تہران سے۔۔از محمد فاروق نتکانی

تہران میں اس بار توپ نہیں بولی بات ہوئی ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ کبھی ایک جملہ وہ کام کر جاتا ہے جو توپ کے ہزار گولے نہیں کر سکتے۔ ایرانی صدارتی امورِ ابلاغ کے عہدیدار سید مہدی طباطبائی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورۂ تہران محض رسمی سلام دعا نہیں تھا اس میں ’’اہم سفارتی کامیابیاں‘‘ حاصل ہوئی ہیں۔ جن لوگوں نے اس سفر کو بے نتیجہ قرار دے کر اپنی سیاسی دوربین صاف کرنا شروع کر دی تھی، انہیں ایرانی ترجمان نے ایک بار پھر عینک درست کرنے کا مشورہ دے دیا ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، قومی سلامتی کے اہم ذمہ دار محسن رضائی اور وزیر داخلہ اسکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ساتھ تھے۔ موضوعات معمولی نہ تھے خصوصاً جنگ کا پھیلاؤ روکنا، آبنائے ہرمز کھولنا اور واشنگٹن و تہران کے درمیان مذاکرات کی راہ نکالنا۔

یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کتنی ملاقاتیں ہوئیں اصل سوال یہ ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے کتنے دروازے کھلے؟ ایرانی صدارتی عہدیدار نے صاف کہا کہ دورہ ’’انتہائی نتیجہ خیز‘‘ تھا اور اس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔ سفارت کاری کی دنیا میں یہ جملہ خاصا معنی خیز ہوتا ہے۔ کیونکہ جو بات اخبار میں پہلے دن چھپ جائے وہ خبر ہوتی ہے اور جو بات وقت آنے تک چھپائی جائے وہ اکثر سفارت کاری ہوتی ہے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی پر بھی بات ہوئی۔ جون میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے چودہ نکاتی فارمولہ سامنے آیا تھا مگر جنگ کی آگ نے کاغذ کی سیاہی کو بھی دھواں بنا دیا۔ اب پاکستان پھر اسی راکھ میں سے امن کی کوئی چنگاری تلاش کر رہا ہے۔

محسن نقوی نے ’’نمایاں پیش رفت‘‘ کی خبر دی ہے۔ یہ خبر اگر حقیقت بن گئی تو اسلام آباد کی سفارتی حیثیت محض ثالث کی نہیں رہے گی. وہ دو متحارب قوتوں کے درمیان ایک ایسے پل کی صورت اختیار کر سکتا ہے جس پر سے گزرنے کے لیے دونوں فریقوں کو اپنی انا کا کچھ بوجھ اتارنا پڑے گا۔

جنگ نے ایران میں تین ہزار تین سو سے زیادہ جانیں لے لی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش نے دنیا کی معیشت کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف میزائل ہیں دوسری طرف منڈی. ایک طرف بارود ہے، دوسری طرف مذاکرات۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تہران سے اسلام آباد جو پیغام لایا ہے، وہ محض سفارتی الفاظ کا پلندہ ہے یا واقعی جنگ کے میدان میں امن کا راستہ کھولنے والی کلید؟

تاریخ کے فیصلے پریس کانفرنسوں میں نہیں ہوتے۔ کبھی ایک بند دروازہ کھلتا ہے، کبھی ایک ضد ٹوٹتی ہے، کبھی ایک دشمن ہاتھ بڑھاتا ہے۔ پھر دنیا پوچھتی ہے: امن شروع کہاں سے ہوا تھا؟
ممکن ہے آنے والے دنوں میں جواب ملے
تہران سے۔

اپنا تبصرہ لکھیں