پاکستانی سیاست کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما اکثر سیاسی اختلاف اور ذاتی دشمنی کے درمیان موجود لکیر مٹا دیتے ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب اختلاف دشمنی، دشمنی انتقام اور انتقام ذاتی حملوں تک پہنچ جائے تو معاملہ صرف سیاست کا نہیں رہتا بلکہ ریاست، جمہوریت اور معاشرتی اقدار کا سوال بن جاتا ہے۔
آج پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے کی شدید سیاسی مخالف ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان الزامات، مقدمات، گرفتاریوں اور سیاسی انتقام کے دعوے ایک عرصے سے جاری ہیں۔ لیکن اس صورتِ حال کو صرف آج کے واقعات سے دیکھنا بھی مناسب نہیں۔ اس کی جڑیں گزشتہ کئی برسوں کی سیاست میں موجود ہیں۔
یہ بات تلخ ضرور ہے، مگر حقیقت بھی ہے کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد اکثر حکومتیں سیاسی مخالفین کے لیے مشکلات پیدا کرتی رہی ہیں۔ عمران خان کے دورِ حکومت میں مسلم لیگ ن کی قیادت اور اس سے وابستہ متعدد رہنماؤں کو مقدمات، گرفتاریوں اور احتسابی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس وقت مسلم لیگ ن کا مؤقف تھا کہ اسے سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ حکومت کا جواب تھا کہ یہ احتساب ہے اور قانون اپنا راستہ اختیار کر رہا ہے۔
پھر وقت بدلا، حکومت بدلی اور حالات نے پلٹا کھایا۔
آج عمران خان اور تحریک انصاف کے کئی رہنما مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف اسے سیاسی انتقام قرار دیتی ہے، جبکہ حکومت اور اس کے حامی اسے قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہےکہ اگر کل سیاسی انتقام غلط تھا تو آج بھی غلط ہے۔
یہ اصول کسی ایک جماعت کے لیے نہیں ہوسکتا۔ اگر مسلم لیگ ن کے خلاف سیاسی انتقام غلط تھا تو تحریک انصاف کے خلاف بھی سیاسی انتقام غلط ہے۔ اگر عمران خان کے دور میں اپوزیشن کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانا غلط تھا تو آج اقتدار میں موجود جماعت کی طرف سے وہی طرزِ عمل بھی غلط ہے۔
دو غلطیاں مل کر ایک درست عمل نہیں بناتیں۔
بدقسمتی سے ہماری سیاست میں ایک عجیب منطق پروان چڑھ چکی ہے: جب ہمارے مخالف کے ساتھ کارروائی ہوتی ہے تو ہم اسے احتساب کہتے ہیں، اور جب یہی کارروائی ہمارے خلاف ہوتی ہے تو اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں۔ یہی دوہرا معیار پاکستانی جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
اس سیاسی کشمکش کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی اختلاف بعض اوقات اس حد تک ذاتی ہوجاتا ہے کہ مخالف سیاست دان کی بیماری بھی مذاق بن جاتی ہے۔
کسی سیاسی رہنما کی پالیسی پر تنقید کیجیے، اس کی کارکردگی پر سوال اٹھائیے، اس کے فیصلوں کو غلط ثابت کیجیے، انتخابات میں اسے شکست دینے کی کوشش کیجیے، لیکن کسی انسان کی بیماری کو سیاسی طنز کا موضوع بنانا ایک انتہائی افسوسناک رویہ ہے۔
بیماری کسی سیاسی جماعت کی رکن نہیں ہوتی۔
آج اگر عمران خان بیمار ہیں تو ان کے سیاسی مخالفین کو ان کی بیماری کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ اسی طرح کل اگر کسی مسلم لیگی رہنما کو بیماری لاحق ہو تو تحریک انصاف کے کارکنوں کو بھی اس کا مذاق نہیں بنانا چاہیے تھا۔
ہمیں یہ اصول شخصیتوں کے مطابق نہیں بلکہ انسانیت کے مطابق طے کرنا ہوگا۔
عمران خان کے موجودہ علاج اور طبی سہولیات کا معاملہ اسی سیاسی ماحول میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ان کے اہلِ خانہ اور تحریک انصاف کی طرف سے ان کی صحت اور علاج کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا، جبکہ حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ انہیں طبی معائنہ اور ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایسی صورتِ حال میں کسی بھی غیر جانب دار شخص کے لیے مناسب راستہ یہ نہیں کہ وہ بغیر طبی ثبوت کے حکومت یا تحریک انصاف میں سے کسی ایک کے دعوے کو حتمی سچ قرار دے۔
اس مسئلے کا حل سیاسی بیانات نہیں بلکہ شفاف اور آزاد طبی معائنہ ہے۔
اگر عمران خان کی صحت واقعی تشویشناک ہے تو انہیں بہترین ممکنہ علاج ملنا چاہیے۔ اگر وہ طبی طور پر مستحکم ہیں تو مستند طبی رپورٹ کے ذریعے یہ بات واضح کی جانی چاہیے۔
اس سے نہ صرف عمران خان اور ان کے خاندان کے خدشات دور ہوں گے بلکہ حکومت پر لگنے والے الزامات کا جواب بھی شفاف طریقے سے مل جائے گا۔
اس معاملے کا ایک اہم پہلو عدالتی احکامات بھی ہیں۔
ریاست میں عدالت کا حکم اس وقت تک قابلِ احترام ہونا چاہیے جب تک اسے قانونی طریقے سے تبدیل یا معطل نہ کیا جائے۔ اگر حکومت کو کسی عدالتی حکم پر سکیورٹی یا انتظامی اعتراض ہے تو اس کے لیے قانونی راستہ موجود ہے۔ عدالت سے رجوع کیا جاسکتا ہے، نظرثانی کی درخواست دی جاسکتی ہے یا مناسب قانونی وضاحت طلب کی جاسکتی ہے۔
لیکن اگر عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے بارے میں عوام میں سوال پیدا ہونے لگیں تو اس سے صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ پورے نظامِ انصاف پر اعتماد متاثر ہوتا ہے۔
یہ اصول عمران خان کے لیے بھی وہی ہونا چاہیے جو کسی دوسرے سیاسی رہنما کے لیے ہے۔
کیا جمہوریت صرف انتخابات کا نام ہے؟
ہم ہر چند سال بعد انتخابات کراتے ہیں اور پھر فخر سے کہتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ لیکن جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔
جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہے کہ حکومت اپنے مخالفین کو اختلاف کا حق دے، قانون سب کے لیے برابر ہو، عدالتیں آزادانہ فیصلے کرسکیں، ریاستی ادارے سیاسی جماعتوں کے خلاف استعمال نہ ہوں اور اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے مخالف کو دشمن نہ سمجھے۔
اگر ہر حکومت یہ سمجھنے لگے کہ اقتدار ملنے کے بعد اسے اپنے سیاسی مخالفین کو دیوار سے لگانے کا حق حاصل ہوگیا ہے تو پھر ہم جمہوریت نہیں بلکہ اقتدار کی باری کا نظام قائم کر رہے ہیں۔
آج مسلم لیگ ن اقتدار میں ہے، کل کوئی دوسری جماعت ہوسکتی ہے۔ اگر آج ہم ایسا اصول بناتے ہیں جو اپنے مخالف کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں تو یاد رکھنا چاہیے کہ کل یہی اصول ہمارے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے۔
مسلم لیگ ن کے لیے بھی سبق، تحریک انصاف کے لیے بھی
مسلم لیگ ن کو یہ سوچنا ہوگا کہ جس سیاسی انتقام کی شکایت وہ ماضی میں کرتی رہی، اگر آج وہی شکایت تحریک انصاف کی طرف سے سامنے آ رہی ہے تو اسے محض سیاسی پروپیگنڈا کہہ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔
اسی طرح تحریک انصاف کو بھی اپنے ماضی کا دیانت داری سے جائزہ لینا ہوگا۔ اگر اس کے دور میں کسی سیاسی مخالف کے ساتھ زیادتی ہوئی، اسے غیر ضروری مقدمات کا سامنا کرنا پڑا یا ریاستی طاقت کا غلط استعمال ہوا تو اس غلطی کو بھی غلط کہنا چاہیے۔
جمہوریت کا مطلب یہ نہیں کہ “جو ہمارے ساتھ ہوا وہ ظلم تھا، لیکن جو ہم اپنے مخالف کے ساتھ کریں وہ احتساب ہے۔”
جمہوریت کا اصل اصول ہے:
جو غلط ہے، وہ ہمارے لیے بھی غلط ہے اور مخالف کے لیے بھی۔
سیاست میں دشمنی نہیں، اختلاف چاہیے
پاکستان کو ایسے سیاسی کلچر کی ضرورت ہے جہاں سیاسی رہنما ایک دوسرے کو دشمن نہیں بلکہ مخالف سمجھیں۔
نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری یا کسی بھی دوسرے سیاسی رہنما کی سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، مگر کسی کی انسانی عزت ختم نہیں کی جاسکتی۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ سیاست مستقل نہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اقتدار آتا جاتا رہتا ہے، لیکن ملک اور ریاست باقی رہتے ہیں۔
اگر آج ایک جماعت اقتدار میں ہے اور دوسری جیل میں، تو کل صورتحال اس کے برعکس بھی ہوسکتی ہے۔ اس لیے سیاسی رہنماؤں کو ایسے اصول قائم کرنے چاہئیں جن کا فائدہ صرف انہیں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ہو۔
پاکستانی سیاست کو آج سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ کسی نئی سیاسی جماعت یا نئے نعرے کی نہیں بلکہ سیاسی اخلاقیات کی ہے۔
کل اگر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کے خلاف سیاسی انتقام غلط تھا تو آج تحریک انصاف کے رہنماؤں کے خلاف بھی سیاسی انتقام غلط ہوگا۔ کل کسی سیاسی رہنما کی بیماری کا مذاق اڑانا غلط تھا تو آج عمران خان کی بیماری کا مذاق بھی غلط ہے۔ کل عدالتی حکم کو نظرانداز کرنا غلط تھا تو آج بھی غلط ہے۔
ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ قانون شخصیت نہیں دیکھے گا، انصاف جماعت نہیں دیکھے گا اور انسانی حقوق سیاسی وابستگی نہیں دیکھیں گے۔
کیونکہ اصل جمہوریت وہ نہیں جس میں صرف انتخابات ہوں؛ اصل جمہوریت وہ ہے جس میں اقتدار بدلنے کے باوجود اصول نہیں بدلتے۔
اور اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت مضبوط ہو تو ہمیں ایک دن یہ کہنا ہوگا:
سیاسی مخالف دشمن نہیں، شہری ہے؛ اقتدار انتقام کا اختیار نہیں، امانت ہے؛ اور قانون دوست و دشمن دونوں کے لیے برابر ہے۔


