پاکستان کو آزاد ہوئے78 برس بیت گئے۔ان 78 برسوں میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ اس سوال کو ایک لمحہ کے لیے ضرور سوچیں، چوں کہ جب انسان سوچنا شروع کرتا ہے تو سوچ جواب کو تلاش کر لیتی ہے۔ پھر زیادہ دیر نہیں لگتی معاملہ بہت جلد ہو جاتا ہے۔ ہماری سوچ کی گرہ جتنی زیادہ مضبوط ہوگی ہمیں اسی قدر تجربات و مشاہدات رہنمائی فراہم کریں گے۔پھر ہمارا ذہن ایک ایسی سوچ پر مرکوز ہو جائے گا جہاں قومی یک جہتی جنم لے لے گی۔کیوں کہ ہم سب ایک پرچم کے سائے تلے جمع ہوتے ہیں۔ پاکستان کے جھنڈے میں دو رنگ ہیں۔پہلا سبز جو اکثریت کو ظاہر کرتا ہے جب کہ دوسرا سفید ہے جو اقلیت کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی ترقی میں گورنمنٹ ، دفاعی اداروں اور پرائیویٹ کمپنیوں کا بھی اہم کردار ہے جنھوں نے اس کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔وقت گزرتے پتہ نہیں چلتا ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہے۔جن لوگوں نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا ہے ان کا نام آج بھی زندہ جاوید ہے۔تاریخ نے ہمیشہ ان لوگوں کو یاد اور زندہ رکھا ہے۔جنھوں نے پاکستان بنانے میں اپنی جانیں قربان کرنے سے دریغ نہ کیا۔ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کے تمام شعبہ جات تعریف و توصیف کے حق دار ہیں جن کی شبانہ روز محنت کے باعث پاکستان کا نام روشن ہوا۔بات کھیل کی ہو ، دفاع کی ہو ، صحت کی ہو ، تعلیم کی ہو ، ثقافت کی ہو ، سیاست کی ہو۔ہر شعبے نے اپنی اپنی جگہ پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔اس وقت پاکستان دنیا کی ساتویں بڑی عالمی طاقت ہے جس نے اپنے حریف کو تقریبا ہر جنگ میں شکست دی ہے۔دشمن کے دانت توڑے ہیں۔قیام پاکستان سے لے کر تا حال کامیابیوں کا ایک جتھا ہے جو نسل در نسل جاری و ساری ہے۔امید ہے یہ سلسلہ رہتی دنیا تک قائم و دائم رہے گا۔آنے والی نسلیں بھی اپنے اسلاف کو یاد رکھتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں اپنا اپنا حصہ ضرور ڈالیں گی۔
گزشتہ چند سالوں سے پاکستان مشکل حالات سے گزر رہا ہے۔آئی ایم ایف کے قرضوں نے ملکی معیشت کی بنیادیں کھوکھلی کر رکھی ہیں۔مہنگائی کی لہریں جوق در جوق گزر رہی ہیں۔بے شمار کمپنیاں کاروبار بند کر کے جا چکی ہیں۔بے روزگاری خاطر خواہ بڑھ چکی ہے۔پڑھا لکھا طبقہ سب سے زیادہ پریشان ہے۔25 کروڑ آبادی میں ملازمتیں برائے نام رہ گئی ہیں۔ایک چھوٹی سی اسامی کے لیے لاکھوں درخواستیں اداروں کو موصول ہوتی ہیں جو بے روز گاری کی شرح اجاگر کرنے میں اعدادو شمار کی فہرست فراہم کرتی ہیں۔ بے روزگاری سب سے بڑا کرب ہے جو نوجوانوں کے ذہنوں پر سب سے زیادہ برا اثر ڈالتا ہے۔نفسیاتی امراض میں مبتلا کرتا ہے۔اس وقت ملکی صورت حال کافی سنگین ہے۔ملک اور عوام قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔گھروں میں فاقے اور خودکشیاں ہیں۔جرائم اور گناہ عروج پر ہیں۔ امیر سے امیر تر اور غریب ، غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔معیشت میں استحکام نہیں ہے۔موجودہ تنخواہ 40 ہزار روپے تک ہے جب کہ گھر کے اخراجات ایک لاکھ سے بھی زیادہ تجاوز کر چکے ہیں۔گیس اور بجلی کے بل اس قدر زیادہ بڑھ چکے ہیں جہاں معمولی بل بھی 10 سے 15 ہزار روپے کے قریب آرہا ہے۔ کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال بنا دیا ہے۔بہت سے لوگ جہاں سے ہجرت کر رہے ہیں۔خواتین پر ظلم و ستم اور تشدد کے واقعات بھی ان گنت ہیں جہاں انھیں ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔ جنسی دیوانگی اس قدر بڑھ چکی ہے جہاں ڈیڑھ سال کی بچی سے بھی زنا بالجبر جیسے واقعات نے قیامت کو بہت قریب بنا دیا ہے۔
یوں تو پاکستان کو ہر دور میں محب وطن لوگوں کی ضرورت ہے۔البتہ عصر حاضر میں جس شدت سے اس ضرورت کو محسوس کیا جا سکتا ہے شاید ماضی میں اتنی زیادہ ضرورت نہ تھی۔اگر یہاں ہر کوئی ایمانداری سے کام کرنا شروع کر دے تو پاکستان کا ہر دن ترقی کے سورج کے ساتھ طلوع ہوگا۔ ہمیشہ فرض شناس قومیں دنیا کے نقشے پر سرخرو ہوئی ہیں۔اگر ہم پاکستان کو ہمیشہ ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب مل جل کر اس کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ہم سب اسے امن، محبت، خوشی اور تحریک کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔اپنے حصے کی شمع روشن کر کے تاریکی اور جہالت کے کام ختم کر سکتے ہیں۔


