سیاستدانوں کے اطوار اور ملک کو درپیش مسائل/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہمارے ملک کی سیاست اور امور سیاست میں آجکل طلاطم خیز طوفان آیا ہوا ہے۔ ایک عرصے سے ہماری سیاست کے دریاؤں میں طغیانی اورمد وجزر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہاں بھی مخالف سیاسی جماعتوں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے، روڑے اٹکانے اور چلتے نظام پر گرجنے برسنے کے ساتھ تبدیلیاں لانے کی باتیں ہوتی ہیں۔ حالانکہ نظام میں خامیاں کم اور ہمارے رویوں میں خرابیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ نظام جتنے چاہے بدل لئے جائیں، جب تک ہمارے برتاؤ، سلوک اور سوچ میں تبدیلی نہیں ہوگی، کوئی نظام بھی اپنی خوبیوں کے ساتھ کار فرما نہیں رہ سکتا۔ انسانوں کی طرح ہر نظام میں اچھائیوں کے ساتھ چھوٹی موٹی خامیاں بھی ہوتی ہیں۔ لیکن ان کے تدارک کے لئے قانون میں اصلاح کی گنجائش بھی موجود ہوتی ہے۔ اسمبلیوں میں ایسے قوانین میں باہم مشورے سے ترامیم کرکے اصلاح احوال کر لی جاتی ہے۔ مگر ہمارے سیاست دانوں کے اطوار ایسے ہوتے ہیں کہ یہاں ہر بات کو مسئلہ بنا لیا جاتا۔ اسمبلیوں میں بھی سیاسی جماعتیں ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے جھگڑوں اور شور شرابے سے قانون سازی کے عمل میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں۔ کہنے کو ہماری اسمبلیاں مجلس شورٰی کہلاتی ہیں۔ یعنی وہ جگہ جہاں باہم مشورے ہوں۔ لیکن آپس کی مشاورت کی بجاۓ بعض جماعتیں مذاکرات، بات چیت اور مکالمے کی افادیت کو فراموش کرتے ہوۓ اپنے نقطہء نظر کو منوانے کے لئے نکتہ چینی، جلسے جلوس، سڑکیں بلاک کرنے اور دھرنے دینے کا اختیار استعمال کرتی ہیں۔ اس سے سیاسی انتشار، بے چینی اورعام پبلک کے لئے مشکلات پیدا ہوتی ہیں، بلکہ ملک میں امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔
سیاست دانوں کی عاقبت نا اندیشی کہہ لیں یا اقتدار کی جنگ کا شاخسانہ، تقریباً تمام سیاسی جماعتیں جب دیگر سیاسی جماعتوں کے ملاپ اور باہمی اشتراک سے برسر اقتدار آتی ہیں، حکومت بنانے کے بعد اپنے اتحادیوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ ان کے درمیان فاصلے بڑھنے شروع ہو جاتے۔ ہیں۔ ایک جماعتوں کے کارکن بھی ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان ہونے لگتے ہیں۔ انکی سیاسی تربیت اور نظم و ضبط کے فق کی وجہ سے آپس کے اختلافات اور مختلف معاملات پر باہمی رسہ کشی سے مقتدر جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان تناؤمزید بڑھ جاتا ہے۔ آجکل بھی ہماری سیاست نے کچھ ایسا رنگ ڈھنگ اختیار کر لیا ہے کہ نظریات کا اختلاف ذاتی دشمنیوں اور نفرتوں میں ڈھل رہا ہے۔ رواداری عدم برداشت میں بدل رہی ہے۔ بیشتر سیاسی لوگ آپس میں مل بیٹھ کر درپیش مسائل کا حل تلاش کرنے کی حکمت عملی کو بالاۓ طاق رکھ کر تنقید، مخالفت اور مخاصمت کی روش اپنا لیتے ہیں۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ملکی مسائل کو باہمی اتفاق سے حل کرنے پر توجہ نہیں دے رہے، بلکہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے مسلسل محاذ آرائی اور تو تو، میں میں کا راستہ اپناۓ ہوۓ ہیں۔ عوام کے کچھ حلقے بھی اگرچہ نا اتفاقی اور آپس کے لڑائی جھگڑوں میں الجھے رہتے ہیں، لیکن سیاست دانوں کے عداوتی وطیرے سے نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ وہ برسر اقتدار جماعتوں اور حزب اختلاف کے حلقوں، دونوں کو مورد الزام ٹہراتے ہیں۔ کیونکہ عوامی مسائل کو حل کرنے میں ناکامی سے عوام کی زندگی بہت متاثر ہو رہی ہے۔ عموماً ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری میں شدت آجاتی ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں کے خلاف مذموم بیان بازی شروع کردی جاتی ہے، جس کا فائدہ ملک دشمن عناصر اور غیر دوست ممالک اٹھاتے ہیں، اس کی وجہ سےعالمی سطح پر ہمارے ملک کی بے توقیری اور مخالفت کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔
باوجود اس امر کے کہ اس وقت ہماری حکومتی قیادت کی سفارتی ڈپلومیسی اور فیلڈ مارشل کی کامیاب فوجی حکمت عملی نے بین الاقوامی تنازعے میں مذاکرات کار کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، اور بین الاقوامی طورپر انکی تعریف و پذیرائی میں اضافه ہو رہا ہے، گزشتہ دنوں جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے، جن کو دینی اور سیاسی میدان میں قد آور اور مدبرشخصیت ، کے طور پر جانا جاتا ہے، جن کی تقاریر میں الفاظ کے محتاط استعمال میں بات کرنے والی شخصیت کا تاثر قائم تھا، حکومت اور ملکی عسکری اداروں اور شخصیات پر کڑی تنقید کی اور نامناسب جملوں کے ساتھ ان پر الزامات کی بارش کر دی۔ اس کے بعد پیپلز پارتی کے رہنما جناب بلاول بھٹو نے بھی کم و بیش اسی لہجے میں مقتدر جماعت اور فوجی اداروں کے خلاف بیان بازی شروع کر دی۔ ان کے بعد جماعت اسلامی کے سربراہ جناب حافظ نعیم نے بھی حصہ بقدر جثہ، اس سرگم میں اپنا حصہ ڈالا۔
مانا کہ عوام کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ملک بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، جس نے عوام کی کمر توڑ رکھی ہے۔ بلا شبہ اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف جنگ نے مشرق وسطیٰ اور تیل پیدا کرنے والے خلیجی ممالک کی تیل کی پیداوار کی استعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور آبناۓ ہرمز کی گزر گاہ سے تیل کے ٹینکرز کی نقل و حمل میں رکاوٹ نے تیل در آمد کرنے والے ممالک میں بحرانی کیفیت پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں لیکن اس بحران سے نمٹنے میں حکومت کی کارکردگی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ علاؤہ ازیں خوردنی اشیاء کی قیمت میں نا قابل برداشت اضافے، ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں عمودی رد و بدل، بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے، کئی علاقوں میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، تعلیم اور صحت کے میدان میں عدم کارکردگی، ملک کے اندر سیکیوریٹی کے مسائل، دہشت گردی اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال، اور بیروزگاری کے بڑھتے سیلاب کو روکنے میں ناکامی کو حکومت کی ناکامی پر محمول کیا جا رہا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حزب اختلاف اور برسر اقتدار جماعتوں کے کارپردازوں کے درمیان بڑھتی نوک جھونک سے اجتناب کرتے ہوئے سیاست میں تعمیری کردار ادا کیا جاۓ۔
فکرمندی کی بات یہ ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں نے اتفاق و اتحاد کے تقاضوں سے قطع نظر حکومت اور مقتدر اداروں کے خلاف باقاعدہ مہم جوئی شروع کر رکھی ہے۔ ادھر مقتدرہ کی جانب سے حالات کی درستی اور اصلاح احوال کے لئے بڑھتی ہوئی ابادی کے پیش نظر چھوٹے یونٹس یا مزید صوبے بنانے کی ضرورت پرتجاویز پیش کی ہیں۔ بظآہر ماسواۓ ایک سیاسی جماعت کے، دوسری جماعتیں جو ماضی میں مزید صوبے بنانے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ ان تجاویز کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔ آگے آگےدیکھئے ہوتا ہے کیا ؟ آنے والا وقت بتاۓ گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں