جوہر قابل کی تلاش یا شاہانہ زندگی/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہم جب کبھی خریداری کی غرض سے بازار یا کسی مال میں جاتے ہیں تو کپڑا لینا ہو یا جوتا، پوری طرح چھان پھٹک کرتے ہیں۔ کپڑا ہو تو اسے اپنے تن پر لگا کر قد آدم آئینے میں مختلف زاوئے سے دیکھتے ہیں۔ اس پر دل آمادہ نہ ہو تو سیلز مین کو مزید اس سے بہتر کپڑا، ڈیزائن اور کلر دکھانے کو کہتے ہیں۔ وہ بھی پسند نہ آئے تو کسی دوسرے کلاتھ اسٹور پر جا کر ایسے کپڑے کا انتخاب کرتے ہیں جو جچتا ہو، خوبصورت ہو اور پسند آ گیا ہو۔ ہم شہزادے، شاہانہ انداز میں پیسوں کو خاطر میں لاۓ بغیر قیمتی شے خریدتے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ کپڑا یا پسند کی کوئی بھی چیز ہو اس کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہوتی ہے۔ مگر چوزی خریدار کو اس کی فکر نہیں ہوتی۔ اس جستجو میں ایسا خریدا ہوا کپڑا گھر لیجا کر سب کو دکھاتے ہیں اور متاثر کرنے کے لئے بڑے فخر سے اس کی قیمت بھی بتاتے ہیں بلکہ دوسروں کو بھی ایسا ہی کپڑا خریدنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ بات ساری ذوق و شوق کے علاوہ عمدہ انتخاب کی ہوتی ہے۔ لیکن اس کے لئے بہتر مالی حیثیت ضروری ہوتی ہے۔
اسی طرح ہمیں جوتوں کی خریداری مقصود ہو تو اس کی ساخت، کوالٹی اور میٹیریل کا اچھی طرح معائنہ کرتے ہیں۔ جوتے کا اپر اور سول خاص طور پر موڑ توڑ کر دیکھتے ہیں کہ اس پر شکن تو نہیں پڑ رہے ہیں۔ پھر بھی جوتے پسند نہ آئیں توجوتوں کی برانڈڈ شاپ پر چلے جاتے ہیں۔ وہاں بھی جو جوتا سب سے عمدہ اور خوبصورت نظر آئے اسے فوری طور پر خرید لیتے ہیں۔ یہاں بھی بہترین چناؤ کا معاملہ ہوتا ہے، بے شک مطلوب شے کتنی بھی مہنگی کیوں نہ ہو۔ پہننے اوڑھنے کی چیزوں میں اچھی سے اچھی شے کی تلاش کی ہہ منشاء ہوتی ہے کہ پوشاک ہو یا پاپوش، خریدی جانے والی شے دوسروں سے منفرد نظر آۓ اور اس کی تعریف بھی ہو۔
مقصود بیان یہ ہے کہ ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارا ملک اسلامی اور جمہوری ہے۔ اس میں نظام حکومت جمہوری انداز میں چلتا ہے۔ عام انتخابات ہؤتے ہیں، اسمبلیاں بنتی ہیں۔ جن میں عوام کے منتخب نمائندے قانون سازی کرتے ہیں۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ اکثر اسمبلیاں ٹوٹ جاتی ہیں، نئی حکومتیں بنتی ہیں اور کبھی مدت پوری کئے بغیر رخصت ہو جاتی ہیں۔ کیا ہمارا نظام نا کام ہو جاتا ہے؟ نہیں! میرے خیال میں ایسا نہیں ہے ۔ نظام اسمبلیوں میں بنتے ہیں ، لیکن اسمبلیوں میں اہل بصیرت لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ لوگ کہاں سے آتے ہیں۔ یقیناً عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے ہیں۔ دیکھئے جب ہم اپنے معمولات میں اپنے لئے اچھے سے اچھے لباس, جوتے، نکٹائی، عینکییں اور جرابیں خریدتے ہیں، اس کے لئے اچھی طرح چھان پھٹک کرتے ہیں، اچھی بری چیز کی تحقیق کرتے ہیں۔ پھر اعلیٰ ترین اور عمدہ اشیاء کا اپنے لئے انتخاب کرتے ہیں۔ تو اچھے لوگ، محنتی اور دیانتدار لوگ اور قابل و اچھی شہرت رکھنے والوں کا انتخاب کیوں نہیں کرتے، سیاسی پارٹیاں بھی اس ضمن میں قصوروارہیں۔ وہ جوہر قابل کو کم اور پارتی کی وفاداری کو زیادہ دیکھ کرلوگوں کو ٹکٹ دیتی ہیں۔ پھر الیکشن میں ان ہی میں سے چناؤ ہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگوں میں وہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ سب سے بہتر اور مستحق ترین صاحب کردار نمائندے منتخب کریں۔ اس کے لئے لوگوں کا صاحب بصیرت اور صائب الراۓ ہونا ضروری ہے اور یہ وصف بہتر تعلیم سے ہی حاصل ہوتا ہے۔
لوگوں کی خوبصورت اور دل کو بھا جانے والی شے کی خریداری کے پیچھے یہ سوچ بھی کار فرما ہوتی ہے کہ ذیادہ قیمت والی چیز زیادہ پائیدار ہوتی ہے۔ کیونکہ ملحوظ نظر وہ محاورہ ہوتا ہے کہ ” مہنگا روۓ ایک بار، اور سستا روۓ بار بار” اس کے علاوه قیمت کے اعتبار سے مہنگی چیز ہی نفسیاتی طور پربہتر نظر آتی ہے۔

ہم نا صرف پہننے اوڑھنے میں ہی اعلیٰ سے اعلیٰ شے کے انتخاب کو ترجیح دیتے ہیں بلکہ کھانے پینے کے لئے بھی اچھے گوشت، اچھی سبزی اور اچھی خوراک کو لائق اعتناء سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے ہاتھ سے چن چن کر بہتر نظر آنے والے آلو، پیاز، لہسن، ٹماٹر، اور سبزی شاپرز میں ڈالتے ہیں۔ پھلوں کے ضمن میں بھی ہمارا انتخاب اچھا ہوتا ہے۔ ہماری اس عادت کے پس منظر میں یہ معاشرتی خرابی محل نظر ہوتی ہے کہ بیشتر دکاندار خریدار کی نظر چرا کر گلی سڑی سبزیاں اور پھل شاپرز میں ڈال دیتے ہین۔ گویا، ‘ دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا ‘۔
ایسا کیوں ہے کہ ہمارے تاجر حضرات، اگر سب کے سب نہیں تو ان کی کثیر تعداد اپنے کاروبار کو بارآور بنانے اوراس کو وسعت دینے کے لئے متعدد منفی حربوں پر انحصار کرتے ہیں۔ وہ سستی اور کم معیاری اشیاء کو اول درجے کی اشیاء میں شامل کرکے زیادہ نرخ پر فروخت کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی آمدنی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کے علاؤہ وہ کم ناپ تول کے ذریعے پورے ریٹ پر اشیاء بیچتے ہیں۔ اس طرح انکی آمدن بڑھ جاتی ہے۔ کچھ دکاندار اشیاء میں ملاوٹ کرکے فروخت کرتے ہیں۔ وہ خدا خوفی کئے بغیر خریداروں کی صحت سے کھیلتے ہیں۔ وہ ذخیرہ اندوزی کر کے ضرورت کے وقت ذخیرہ کیا ہوا مال مارکیٹ میں زائد منافع پہ فروخت کرتے ہیں۔ ان تمام حربوں کے پیچھے منافع خوری، ہوس، لالچ، طلب زر کی خواہش اور بد دیانتی کارفرما ہوتی ہے۔ حالانکہ فروش گاہوں اور اسواق میں دھندہ کرنے والے سب ہی ہماری طرح مسلمان ہوتے ہیں۔
جب برائیاں، بددیانتی اور خود کو ناجائز
ذرائع سے دولتمند بنانے کے حیلے پورے ملک کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں تو ہر جگہ بےبرکتی اورلوگوں کے لئے پریشانیوں کا راج ہوتا ہے۔ بارشیں ہونا بند ہو جاتی ہیں یا کثرت سے ہونے لگتی ہیں، ایسے حالات پیدا ہونے لگتے ہیں جن میں ناقابل برداشت مہنگائی اور معاشرتی دشواریاں سر اٹھانے لگتی ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ گزرے وقت میں سادگی, توکل اور دیانتداری تھی تو اسکی برکتیں بھی تھیں۔ تصنع تھی نہ بناوٹ کے کام ہوتے تھے اور نہ فیشن اور شو بازی کا مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ ہماری اس بات سے یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ وقت کے بدلنے اور بہتر حالات زندگی کی کوشش نہیں کرنی چائیے۔ البتہ اقدار کے بدلنے سے بہت سے مسائل ضرور پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں