سندھ کے مقیم ڈاہری کی خاموش قبروں کا نوحہ/عارف خٹک

یہ کلہوڑو خاندان کا شاہی قبرستان ہے، جو دولت پور، نواب شاہ نیشنل ہائی وے سے تقریباً پندرہ کلومیٹر جنوب میں، مقیم ڈاہری کے مقام پر واقع ہے۔
تاریخی دستاویزات کے مطابق میاں نور محمد کلہوڑو 1719ء میں کلہوڑا خاندان کے چوتھے حکمران بنے اور مغل دربار سے “خدا یار خان” کا خطاب پایا۔ انہوں نے اسی خطے میں محمد آباد کے نام سے ایک شہر آباد کیا، جو آگے چل کر کلہوڑو سلطنت کا انتظامی، ثقافتی، دفاعی اور تہذیبی مرکز بنا۔ میاں نور محمد کلہوڑو نے سندھ کے ایک وسیع خطے پر اپنی حکمرانی قائم کی۔

مگر آج اسی شہر کا نام و نشان تک باقی نہیں۔ جہاں کبھی اقتدار کے فیصلے ہوتے تھے، جہاں علم و تہذیب کے چراغ جلتے تھے، جہاں ایک عہد اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ زندہ تھا، آج وہاں چند خستہ حال قبریں خاموش کھڑی ہیں۔ یہ قبریں شاید قبریں نہیں، سندھ کے شاندار ماضی کے آخری ماتمی نشان ہیں۔

آج مقیم ڈاہری موجودہ ڈاہری قبیلے کی سرکردگی کا علاقہ ہے۔ ڈاہریوں کے کلہوڑو سلطنت سے بھی گہرے سیاسی اور ازدواجی تعلقات رہے۔ روایت کے مطابق 1720ء کے آس پاس ڈاہری قبیلے کی خاتون مائی گلان ڈاہری کی شادی کلہوڑو حکمران میاں نور محمد کلہوڑو سے ہوئی، جن کے بطن سے میاں غلام شاہ کلہوڑو پیدا ہوئے۔ غلام شاہ کلہوڑو نے 1758ء سے 1772ء تک سندھ پر حکمرانی کی اور کلہوڑا عہد کے نمایاں حکمرانوں میں شمار ہوئے۔

مگر تاریخ کے پہیے نے کروٹ لی۔وہ شہر جو کبھی جیتا جاگتا تھا، آج اس کی پرچھائیاں تک دکھائی نہیں دیتیں۔ محل کہاں گئے؟ بازار کہاں گئے؟ وہ گلیاں کہاں گئیں جن میں زندگی دوڑتی تھی؟ وہ لوگ کہاں گئے جن کے قدموں کی چاپ اس شہر کو آباد رکھتی تھی؟۔۔۔۔بس چند قبریں رہ گئیں اور وہ بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ ٹوٹتی ہوئی اینٹیں، جھڑتی ہوئی دیواریں، مٹتے ہوئے نقوش اور وقت کی گرد میں دبتی ہوئی قبریں جیسے آنے والی نسلوں سے پوچھ رہی ہوں
“کیا یہی وہ سندھ ہے جس نے صدیوں تک تہذیب کو سینچا تھا؟

کیا یہی وہ دھرتی ہے جس نے بادشاہوں کو جنم دیا، صوفیوں کو پناہ دی اور علم و محبت کے چراغ جلائے؟ کیا ہمارا ماضی اتنا بے قیمت ہوگیا ہے کہ اسے یوں ہی ملبے میں دفن ہونے دیا جائے؟”
سندھ، جو صوفیوں کی دھرتی رہی، جہاں محبت نے مذہب کی دیواریں توڑیں، جہاں شاہ لطیف نے انسان کو انسان سے جوڑنے کا درس دیا، جہاں روشن خیال اور صوفی منش حکمرانوں نے اپنے عہد کی تاریخ رقم کی، آج اپنے ہی ورثے کے ملبے پر کھڑا نوحہ کناں ہے۔
یہ قبریں خاموش ضرور ہیں، مگر ان کی خاموشی میں ایک چیخ پوشیدہ ہے۔ یہ چیخ کسی ایک حکمران، کسی ایک ادارے یا کسی ایک حکومت کے خلاف نہیں یہ ہم سب کے اجتماعی بے حسی کے خلاف نوحہ ہے۔
سندھ کا ورثہ صرف پتھر، اینٹیں، گنبد اور قبریں نہیں۔ یہ سندھ کی شناخت ہے۔ یہ سندھ کی تاریخ ہے۔ یہ سندھ کی آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔ اگر سندھ حکومت نے آج ان خستہ حال قبروں کی آواز نہ سنی تو کل شاید ہمارے پاس اپنی تاریخ سنانے کے لیے صرف قصے رہ جائیں گے، نشانیاں نہیں۔ اور پھر آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی
“تمہارے پاس تاریخ تھی، تہذیب تھی، ورثہ تھا۔۔۔ھر تم نے اسے بچایا کیوں نہیں؟”

مقیم ڈاہری کی یہ خاموش قبریں آج بھی جواب کی منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں