آخری پہاڑ کے پار/مہ ناز رحمٰن

ہمارے طالب علمی کے زمانے میں ترقی پسند ادب اور بائیں بازو کی سیاست کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی ذہانت اور خطابت سے ہمیں متاثر کرتا تھا تو وہ جاوید جبار تھے۔ بعد میں جب انہوں نے فلم سازی کے میدان میں قدم رکھا تو ان کی پہلی فلم ”Beyond the Last Mountain“ نے ہم سب کو مزید حیرت زدہ اور متاثر کیا۔
اس کے بعد سے اپنی تحریروں، تقریروں اور سماجی، سیاسی اور ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے وہ مسلسل لوگوں کی توجہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ شاید میں اب بھی ان کے بارے میں نہ لکھتی، اگر مجھے ”زرینہ اور عابد“ نامی کتاب پڑھنے کا موقع نہ ملتا۔ پانچ مختلف مصنفین نے ان دو کرداروں کے بارے میں پانچ مختلف کہانیاں لکھی ہیں۔ پہلی کہانی جاوید جبار کی ہے، اور اسے پڑھنے کے بعد میں واقعی حیرت زدہ رہ گئی۔
جاوید جبار کا شعبۂ امراضِ نسواں (گائناکالوجی) سے کوئی تعلق نہیں، لیکن ان کی کہانی ”The Dizygotic Duo: A Never-Ever Story“ دو غیر یکساں جڑواں بہن بھائیوں، یعنی ایک بھائی اور ایک بہن، کے گرد گھومتی ہے۔ کہانی ان کے ماں کے رحم میں وجود میں آنے کے بائیسویں ہفتے سے شروع ہوتی ہے۔ وہ اپنے والدین کی گفتگو سنتے ہیں اور آپس میں بھی بات چیت کرتے ہیں۔

ابھی ہم ان کی تحریر کے سحر سے آزاد نہیں ہوئے تھے کہ بذریعہ ای میل ان کا دعوت نامہ موصول ہوا کہ پاکستان کی پہلی انگریزی فلم Beyond the last mountain کی پچاسویں سالگرہ پر وہ احباب کے لئے ایک پرائیویٹ شو کا،اہتمام کر رہے ہیں۔ہم وہاں پہنچے تو کراچی کی کون سی ایسی سماجی، ثقافتی اور صحافتی شخصیت ہو گی جو وہاں موجود نہ تھی۔ اس موقع پر ایک کتابچہ بھی شرکا،میں تقسیم کیا گیا جس کے مطابق اس فلم کا،اسکرپٹ سقوط ڈھاکہ کے سانحہ کے دو سال اور بھٹو کے صدر اور چیف مارشل لا،ایڈمنسٹریٹر بننے کے بعد لکھا گیا تھا۔1973 کا،آئین بننے کے فورا” بعد اس میں ترامیم کی گئیں ۔اس فلم میں حامد کے کردار کے ذریعے 1973 اور 1974 کے سماجی اور سیاسی ماحول کی عکاسی کی گئی ہے۔یہ فلم 1976 میں ریلیز ہوئی اور 1977 میں ضیا کا،مارشل لا آ گیا اور بھٹو کو پھانسی چڑھا دیا گیا۔اس فلم میں 1970 کے عشرے کے وسط کے لوگوں کا لائف اسٹائل، ان کی سوچ، ان کے محسوسات، پاکستان کے بارے میں ان کی تشویش ، خاص طور پر ایک خاص طبقے کے نوجوانوں کی زندگی دکھائی گئی ہے۔اس فلم کا،مرکزی کردار ایک نوجوان مرد ہے لیکن اس کے ساتھ تین خواتین کے کردار بھی اتنے ہی اہم دکھائے گئے ہیں۔اس فلم کا،ولن ایک سیاست دان ہے جو ہیرو کے باپ کو اس لئے قتل کروا،دیتا ہے کہ وہ سیاست میں اس کا حریف ثابت ہو سکتا تھا اور پھر فلم کی کہانی ہیرو کی اپنے باپ کے قاتل کی تلاش کے گرد گھومتی ہے۔جاوید جبار کا،شکریہ کہ پچاس سال پہلے ہم نے جس فلم کا اتنا چرچا،سنا تھا، بالآخر اسے دیکھ لیا۔70 کے عشرے کی خوب صورت ،ایلیٹ کلاس کی ساڑی باندھنے والی نازک اندام خواتین خاص طور پر تیکھے نین و نقش والی شمیم ہلالی کے تو،ہم نصف صدی سے مداح ہیں ، دبلے پتلے عثمان پیرزادہ ،اب انہیں اور منیزہ ہاشمی کو دیکھ کر یقین نہیں آتا،کہ یہ لوگ کبھی اتنے دبلے پتلے ہوتے تھے۔ راجو جمیل کا بھی مختصر سا کردار ہے ۔انہیں ایک فلاور شو میں توڑ پھوڑ کرتے دکھایا گیا ہے۔ ثمینہ پیر زادہ نے بتایا کہ اس فلم کی عکس بندی کے دوران ہی انہوں نے گھر سے بھاگ کر عثمان پیرزادہ سے شادی کر لی تھی ۔جاوید جبار کو پتا چلا تو انہوں نے کہا ” یہ تم نے کیا کیا” بہر حال ان کی فلم کی کامیابی پر اس حرکت کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اور پھر جاوید جبار نے یہی فلم “مسافر” کے نام سے اردو میں بھی بنائی۔ ہمیں جس پرائیویٹ شو میں مدعو کیا گیا تھا، اس کو امریکہ میں مقیم ” ٹیچ دی ورلڈ فائونڈیشن” کے پاکستانی صدر شفیق خان اور یونائٹڈ میرین ایجنسیز کے سی ای او سہیل شمس نے اسپانسر کیا تھا۔ اس موقع پر شائع کئے جانے والے کتابچے میں بتایا گیا ہے کہ اس فلم کا اسکرپٹ اس وقت لکھا گیا جب مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کے سانحے کو دو سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور پاکستانی قوم آہستہ آہستہ اس صدمے سے سنبھل رہی تھی۔ بھٹو پہلے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور پھر 1973 کا،آئین بننے کے بعد وزیر اعظم بن چکے تھے۔جنوری 1974 میں جب اسکرین پلے لکھا،جانے لگا تو یہ احساس ہو چلا تھا کہ انتخابی آمریت جمہوری لبادہ اوڑھے ہوئے ہے، جو اکثر اپنے نہایت سفاک رُخ کو آشکار کرتی رہی ہے۔ 1973 کا آئین بننے کے فوری بعد اس میں کی جانے والی ترمیم نے اس کی متفقہ طور پر بننے کی اہمیت کو گھٹا دیا۔ 1974 کی حزب اختلاف میں بھی کوئی فرشتے نہیں تھے۔لیکن شک اور خوف کی بنا پر ان کے ساتھ اختلاف رائے کے حوالے سے جو رویہ اپنایا گیا اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔اس فلم میں 1973 اور 1974 سیاسی اور سماجی ماحول کے کچھ پہلوؤں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگست 1974 میں فلم کی عکسبندی شروع ہونے کے بعد نومبر 1974 میں احمد رضا قصوری کے والد نواب قصوری کے قتل کا واقعہ پیش آیا اور یوں اتفاقیہ طور پر فلم اور حقیقی زندگی کے درمیان مماثلت پیدا ہو گئی۔لیکن 1974 میں فلم کی پروڈکشن سے لے کر 1976 میں اس کی ریلیز تک کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ 1977 میں ضیا ا لحق کا مارشل لا لگ جائے گا اور 1974 کا الم ناک ں وزیر اعظم ذوالفقار بھٹوکے عدالتی قتل کی وجہ بن جائے گا۔چالیس سال بعد جا کے سپریم کورٹ نے اعتراف کیا کی بھٹو کی پھانسی انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھی۔اس فلم میں سیاسی تناظر میں نصف صدی پہلے کے
ذاتی اور سماجی مسائل کی عکاسی کی گئی ہے۔شکریہ جاوید جبار

اپنا تبصرہ لکھیں