زبان کے اچھے بُرے انوکھے رنگ / محمد کوکب جمیل ہاشمی

ہم میں سے عموماً کچھ لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جب بولتے ہیں توانکے مونہہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ جب یہ بات کی جاتی ہے تو ہم خوشی سے سرشار ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ہنگامہ خیز دور میں زبان کی حلاوت کا پھیکا پڑ جانا ایسا ہے جیسے پھیکی اور بد مزہ چاۓ زبردستی حلق سے اتاری جا رہی ہو۔ اس لئے جب بھی کوئی خوش گوار لہجے کے ساتھ بات کر رہا ہو تو اس کی گفتگو کی سر سراہٹ کانوں میں رس گھولتی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن مشکل سے یقین آتا ہے کہ پھسلتی زبان کی پھٹکار سے زخم خوردہ اجتماع میں اب بھی ایسے نادر روزگار غازی گفتار اپنا وجود رکھتے ہیں جن کے دم سے ہے یہ جہاں روشن۔

وہ جو نپی تلی، خوبصورت انداز، نرم لہجے میں، محبت بھرے الفاظ کے ساتھ لبوں پر تبسم کے موتیوں سے مرصع اور تازہ پھولوں کی مہکار دیتی بات کرتا ہے تو گمان ہوتا ہے کہ وہ یا تو اہل زبان ہے یا لکھنؤ اور مغلیہ خاندان سے نسبت صرور رکھتا ہے۔ زبان کی بے رخی اور بے معنے منفی رویوں کے بیچ یہ حقیقت جان کرایک خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ ہیں دنیا میں اور بھی لوگ زبان کے اچھے، دکھاتے ہیں جو سحر انگیزجلوے گفتگو کے۔
آج کے زمانے میں ہماری زبانیں جو سدا ہمارے جبڑوں میں مقید رہتی ہیں، آزادی کے ساتھ لفظوں اور خطابات کی ایسے نفرت انگیز بارش برساتی ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔ زبان کے ڈسے ہوۓ اس کہاوت کے ہمنوا بنے ہوۓ ہیں کہ تلوار کی کاٹ کا زخم تو بھر جاتا ہے مگر زبان کا دیا ہوا زخم نہیں بھرتا۔ لیکن یہ امر بھی لائق ستائش ہے کہ زبان کے زخم پر مرہم بھی زبان پہ رکھتی ہے۔
کچھ زبان دار باتونی حضرات آیسے ہوتے ہیں، جو اس محفل میں بھی جہاں خاموشی اختیارکرنے کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں چپ نہیں رہ پاتے۔ ان کی باتیں ناصرف خلاف ادب ہوتی ہیں بلکہ اس میں غیر ضروری تفصیل موجود ہوتی ہے جس سے اہل محفل میں اکتاہٹ اور نا پسندیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ مگر وہ موجود ماحول کو خاطر میں لاۓ بغیر بلاتوقف اور بلا تکلف بولے چلے جاتے ہیں۔ وہ اپنی علمیت جھاڑے بغیرنہیں رہ پاتے۔ انکی زبان ٹوکے کی طرح اس وقت تک کاٹ کپٹ کرتی رہتی ہے جب تک کوئی انہیں ٹوکے نہ۔

اگر دیکھا جاۓ تو زبان سے بڑھکر بد سلیقہ، بد لحاظ اور زبان درازی کرنے والا ، اور زبان سے زیادہ نرم خو، مہذب اور شائستہ گفتگو سے دل جیتنے والے انسانی عضو کوئی نہیں ہے۔ یوں یہ ہائبریڈ یعنی دوہرے کردار کی مالک ہوتی ہے۔ زبان کا ریل گاڑی کی طرح بلا توقف تیز دوڑنا کوئی خوبی کی بات نہیں۔ اصل چیز یہ ہے کہ کلام کا اظہار اس نوعیت کا ہو کہ افسردہ چہرے پہ طمانیت کے پھول کھل اٹھیں، جیسے کسی نے زخموں پہ پھایا رکھ دیا ہو۔ ہمدردی کے کرشماتی دو بول زبان سے نکلتے ہی دلوں کی سختی کو گدازاحساس میں تبدیل کر دیتے ہین۔ زبان ہی زبان (بولی)کو پروان چڑھاتی ہے۔ زبان کی بد زبانی عموماً تنازعات کو جنم دیتی ہےاورشخصیت کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔ زبان دانوں کے نزدیک زبان سے نکلے الفاظ موتیوں کی طرح قیمتی ہوتے ہیں بشرطیکہ ان میں زبانی جمع خرچ نہ ہو۔ زبان اچھی ہو یا بری اپنے بارے میں ویسا ہی امیج بناتی ہے جیسی وہ ہوتی ہے۔ بظآہر سخت زبان کا استعمال زبان دار کے رعب داب کی عکاسی کرتا ہے لیکن اہل زبان اسے پسند نہیں کرتے۔ ہم جو غلط سلط بول دوسروں سے سنتے ہیں وہ ہماری زبان کی ملکیت نہیں ہوتے۔ لیکن وہ ہرایک کی زبان پہ اس طرح آنے لگتے ہیں جیسے سب کو زبانی یاد ہو گٔۓ ہوں۔ ان کی روک تھام نہ کی جاۓ تو یہ زبان زد عام ہوجاتے ہیں۔ جیسے کہ اوۓ اور ابے۔
زبان ھنڈیا کا ذائقہ چکھنے کے کام آتی ہے، مگر بری زبان کبھی کبھی دوسروں کو مزا بھی چکھاتی ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ بری زبان استعمال کرنے والا اپنی زبان کو قابو میں رکھے ورنہ زبان بندی کا قانون حرکت میں آ سکتا ہے۔ ویسے ہمارے معاشرے میں زبان کا غیر محتاط استعمال عام ہے، باالخصوص ہماری سیاست نے بد زبانی کو اپنا دوست بنا لیا ہے۔ کچھ سیاسی لوگ جب کسی پر تنقید کرتے ہیں تو اخلاق سے گری باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دشنام طرازی اور برے ناموں سے دوسروں کو پکارنا اور تحقیرکرنا انکا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔ پھر ان کی دیکھا دیکھی عوام بھی سیر سے سوا سیر زبان درازی کرنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ شرفاء دانتوں تلے اپنی زبان دے لیتے ہیں۔ وہ زبان کا جواب زبان سے دینے کی بجاۓ خود زبان سنبھال کربات کرتے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ کاش شعلہ نوا زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنے لگیں۔ ایک اور بات جس میں ہمارے بیشتر سیاسی زعماء مبتلا ہوتے ہیں وہ یہ کہ وہ بات کرکے مکر جاتے ہیں یا زبان دے کر وعدہ خلافی کرتے ہیں۔ ان کی زبان طعن و تشنیع سے لبریز ہوتی ہے یا شائد وہ دوسروں کو بے زبان سمجھتے ہیں۔ یہی تو ہیں زبان کے اچھے برے انوکھے رنگ۔

اپنا تبصرہ لکھیں