اس دھرتی کا ہر وفادار پاکستانی جانتا ہے کہ اگر کبھی وطن نے پکارا تو وہ اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کے لیے تیار ہوگا۔ ضرورت پڑی تو پاکستان کی حفاظت کے لیے اسلحہ اٹھانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، کیونکہ یہ وطن صرف سرحدوں کا نام نہیں بلکہ ہماری پہچان، ہماری آزادی اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔
مگر دفاع صرف اسلحہ اٹھانے کا نام نہیں، اصل دفاع اپنے کردار، اتحاد اور ذمہ داری سے بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کا سپاہی جب سرحد پر کھڑا ہوتا ہے تو وہ صرف زمین کی حفاظت نہیں کرتا بلکہ لاکھوں گھروں کے سکون، قومی وقار اور سبز ہلالی پرچم کی حرمت کا پہرہ دیتا ہے۔ فوج اور قوم ایک دوسرے سے جڑی طاقتیں ہیں، ایک مضبوط ہو تو دوسری بھی مضبوط ہوتی ہے۔
1965ء کی جنگ ہو، 1971ء کا مشکل دور ہو، کارگل کے معرکے ہوں یا سیاچن کی برفانی چوٹیوں پر آزمائش، پاکستانی فوج کے جوانوں نے ہر دور میں مشکل حالات کا سامنا کیا۔ آج بھی بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑ، خیبرپختونخوا کے حساس علاقے، پاک افغان سرحد کی چوکیاں، لائن آف کنٹرول پر بھارت کے سامنے ڈٹے ہمارے جوان اور مشرقی سرحد پر ہمارے پاسبان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ محاذ بدلتے ہیں مگر وطن کے دفاع کا جذبہ نہیں بدلتا۔
پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی اپنے ہزاروں شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کی قربانیاں دی ہیں۔ کتنے ہی جوان اپنے گھروں سے نکلے اور وطن کی مٹی میں ہمیشہ کے لیے سو گئے۔ کتنی ہی ماؤں نے اپنے بیٹوں کو، بچوں نے اپنے باپ کو اور خاندانوں نے اپنے پیاروں کو وطن پر قربان ہوتے دیکھا۔ یہ قربانیاں ہمارے امن کی بنیاد ہیں۔
مگر آج جنگ کا انداز بدل چکا ہے۔ دشمن صرف سرحد پر نہیں بلکہ سوچ اور معلومات کے میدان میں بھی مقابلہ کرتا ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں ایک جھوٹی خبر، من گھڑت کہانیاں، بغیر تحقیق پھیلایا گیا دعویٰ یا غیر ذمہ دارانہ رویہ قوم کے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض باشعور اور پڑھے لکھے لوگ بھی دشمن کی ان باتوں اور من گھڑت کہانیوں کو سچ مان کر اپنوں، اپنے قومی اداروں اور اپنی فوج پر سے اعتماد کھو بیٹھتے ہیں۔
دشمن کی اس چال کی وجہ سے اگر اندر کا محاذ خطرے میں پڑ گیا تو سرحد پر کھڑے سپاہی کی قربانی کا مقصد کیا رہ جائے گا؟ اور اگر ہم ہی اپنوں پر شک کر کے اندرونی محاذ کو کمزور کر دیں گے تو پھر اس کا پہرہ کون دے گا؟ اختلاف ضرور کریں، سوال بھی کریں، مگر سچ، تحقیق اور ذمہ داری کے ساتھ۔
ہمارے جوان اپنے پیاروں اور گھر بار کو چھوڑ کر ہمارے گھروں کے سکون اور پاکستان کی حفاظت کے لیے ہر محاذ پر کھڑے ہیں؛ ہم اپنے گھروں میں رہتے ہوئے اپنے اندر کے محاذ پر اپنا فرض ادا نہیں کر سکتے؟ قومی دفاع صرف ہتھیاروں سے مضبوط نہیں ہوتا۔ دیانت، قانون کی پاسداری، اتحاد، محنت اور وطن کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینا بھی دفاعِ وطن کا حصہ ہے۔ سرحد پر کھڑا سپاہی اپنا فرض ادا کر رہا ہے، اب قوم کو بھی اپنے اندر کے محاذ پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
سلگتا اشارہ:
اپنے محافظوں سے محبت صرف نعروں، تصویروں اور جذباتی الفاظ کا نام نہیں۔ اصل محبت یہ ہے کہ ہم اُس پاکستان کو مضبوط کریں جس کے لیے ہمارے جوان اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں۔ سپاہی دشمن کے سامنے ڈٹ سکتا ہے، مگر قوم کے اندر پھیلنے والی نفرت، جھوٹ اور انتشار کو صرف ہم روک سکتے ہیں۔ جب سرحد پر سپاہی جاگ رہا ہو تو قوم کو بھی اپنے کردار، شعور اور اتحاد کے محاذ پر بیدار رہنا چاہیے۔


