سوشل میڈیا نے عام آدمی کو اظہارِ رائے کی جو طاقت عطا کی ہے، وہ بلاشبہ جدید دور کی ایک بڑی نعمت ہے۔ آج کوئی شخص کسی حکومتی فیصلے، سیاسی رہنما کے بیان یا عوامی مسئلے پر چند لمحوں میں اپنی رائے لاکھوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اظہارِ رائے کی آزادی ہمیں اخلاقیات سے بھی آزاد کر دیتی ہے؟ کیا سیاسی اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ ہم مخالف رائے رکھنے والے شخص کی تضحیک، کردار کشی اور تحقیر کو اپنا حق سمجھ لیں؟
یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب کسی عوامی نمائندے کے ایک سیاسی بیان کو لے کر سوشل میڈیا پر تنقید کا سلسلہ اچانک ایک ایسے طوفانِ بدتمیزی میں تبدیل ہو جائے جس میں اصل موضوع کہیں پیچھے رہ جائے اور شخصیت نشانے پر آ جائے۔
حالیہ دنوں سمیہ عطاء شہانی کے ایک پوڈکاسٹ میں دیے گئے بیان نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا 8500 روپے میں کسی گھر کا ماہانہ خرچ چل سکتا ہے؟ جواب میں انہوں نے اپنے علاقے لیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایسا ممکن ہے۔
یہ جواب یقیناً ایک سیاسی نمائندے کے طور پر سمیہ عطاء شہانی کے لیے ایک کمزور اور غیر منطقی جواب تھا۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے، جہاں ایک خاندان کے لیے خوراک، بجلی، گیس، تعلیم، علاج، لباس اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنا پہلے ہی ایک مشکل مرحلہ بن چکا ہے، وہاں 8500 روپے کو ایک خاندان کے ماہانہ اخراجات کے لیے کافی قرار دینا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔اس بیان پر تنقید ہونی چاہیے تھی، اور ضرور ہونی چاہیے تھی۔ایک منتخب عوامی نمائندے سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ عوام کی مشکلات کو سمجھے، ان کے مسائل کو محسوس کرے اور ان کی آواز ایوان تک پہنچائے۔ اگر کوئی بیان عوام کی معاشی مشکلات کی صحیح عکاسی نہیں کرتا تو صحافی، سیاسی کارکن اور عام شہری اس پر سوال اٹھانے کا مکمل حق رکھتے ہیں۔
لیکن یہاں سے ایک دوسرا اور زیادہ اہم سوال جنم لیتا ہے۔
کیا ایک سیاسی بیان کی غلطی کسی انسان کی تذلیل کا لائسنس بن سکتی ہے؟
میری نظر میں جواب قطعی طور پر ’’نہیں‘‘ ہے۔
سمیہ عطاء شہانی کا تعلق ضلع لیہ سے ہے۔ وہ ایم ایس سی زوالوجی کی تعلیم یافتہ ہیں، شعبہ تعلیم سے وابستہ رہ چکی ہیں اور تقریباً ایک دہائی سے سیاسی جدوجہد کا حصہ ہیں۔ ایک مخصوص نشست کے ذریعے پنجاب اسمبلی کی رکن بننے کے بعد انہوں نے ضلع لیہ کے مسائل کو صوبائی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔
یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ کسی سیاسی شخصیت کی تعریف کا مطلب اس کی ہر بات سے اتفاق کرنا نہیں ہوتا۔ اسی طرح کسی سیاسی نمائندے پر تنقید کا مطلب اس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا بھی نہیں ہونا چاہیے۔بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر یہی بنیادی فرق اکثر ختم ہو جاتا ہے۔
سمیہ عطاء شہانی کے 8500 روپے والے بیان کے بعد فیس بک، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر میمز، طنزیہ ویڈیوز اور تبصروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ تنقید اپنی جگہ، مگر بعض صارفین نے جس زبان اور انداز کا استعمال کیا، وہ کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔یہاں ہمیں ذرا رک کر سوچنا ہوگا۔
ہم سیاست دانوں سے شائستگی، برداشت اور اخلاقیات کی توقع کرتے ہیں، مگر کیا عوامی سطح پر ہمیں خود بھی اسی اخلاقی معیار کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے؟
اگر کسی سیاست دان کا بیان غلط ہے تو اسے اعداد و شمار سے غلط ثابت کریں۔ اگر اس کا مؤقف عوام کے مسائل سے متصادم ہے تو زمینی حقائق سامنے لائیں۔ اگر حکومت کی پالیسی ناکام ہے تو اس کے نتائج بیان کریں۔ اگر کسی نمائندے نے عوامی مسائل کو نظرانداز کیا ہے تو اسے سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کریں۔
مگر کسی عورت کی تضحیک کرنا، اس کی ذاتی زندگی کو موضوع بنانا، خاندان کو نشانہ بنانا یا غیر مہذب زبان استعمال کرنا کسی بھی صورت سیاسی شعور نہیں۔
یہ دراصل ہماری اپنی اجتماعی تربیت کا امتحان ہے۔
پنجاب میں موجودہ حکومت نے بعض شعبوں میں ایسے اقدامات کیے ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ستھرا پنجاب جیسے پروگرام اور پنجاب دھی رانی پروگرام سمیت مختلف عوامی فلاحی منصوبے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں کے مثبت پہلوؤں کو تسلیم کرنا بھی ضروری ہے۔
لیکن کسی بھی حکومت کے اچھے اقدامات کا اعتراف کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کمزوریوں پر سوال نہ اٹھایا جائے۔
جمہوریت میں حکومت کی تعریف بھی ضروری ہے اور احتساب بھی۔ اچھی کارکردگی پر تحسین ہونی چاہیے اور ناقص کارکردگی پر تنقید۔ عوامی نمائندوں کو اپنے بیانات کے لیے جواب دہ بھی ہونا چاہیے اور اپنی پالیسیوں کے نتائج کی وضاحت بھی کرنی چاہیے۔
لیکن احتساب اور تضحیک میں فرق ہے۔
یہ فرق اگر ہم نے سمجھ لیا تو شاید سوشل میڈیا کا ماحول بھی کچھ بہتر ہو جائے۔
سمیہ عطاء شہانی کو بھی اس واقعے سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ سیاست میں الفاظ انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ ایک معمولی سا جملہ بھی سیاسی طور پر بڑے معنی اختیار کر سکتا ہے۔ خصوصاً جب کوئی شخص عوامی نمائندگی کے منصب پر فائز ہو تو اس کے الفاظ صرف اس کی ذاتی رائے نہیں رہتے بلکہ انہیں اس کی سیاسی جماعت اور عوامی مؤقف کے تناظر میں بھی دیکھا جاتا ہے۔
لہٰذا عوامی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ پوڈکاسٹس، ٹی وی پروگراموں اور سوشل میڈیا گفتگو میں جواب دیتے وقت زمینی حقائق، اعداد و شمار اور عوامی جذبات کو پیش نظر رکھیں۔ سیاست میں غیر محتاط بیان بعض اوقات برسوں کی سیاسی محنت پر بھاری پڑ جاتا ہے۔
دوسری طرف سوشل میڈیا صارفین کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ وائرل ہونا اور بااخلاق ہونا دو مختلف چیزیں ہیں۔
ایک میم چند سیکنڈ میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، مگر اس کے پیچھے کسی انسان کی عزتِ نفس بھی موجود ہوتی ہے۔ ایک طنزیہ ویڈیو بنانے والے کو شاید چند ہزار لائکس مل جائیں، لیکن جس شخص کو وہ ویڈیو نشانہ بنا رہی ہوتی ہے، اس کے لیے وہ چند لمحے انتہائی تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔
ہمیں اختلاف ضرور کرنا چاہیے، سوال ضرور اٹھانا چاہیے، سیاست دانوں کا احتساب ضرور کرنا چاہیے، مگر اپنی زبان کو تہذیب کی حدود میں رکھنا چاہیے۔
آخرکار سیاست دان بھی انسان ہیں۔
ان سے غلطی ہو سکتی ہے، ان کا بیان غلط ہو سکتا ہے، ان کی پالیسی غلط ہو سکتی ہے اور ان کی سیاسی حکمتِ عملی سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ مگر ان کی غلطی ہمیں اپنی اخلاقی حدود توڑنے کا جواز نہیں دیتی۔
سمیہ عطاء شہانی کا 8500 روپے والا بیان اگر غلط تھا تو اسے غلط کہنا چاہیے۔ اسے عوام کے معاشی مسائل کے تناظر میں چیلنج کرنا چاہیے۔ ان سے وضاحت طلب کرنی چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کہیں ہم ایک غلط سیاسی بیان کی مذمت کرتے کرتے خود ایک بڑے اخلاقی جرم کا حصہ تو نہیں بن رہے؟
اختلافِ رائے جمہوریت کی روح ہے، مگر بدتمیزی جمہوریت کی روح نہیں۔
ہمیں اپنے سیاست دانوں سے بہتر زبان، بہتر کردار اور بہتر طرزِ سیاست کا مطالبہ ضرور کرنا چاہیے، لیکن اس مطالبے کے لیے ہمیں خود بھی بہتر زبان اور بہتر کردار کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
ورنہ مسئلہ صرف سمیہ عطاء شہانی کے ایک بیان کا نہیں رہے گا؛ مسئلہ ہماری پوری معاشرتی گفتگو کا بن جائے گا۔
اور شاید آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت اسی بات کی ہے کہ ہم سوشل میڈیا پر ’’وائرل‘‘ ہونے سے پہلے یہ سوچیں کہ ہماری بات دلیل بن رہی ہے یا بدتمیزی؟
کیونکہ کسی کے ایک غلط جملے کو درست ثابت کرنے کے لیے اپنی زبان کو غلط بنا لینا بھی دانش مندی نہیں۔


