اگر آپ اسٹاک مارکیٹ کو صرف ہندسوں کا کھیل اور کمائی کا دھندہ سمجھتے ہیں، تو آپ بہت بڑی غلطی کر رہے ہیں۔ یہ خوفناک مارکیٹ مارکیٹ دراصل انسانی جذبات، خوف اور توقعات کا ایک زندہ خون چوسنے والا نظام (System) ہے۔یاد رکھیں! سٹاک مارکیٹ میں انے والے یہ اتار چڑھاؤ اصل میں کمزور ہاتھوں سے مال چھین کر بڑے مگر مچھروں کو منتقل کرنے کا عمل ہوتے ہیں۔ میرے یہ چند الفاظ محض تحریر نہیں ہیں بلکہ یہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہے جو لالچ میں ا کر ٹریڈنگ کی دنیا میں گھسنا چاہتے ہیں۔ جبکہ ٹریڈنگ کی دنیا میں یہ بات عام ہے کہ یہاں 90 فیصد لوزر ہوتے ہیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر سٹاک ایکسچینج کے بارے میں بہت سی ایپس اور اشتہارات چل رہے ہیں بہت سے لوگ اپنے اپنے زور خطابت پر ان کے فضائل بیان کر رہے ہوتے ہیں اور لوگوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ اپنی بچت اس میں انویسٹ کریں ۔ اور اور بتا رہے ہوتے ہیں فلاں وقت کی کی ہوئی انویسٹمنٹ کی اب اتنی ویلیو ہو گئی ہے ۔ اور فلاں شیئر کا یہ منافع ہے فلاں شیر کا وہ منافع ہےوغیرہ وغیرہ۔۔۔
سوال یہ ہے کہ ایا اسٹاک ایکسچینج سے واقعی لوگ کماتے ہیں یا یہ صرف ایک متھ ہے۔۔ ڈاکٹر اسرار نے تو اسے باقاعدہ سود قرار دیا ہے۔مجھے تو لگتا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کا کاروبار جوئے سے بھی بڑا ایک خطرناک کاروبار ہے جو بعض اوقات تو انسان کو ایک ہی جھٹکے میں کنگلا کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ جوئے کے بارے میں مثل مشہور ہے کہ جوئے میں جواری کبھی نہیں جیتتا صرف نال اٹھانے والا جیتا ہے۔ اور سٹاک ایکسچینج کے کاروبار میں نال اٹھانے والے لوگ بروکریج کمپنیاں ہیں چاہے اپ ہاریں چاہے جیتیں چاہے اپ فروخت کریں یا خریدیں وہ اپنا کمیشن کھرا کر لیتی ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ سٹاک ایکسچینج کو صرف جوا کیوں کہا جائے بلکہ جوئے سے بھی زیادہ خطرناک کیوں قرار دیا جائے ۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خریدو فروخت کا کام ہوتا ہے جن کی قیمت کبھی بڑھتی ہے کبھی کم ہو جاتی ہے۔ایک عام ٹریڈر اگرچہ اسے مکمل اندازہ نہیں ہوتا لہذا وہ ایک عام جواری کی طرح انہی چیزوں کی قیمتوں کے کم یا زیادہ ہونے پر داؤ لگاتا ہے اور جیسا کہ انسانی نفسیات ہے جواری ہمیشہ جیتنے کی آس پر داؤ لگاتا رہتا ہے اور اخر میں سب کچھ جھاڑ کے اٹھ جاتا ہے۔۔ سٹاک ایکسچینج میں بھی شیئرز کی قیمتوں کو عین اسی طرح کنٹرول کر کےجوا کھلایا جاتا ہے ۔۔ پہلے تھوڑا جتا دیا پھر ہرا دیا ۔۔ پھر جتا دیا اور اخر میں مارکیٹ کریش کر کے پورا ہی رگڑا دے دیا جاتا ہے
میں نے سٹاک میں کبھی کسی کو جیتتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے بروکریج کمپنیوں کے (جو شئیر بیچنے اور خریدنے پر دونوں طرف سے کمیشن لیتی ہیں) ۔۔ہاں البتہ اپنی جائیدادیں دکانیں ضرور بیچتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہی بروکریج کمپنیاں شیئرز کے بھاؤ بڑھاتی ہیں کم کرتی ہیں ۔سٹے بازیاں کرتی ہیں اور اخر میں چند بڑے بڑے بروکر اور ارب پتی سے کھرب پتی ہوتے جاتے ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں ایک عام ٹریڈرز اپنے کمائی لٹا کر ایک کونے میں ہو جاتا ہے۔۔ یا پھر ان تمام شیئرز میں سے گنتی کے چند ایک شیئر اپنے پاس رکھ کر اس کی قیمتیں بڑھنے کا انتظار کرتا ہے یا چند روپے کا ڈویڈنڈ آنے پر خوش ہو رہا ہوتا ہے۔ جبکہ اصل مال کی کمائی انہی سٹے بازوں کی ہو رہی ہوتی ہے۔
اصل میں مالیاتی منڈیاں (چاہے وہ اسٹاک مارکیٹ ہو، کرپٹو کرنسی ) کسی انسان کے لئے ایک ایسے سراب کی طرح ہیں جس میں اسے لگتا ہے یہ اسے راتوں رات امیر بنا دیں گی۔ ہر ٹریڈر منافع کمانے کے لیے مالیاتی چارٹس پر خود کو ایکسپرٹ سمجھ کر ان کی ان دیکھی گہرائیوں میں غوطہ لگانا چاہتا ہے، لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ مارکیٹ کا اصل کھیل اعداد و شمار کا نہیں بلکہ انسانی نفسیات اور خوف کا ہے۔میں نے فنڈز، اسٹاکس، کرپٹو کی دنیا میں دھکے کھانے والے دیکھے ہیں۔ کرپٹو کی دنیا میں اکاؤنٹ کو ایک ہی جھٹکے میں “صفر” ہوتے بھی دیکھا ہے۔ پھر اس کے بعد لوگوں کو پاگل ہوتے ہیں یا خودکشیاں کرتے دیکھا ہے۔لیکن چند مگر مچھوں کے علاوہ کسی کو بھی پھلتے پھولتے نہیں دیکھا۔
میں سٹاک مارکیٹ میں پھنسنے والوں سے یہ ضرور کہوں گا کہ یہ جو اشتہار دینے والے افراد ہیں اور سٹاک مارکیٹ کی اتنی فضیلت بیان کر رہے ہیں ان سے یہ ضرور پوچھیں کہ وہ کم سے کم کوئی 100 ڈیڑ سو افراد ایسے ضرور دکھائیں جو صرف سٹاک کا ایکسچینج سے شئیر بیچ کر کروڑ پتی بنے ہوں۔ جب کہ میں ہزاروں ایسے افراد دکھا سکتا ہوں جو سٹاک ایکسچینج کی وجہ سے اپنی تمام پونجی سے محروم ہو گئے۔۔۔!!!


