79ِ واں یوم ِآزادی چند دن کے بعد منایا جائے گا۔ شہر سبز ہلالی پرچموں سے سجنے لگا ہے۔ گلیوں میں جھنڈیاں لہرائی جائیں گی، عمارتوں پر چراغاں کی تیاریاں مکمل ہیں، گاڑیوں پر پرچم نصب کیے جارہے ہیں اور سوشل میڈیا پر وطن سے محبت کے ہزاروں پیغامات گردش کرنے لگے ہیں۔ ملی نغموں کی آواز کانوں میں پڑ رہی اور ہم سب پاکستانی ایک دوسرے کو آزادی کی مبارک باد دیں گے۔مگر جشنِ آزادی کے اس سارے شور شرابے اور ہلے گلے کے بیچ ایک سوال کہیں اندر سے اٹھتا ہے:کوئی خوش کیوں نہیں دکھتا؟………………کوئی خوش کیوں نہیں لگتا؟
یہ سوال کسی جشن کی مخالفت نہیں، بلکہ جشن کی رُوح کو تلاش کرنے کی کوشش ہے۔ کیونکہ خوشی صرف لبوں پر نمودار ہونے والی مسکراہٹ کا نام نہیں۔ خوشی آنکھوں میں اُترتی ہے، دل میں ٹھہرتی ہے اور اِنسان کے رویے میں نظر آتی ہے۔ اگر چہروں پر مسکراہٹ ہو مگر آنکھوں کے دامن سے مسلسل دُکھ چھلکتا رہے تو ہمیں اپنے جشن کی معنویت پر بھی غور کرنا چاہیے۔
ہم نے آزادی حاصل کی تھی تاکہ اِنسان خوف سے آزاد ہو، محرومی سے آزاد ہو، ناانصافی سے آزاد ہو اور اپنے خواب دیکھنے کا حق رکھتا ہو۔ آزادی محض ایک جغرافیہ حاصل کرنے کا نام نہیں؛ یہ ایک ایسا معاشرہ تعمیر کرنے کا عہد بھی ہے جہاں اِنسان کی عزت، جان، روزگار، تعلیم اور مستقبل محفوظ ہوں۔
ہمیں اپنے وطن سے محبت ہے۔ شاید اسی لیے اس کے دکھ ہمیں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔”درویوار ہیں اپنے،……کئی غمخوار ہیں اپنے۔“لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بہت سے غمخوار بھی اب تھک چکے ہیں۔ معاشرے کا پرانا زخم کبھی مہنگائی کی صورت میں پھٹتا ہے، کبھی بے روزگاری میں، کبھی طبقاتی تفاوت میں، کبھی تعلیم کے بحران میں اور کبھی اس احساس میں کہ عام آدمی کی آواز اقتدار کی بلند دیواروں تک پہنچتے پہنچتے دم توڑ دیتی ہے۔
زخم اگر بروقت نہ بھرا جائے تو صرف زخم نہیں رہتا؛ پورے بدن میں پھیلنے والی بیماری بن جاتا ہے۔ قوموں کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے۔ مسائل کو نظر انداز کیا جائے تو وہ ختم نہیں ہوتے، اپنی شکل بدلتے رہتے ہیں۔ہم نے اپنے شہروں میں اونچے اونچے گھر بنا لیے ہیں۔ شیشے کی عمارتیں، وسیع سڑکیں، خوب صورت رہائشی منصوبے اور مخملی بستروں والے گھر بھی موجود ہیں۔مگر سوال پھر وہی ہے۔کیونکہ سکون صرف آرام دہ بستر سے نہیں ملتا۔ جب مستقبل غیر یقینی ہو، جب آدمی کو اپنے بچوں کے کل کی فکر ہو، جب معاشرے میں اعتماد کم ہو جائے، جب ایک دوسرے سے خوف اور بدگمانی بڑھنے لگے تو نرم ترین بستر بھی نیند نہیں دے سکتا۔ہماری اصل ضرورت شاید مزید بلند عمارتیں نہیں، بلکہ اعتماد کی تعمیر ہے۔
ہماری زمین زرخیز ہے۔ ہمارے دریاؤں میں پانی ہے، ہمارے پہاڑوں میں معدنیات ہیں، ہمارے میدان فصلیں اُگا سکتے ہیں، ہمارے نوجوان ذہانت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم نے اپنی ہی زمین کو خارزار بنا دیا ہو۔”تو کیا ہاتھوں میں چھالے ہیں ……جو ہم نے خود ہی پالے ہیں ……تبھی تو پھل نہیں اگتا؟“یہ سوال، یہ لمحہء فکریہ صرف حکمرانوں سے نہیں، ہم سب سے ہے۔
ہم اکثر وطن کے مسائل کا ذمہ دار صرف حکومت کو قرار دے کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن قوم صرف حکومت سے نہیں بنتی۔ قوم استاد سے بنتی ہے، طالب علم سے بنتی ہے، مزدور سے بنتی ہے، ڈاکٹر، کسان، تاجر، صحافی، شاعر اور فن کار سے بنتی ہے۔ قوم گھر کے اندر بولے گئے لفظ سے بھی بنتی ہے اور سڑک پر کیے گئے ایک معمولی سے نیک عمل سے بھی۔
اگر ہم قانون صرف اس وقت مانیں جب پولیس موجود ہو، سچ صرف اس وقت بولیں جب نقصان نہ ہو، میرٹ صرف اس وقت چاہیں جب فائدہ ہمیں مل رہا ہو، اور برداشت صرف اس وقت کریں جب اختلاف کرنے والا ہماری طرح سوچتا ہو تو پھر ہمیں اپنے اندر بھی جھانکنا ہوگا۔”ہماری آنکھ جالا ہے،…………ہمارے ذہن پہ یارو اگر نفرت کا تالا ہے۔“
نفرت کسی بھی قوم کے لیے سب سے خطرناک قید ہے۔ جب ہم انسان کو اس کے مذہب، مسلک، زبان، صوبے، نسل، طبقے یا سیاسی وابستگی سے دیکھنے لگتے ہیں تو پاکستانی ہونے کی بڑی شناخت چھوٹی چھوٹی شناختوں میں بٹ جاتی ہے۔پاکستان کی طاقت اس کے اختلافات کو مٹانے میں نہیں، انہیں ایک مشترکہ قومی مقصد میں ڈھالنے میں ہے۔اس لیے 79ویں یومِ آزادی پر شاید ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟
ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے:…………ہم نے پاکستان کو کیا دیا؟کیا ہم نے اپنے حصے کی نفرت کم کی؟کیا ہم نے کسی کمزور کا ہاتھ تھاما؟کیا ہم نے اپنے کام کو دیانت داری سے انجام دیا؟کیا ہم نے کسی بچے کو تعلیم دی؟کیا ہم نے کسی اختلاف رکھنے والے شخص کو انسان سمجھ کر سنا؟کیا ہم نے اپنے چھوٹے سے دائرے میں انصاف قائم کیا؟یہی وہ دشت ہے جسے ہمیں پار کرنا ہے۔اور اس دشت کا سب سے مشکل سفر باہر نہیں، اندر کا سفر ہے۔اَنا کو جیتنے دینا نہیں ہے، ہار جانا ہے۔
ہمیں اپنی اَنا، تعصب، نفرت، خود غرضی اور مفاد پرستی کو شکست دینا ہوگی۔ یہی ہماری اصل فتح ہوگی۔ کیونکہ ملک صرف سرحدوں سے محفوظ نہیں ہوتے؛ ملک اپنے شہریوں کے کردار سے محفوظ ہوتے ہیں۔79 برس پہلے آزادی ایک خواب تھی۔ آج پاکستان ایک حقیقت ہے۔ مگر ہر حقیقت کو زندہ رکھنے کے لیے نئے خواب درکار ہوتے ہیں۔ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بچے بھوک کے خوف کے بغیر خواب دیکھ سکیں، نوجوان ہجرت کو مجبوری نہیں بلکہ انتخاب سمجھیں، کسان اپنی زمین سے خوشحال ہو، مزدور اپنے پسینے کی قیمت پائے، عورت عزت اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزارے، اقلیت خود کو برابر کا شہری سمجھے، اور اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو۔تب شاید ایک دن ہم پھر پوچھیں گے:”کوئی خوش کیوں نہیں دکھتا؟.اور جواب آئے گا:دیکھو، اس بار خوشی صرف لبوں پر نہیں، آنکھوں میں بھی ہے۔
تب چودہ اگست محض پرچم لہرانے کا دن نہیں ہوگا؛ یہ ایک ایسے سفر کی منزل کا جشن ہوگا جس میں ہم نے اپنے اندر کے اندھیروں سے بھی آزادی حاصل کی ہوگی۔کیونکہ وطن ایسے ہی چلتا ہے۔وطن ایسے ہی بڑھتا ہے۔اور آزادی صرف حاصل نہیں کی جات۔آزادی ہر نسل کو اپنے کردار سے دوبارہ حاصل کرنی پڑتی ہے۔


