ بندوں کا اس پر کوئی اختیار نہیں ہوتا اس لئے کسی کے۔ بھی موت واقع ہو جاۓ تو اس پر صبر کرنا اللہ کی رضا پہ قناعت کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ موبائل فون پر آنے والے تعزیت کے پیغامات میں بھی جہاں فوت شدہ کے لئے بلندی درجات کی دعا کی جاتی ہے وہاں جملہ پسماندگان کء لئے صبر جمیل کی خواہش کا اظہار کیا جاتا ہے۔
ہمیں ہمارے دین نے کسی کی وفات پہ اظہار افسوس کرنے کی ممانعت نہیں کی لیکن نوحہ خوانی اور بین کرنے کو مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ یہ موقع اللہ کی رضا کے سامنے صبر و تحمل کا تقاضہ کرتا ہے۔ اور ہمیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ مرحومین کی یاد آئے توانکے لۓ فاتحہ خوانی اور دعاء مغفرت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور صبر کرنے پر اجر بھی دیتا ہے۔ مسلمان جب رمضان المبارک میں روزے رکھتا ہے تو بھوک، پیاس کے باوجود روزے کے افطار کے وقت تک کھانے پینے سے اجتناب کرتا ہے۔ اس ماہ مبارک میں ہمیں اللہ کی رضا کے لۓ صبر کرنا ہوتا ہے۔ کوئی آپ کی مرضی کے خلاف کام کر رہا ہو یا جھگڑا کرنا چاہتا ہو تو ہم اپنا غصہ ضبط کرتے ہیں اور یہ کہہ کر اپنی جان چھڑاتے ہیں کہ ” میں روزے سے ہوں، اس لئے لڑائی کرنا نہیں چاہتا “۔ ہوں رمضان کا پورا مہینہ صبر و قناعت اور عبادت کا درس دیتا ہے
ہم کبھی ٹرین سے سفر کر رہے ہوں اور دوران سفر جنگل بیابان میں ریل کا انجن خراب ہو جأۓ تو سب مسافر غصے سے تلملا رہے ہوتے ہیں، لیکن غصہ کرنے والے اپنا ہی نقصان کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ انکے پاس سواۓ صبر کے کوئی چارہ کار نہیں ہوتا۔ آپ اگربذریعہ ہوائی جہاز سفر کرنے کے لئے وقت سے پہلے ایئر پورٹ چلے جائیں، مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہو کہ فلائٹ کسی وجہ سے کینسل ہو گئی ہے تو ہمارا جزبز ہونا بنتا ہے، مگر آخر کار یہ سوچ کر پم صبر کر بیٹھتے ہیں کہ اس میں اللہ کی کوئی مصلحت ہو گی۔
ہمیں زندگی میں قدم قدم پر مشکلات اور مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔ کسی کو نوکری نہیں مل پاتی۔ کوئی مالی حیثیت نہ ہونے پر اپنا مکان نہیں بنا پاتا، کوئی بچہ باہر جا کر تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پاتا، اور کوئی اپنا قصور نہ ہو نے کے باوجود لڑائی جھگڑے میں نقصان اٹھاتا ہے۔ یہاں صبر لازم ہوتا ہے۔ لیکن صبر کرنے کے لئے ارادے اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مزاج میں تحمل ہو تو صبر آسان ہو جاتا ہے۔ جس طرح ہم ملک بھر میں ہونے والی ناقابل برداشت مہنگائی اور کم مالی وسائل کی وجہ سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے، اسی طرح جو لوگ دوسروں کی طرف سے ظلم و ذیادتی کے شکار ہو جائیں اور انہیں انصاف نہ ملے، یا کسی کو کاروبار میں نقصان اٹھانا پڑے تو سواۓ صبر کے کچھ نہیں کر پاتے۔ صبر کے ذریعے ہم بہتر سوچ اور تدبیر کے ساتھ مشکلات سے نجات پالیتے ہیں۔
اس وقت صبر، برداشت اور تحمل کی اعلیٰ مثال غزہ میں موجود مسلمان اور فلسطینی ہیں، جو سالوں سے اسرائیل کے ظلم و ستم سہہ رہے ہیں۔ انکے گھر بار تباہ ہوگۓ ہیں۔ وہ بھوک، افلاس اور قید و بند کی دشوار ترین صورت حال میں زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ نہتے ہو کر بھی اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بنتے جا رہے ہیں۔ انکے ریلیف کیمپوں کو جلا کر خاک کر دیا جاتا ہے۔ ان کی نگاہوں کے سامنے ان کے معصوم بچوں کو شہید کر دیا جاتا ہے۔ اب تک ایک اندازے کے مطابق تقریباً سینتالیس ہزار عورتیں، مرد اور بچے شہادت پا چکے ہیں۔ جبکہ زخموں سے چور لوگوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان سے بڑھ کر بے چارگی، مجبوری اور ناگفتہ بہ حالات میں زندگی گزارنے والا کون ہو سکتا ہے۔ وہ صبر و استقامت کا قابل تقلید استعارہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماۓ اور جلد انکے دکھوں کا مداوا فرماۓ آمین۔

اپنا تبصرہ لکھیں