گزشتہ ہفتے پنجاب میں نیشنل مینارٹی ویک منایا گیا جس کا اختتام 11 اگست کو قومی اقلیتی دن کے موقع پر ہوا، اس دوران صوبائی وزیر پنجاب برائے اقلیتی امور اور انسانی حقوق سردار رمیش سنگھ اروڑہ کی جانب سے وزیر اعلی ٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر مختلف تقریبات کا انعقاد کیا گیااس سلسلے میں ایک ایک منفرد “ہیرٹیج فوٹوواک” کا انعقاد بھی شامل تھا جس میں تقریباً 120 طلبہ، فوٹوگرافرز اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
فوٹو واک کے دوران شرکا نے لاہور میں موجود اہم مذہبی اور تاریخی مقامات کا دورہ کیا، جن میں گرجا گھر، ایک ہندو مندر اور سکھوں کا گردوارہ شامل تھے۔ اس سرگرمی کا مقصد صرف تاریخی عمارتوں کو دیکھنا نہیں تھا بلکہ پاکستان میں آباد مختلف مذہبی برادریوں کی روایات اور ثقافتی ورثے کو سمجھنا بھی تھا۔
فوٹو واک کا آغاز کے لاہور کےتاریخی چرچ” سیکرڈ ہارٹ کیتھیڈرل” سے ہوا . اس تاریخی چرچ کاافتتاح 19 نومبر 1907ء کو کیا گیا تھا۔ یہ رومن بازنطینی طرز پر بیلجیم کے ایک معمار ایڈورڈ ڈوببلیئرز نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس چرچ کا ڈیزائن اتنا شاندار اور منفرد تھا کہ اس کی بدولت معمار نے فنِ تعمیر کا عالمی شہرت یافتہ “گرینڈ پرکس ڈی روم” کا پہلا انعام جیتا تھا۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ آپ چرچ کے بیرونی و اندرونی طرزِ تعمیر کو دیکھ کر ورطۂ حیرت میں چلے جاتے ہیں اور معمار کے لیے واہ، شاندار کے الفاظ زبان سے نکلتے ہیں۔
چرچ کی کھڑکیوں کے لیے خوبصورت رنگین شیشے خصوصی طور پر بیلجیم سے تیار کروا کر بحری جہازوں کے ذریعے منگوائے گئے تھے۔ چرچ کے اہم حصوں، محرابوں اور فرش کے لیے استعمال ہونے والا کچھ مخصوص سنگِ مرمر اور دھاتی سامان بھی بیلجیم سے امپورٹ کیا گیا تھا۔تاہم کچھ سال قبل لاہور میں ایف آئی اے زونل آفس پر حملے کے دوران اس چرچ کی کھڑکیوں کو نقصان پہنچا جن کی دوبارہ مرمت کی گئی۔ بہرحال اس عمارت کا شاہکار دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس میں رکھے گئے مختلف مجسموں وغیرہ کے بارے میں وہاں ایک پادری نے تفصیل سے سمجھایا۔ برصغیر میں عیسائیت کی تاریخ اور عیسائی طرزِ عبادت اور بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے تفصیلی اور مدلل گفتگو کی۔
اس کے بعد شرکا کو ڈبل ڈیکر بسوں کے ذریعے مال روڈ پر واقع پروٹسٹنٹ فرقے کے مرکزی گرجا گھر”کیتھیڈرل چرچ آف دی ریسوریکشن” لایا گیا۔ اسے چرچ آف پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔اس تاریخی عمارت کی تعمیر 25 جنوری 1887ء کو مکمل ہوئی۔ اسے جارج گلبرٹ اسکاٹ اور بیٹے نے مل کر تعمیر کیا تھا۔ 1898 میں ، عمارت کے دو لمبے ٹاورز کی لمبائی میں اضافہ کر دیا گیا ۔بائیں جانب والے ٹاور میں ایک گھڑی اور ایک گھنٹی جبکہ دائیں جانب میں 6 قدیم گھڑیاں نصب ہیں ۔اندر موجود ہال میں 20 سے زائد بلند و بالا پلرز ہیں۔ہال 226 فٹ لمبا، 152 فٹ چوڑااور تقریبا 65 فٹ اونچا ہے۔اس میں 800 سے زائد افراد کے بیٹھنے کی گنجائش موجود ہے۔اس کی تعمیر میں سرخ اینٹوں اور سرمئی پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے سب سے اونچے مرکزی حصے پر ہوا کا رخ بتانے والا ایک مرغ نما آلہ بھی نصب تھا، جس کی وجہ سے لاہوریوں نے اسے “ککڑ گرجا” کہنا شروع کر دیا۔ اس چرچ کا سب سے بڑا تاریخی اثاثہ وہ قدیم صلیب ہے جو 1935ء میں ٹیکسلا کے قریب قدیم شہر سرکپ کی کھدائی کے دوران ملی تھی۔ چرچ میں ایک تاریخی گھڑی بھی نصب ہے جو 1862ء کی بنی ہوئی ہے۔ اس کی کھڑکیوں پر بائبل کے مناظر کو ظاہر کرتے ہوئے خوبصورت رنگین شیشے لگائے گئے ہیں، جو گوتھک تعمیرات کی خاص پہچان ہیں۔
علاوہ ازاں اس چرچ میں برطانوی ملکہ الزبتھ دوم اور پرنس فلپ نے 13 فروری 1961ء کو تاریخی دورہ کیا تھا۔ چرچ میں موجود گیسٹ بک پر ان کے تاثرات کا عکس بھی دکھایا گیا۔ اس کے علاوہ موجودہ برطانوی کنگ چارلس سوم نے ملکہ کمیلا کے ہمراہ 2 نومبر 2006ء کو تاریخی کیتھیڈرل کا دورہ کیا تھا۔
اس کے بعد شرکا کو ریلوے اسٹیشن کے قریب واقع لاہور کے تاریخی “نولکھا چرچ” لایا گیا۔یہ چرچ اوپر بیان کیے گئے دونوں چرچ سے زیادہ پرانا ہے،جس کی بنیاد برطانوی دور میں 1853ء میں امریکن پریسبائٹیرین مشن کے زیرِ اہتمام رکھی گئی تھی۔ اس کا سنگِ بنیاد ریورنڈ ولیم موریسن اور ان کی اہلیہ اینا موریسن نے رکھا تھا۔ یہ چرچ پچھلے 170 سال سے زائد عرصے سے فعال ہے اور پنجاب میں پریسبائٹیرین فرقے کی سب سے بڑی اور پرانی عبادت گاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
اگر بات کی جائے اس کے طرزِ تعمیر کی تو اس کی عمارت اینٹوں سے بنی ہوئی ہے، جس میں گوتھک ریوائیول کے آثار جھلکتے ہیں۔ اس چرچ کی چھتیں بلند اور محرابیں نوک دار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کا منفرد گنبد نما ٹاور دور سے دکھائی دیتا ہے، جو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔اس چرچ کی خاص بات یہ ہے کہ اس نے لاہور کے اندر تعلیم و صحت کے شعبے میں تاریخی کام کیے ہیں۔ لاہور کا مشہور فارمین کرسچن کالج اور رنگ محل اسکول اسی مشنری تحریک کے تحت قائم کیے گئے تھے، جس کا یہ چرچ ایک اہم مرکز رہا ہے۔
نولکھا چرچ کے بعد شرکا کو راوی روڈ پر ٹمبر مارکیٹ کے سامنے گلی میں واقع تاریخی “سری کرشنا مندر” مندر لیجایا گیا،جہاں پنڈت جی نے وفد کو خوش آمدید کہا۔اس دوران پنڈ ت کی جانب سے شرکا کو مندر کی تاریخی و ثقافتی اور مذہبی اہمیت کے حوالے سے بتایا گیا، پنڈت کے بقول یہ مندر اس وقت لاہور میں ہندو برادری کی سب سے بڑی اور اہم فعال عبادت گاہ ہے جہاں دیوالی، ہولی اور جنم اشٹمی جیسے تہواروں کے دوران یہاں خصوصی تقریبات منعقد ہوتی ہیں، جن میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کرتے ہیں۔
فوٹو واک کے اگلے مرحلے میں گردوارہ ڈیرہ صاحب کا دورہ بھی تھا، جہاں سکھ برادری نے شرکا کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں لنگر پیش کیا۔ مختلف مذاہب اور پس منظر رکھنے والے افراد نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا۔ اس سادہ روایت نے مساوات، بھائی چارے اور انسانیت کا مضبوط پیغام دیا۔ شرکا نے سکھ مذہب کی عبادات کا بھی احترام کے ساتھ مشاہدہ کیا اور مذہبی رسومات کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے انہیں سمجھنے کی کوشش کی۔
اس موقع پر شرکا نےگردوارے کی بائیں جانب واقع سیڑھیوں سے چڑھ کر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی کا دورہ بھی ۔ 1839ء میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ان کی چتا یہیں جلائی گئی اور یہ سمادھی تعمیر کی گئی، جو سکھ فنِ تعمیر کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔
اس کے بعدشرکا نے شاہی قلعہ کا دورہ کیا جہاں صوبائی وزیر برائے انسانی حقوق و اقلیتی امورسردار رمیش سنگھ اروڑہ نے شرکاء سے گفتگو کی اور مذہبی ہم آہنگی پر زور دیا۔ انھوں نے ایک بڑا دلچسپ اور انوکھا انکشاف کیا کہ پنجاب میں چودہ اقلیتیں موجود ہیں، یعنی ہندو، سکھ، عیسائی، قادیانی، بدھ مت اور جین مت کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگ بھی آباد ہیں، مگر وہ سماجی دباؤ کے باعث اپنی شناخت پوشیدہ رکھتے ہیں۔ تاہم اب وہ صوبائی حکومت کی طرف سے دیے گئے اقلیتی کارڈز سے مستفید ہو رہے ہیں اور حکومت ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
لاہور کی اس فوٹو واک نے عملی طور پر یہ پیغام دیا کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد ایک دوسرے کی عبادت گاہوں کا دورہ کر سکتے ہیں،ایک ساتھ کھانا کھا سکتے ہیں، ایک دوسرے کی روایات کو سمجھ سکتے ہیں اور امن کے ساتھ رہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ ملک ہم سب کا ہے اس کو بنانے میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کا بھی ہاتھ ہے، اور ہم ایسا ہی پاکستان چاہتے ہیں جس کا وعدہ قائد نے دستور ساز اسمبلی میں 11 اگست کو کی جانے والی تاریخی تقریر میں کیا تھا۔
الغرض یہ ہیرٹیج فوٹو واک لاہور کی تاریخی اور مذہبی ورثے کی اس حقیقت کی خوبصورت عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی اصل پہچان اس کی رنگا رنگ ثقافت، مذہبی تنوع اور صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ میں پوشیدہ ہے۔ مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کا احترام، ایک دوسرے کی روایات کو سمجھنے کی کوشش اور مل جل کر آگے بڑھنے کا جذبہ ہی ایک پُرامن اور مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔ مذہبی ہم آہنگی محض تقریبات یا نعروں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اسے روزمرہ زندگی میں برداشت، احترام اور مساوی شہری حقوق کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔


