ہنوز دلی دور است/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

کہتے ہیں زمانے کے انداز بدلے گئے۔ کیا واقعی؟ لگتا تو ہے کہ سب کچھ بدلا بدلا سا ہے۔ کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔ سب کچھ ویسا کا ویسا ہی ہے۔ کبھی گمان ہوتا ہے کہ تعلیم و ہدایت نے انسان کو ترقی اور کامیابی کے دور میں داخل کردیا ہے، اور کبھی یہ تاثر ملتا ہے کہ جب سے نئی ٹیکنالوجی آئی اور سائنس نے ترقی کی ہے دنیا کی تباہی و بربادی کا سامان پیدا ہو گیا ہے۔ یہ ہیبت ناک تبدیلی ہے جس سے ہم گزر رہے ہیں۔ آئیے تبدیلی اور عدم بدلاؤ کے اس سفر کا جائزہ لیتے ہیں۔

انسان کے چہرے بشرے وہی کے وہی ہیں، جو پہلے ہوا کرتے تھے۔ وہی سر اور پیر، باوجود اس کے کہ ان کی باتوں کا سر نہ پیر ہوتا ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے والے وہی دو دو ہاتھ، وہی ناک میں دم کرنے والی ایک ستواں یا پھنی ناک جو پہلے تھی، سو اب بھی ہے۔ دوسروں کو کانوں کان خبر نہ ہونے دینے والے دو کان، سماعتوں کی دکان سجاۓ اب بھی وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جو ہر کسی کی بات پہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسروں کے کان کترنے والی زبان دراز، زبان، یہ جبڑوں کے بیچ مقید ہونے کے باوجود اب بھی جو جی میں آئے کہنے کو آزاد ہے۔ اور ہماری طوطا چشم آنکھیں اب بھی مطلب براری کے لئے دوسروں کے لئے بچھی چلی جاتی ہیں، اب بھی اسی طرح موقع پرستی کو بے چین و بیقرار رہتی ہیں۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑانے والی دو ٹانگیں ابھی بھی ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کے بیٹھی تماشہ دیکھ رہی ہیں۔۔ پہلے بھی نفوس بدلہ لینے والے ہوا کرتے تھے۔ سو اب بھی ہیں۔ دوسروں کے پیر پڑ کے، کام نکلوانے والے جو ہر جگہ موجود تھے وہ ابھی بھی عنقا نہیں ہوئے۔ وہی سر پھروں کا ہجوم سر پھوڑنے کی باتیں کرتا ہے۔ گردن پہلے بھی کٹا کرتی تھیں، وہ اب بھی تن سے جدا کی جارہی ہیں۔ کیا کچھ بدلا ہے؟ ہاں! پانی ضرور بدل گیا ہے۔ پہلے شفاف ہوتا تھا اب گدلا ہے۔ کوئی مانے نہ مانے یہ اعمال کا بدلہ ہے۔ بلکہ یوں کہہ لیں کہ ادلے کا بدلہ ہے۔

کئی نکتہ دانوں کی نظر میں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ جو اچھے تھے مزید اچھے نہیں ہوۓ۔ کچھ کہتے ہیں کہ برسوں بیت گئے، انسان وہی کا وہی ہے، کچھ تبدیلی اور عدم تبدیلی کے متوسط راستوں کے راہی کہتے ہیں کہ انسان اپنی ہیئت میں وہی کا وہی ہے مگر، پتا نہیں کیوں انسان کا کردار بدل گیا ہے۔ سوچ اور خیال بدل گیا ہے، شائد اس کا حال بدل گیا ہے۔ مزاج بدل گئے۔ طور طریقے بدل گئے۔ سونے، جاگنے کے لیل و نہار بدل گئے ہیں۔ رسوم و رواج بدل گئے، رنگ و انداز بدل گئے۔ نئے راگ ہیں اور ساز بدلے گئے۔ جسکا گورا رنگ ہے، اسکی اپنی ترنگ ہے۔ جس کے ہاتھوں میں سنگ ہے، وہی دبنگ ہے۔ طاقت ہے جس کے پاس، وہ مائل بہ جنگ ہے۔ یہ ہیں فرضی معیارات جن کے طفیل، انسان نے بہترین ہونے کا معرکہ جیت لیا ہے۔ غرور نے بھی بازی جیت لی ہے۔ شہرت نے سب کو اپنا ہی پروانہ بنا رکھا۔ حسن نے دنیا کو دیوانہ بنا رکھا ہے۔ پیسے سے امیر معتبر ہے۔ پھر بھی دوسرے کے مال پہ نظر ہے۔ جھوٹ کا کاروبار چل رہا ہے ہر سو، کہیں ٹونا ہے کہیں جادو۔ جو جی چاہے کریں یہ مٹی کے مادھو۔ ہر طرف لب و رخسار کی باتیں ہیں، چال بازوں کے لبوں پہ پیار کی باتیں ہیں۔ تھال سجے ہیں ملاوٹ کے، دھندے چل رہے ہیں بناوٹ کے۔ دھوکہ دیتے ہیں کاریگر کھلا، کام اپنا دکھاتے ہیں بازیگر کھلا۔ رنجش ہے، دشمنی ہے، مخاصمت ہے۔ سوچ میں کجی اور منافرت ہے۔ اب رہ گیا کیا بدلنے کو؟

احوال ضرور بدلے ہیں۔ موسم بھی بدلے ہیں۔ درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ بارشیں بڑھ گئیں ہیں۔ سردیاں بڑھ گئیں ہیں۔ گرمیاں بڑھ گئیں ہیں۔ انسان مطلب پرست ہو گیا ہے۔ حرص اور طمع میں اضافہ ہو گیا ہے۔ پر بات پہ لڑنا۔ اپنی ضد پہ اڑنا، اکڑنا جھگڑنا۔ فضولیات میں پڑنا، دولت کمانے کے لئے کچھ بھی کر گزرنا، کہی کو مکرنا اور مکر پہ مکرکرنا۔ دوسروں پہ برسنا، دنگا فساد کرنا، بے ڈھنگوں کو چاہنا، اچھوں کو بد نام کرنا۔ یہ ہے بدلاؤ جو پہلے نہ تھا یا کم تھا۔ سفاکیت نے اچھے اور برے کے فرق مٹا دیا ہے۔ طاقت و جبر اور ظلم و تعدی نے بےحس بنا دیا ہے۔ امریکا ہو یا برطانیہ، نیٹو ہو یا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سب نے تباہی کے سامان کئے۔ جھوٹے الزامات پر عراق پہ چڑھائی کر دی، لیبیا کی ٹھکائی کر دی، شام کی دھنائی کر دی۔ افغانستان کی دھلائی کر دی۔ اب ایران پہ نظریں گڑی ہوئی ہیں۔ اسرائیل نے غزہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ستر ہزار فلسطینیوں اور اہل غزہ کو شہید کر دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم کی نئی داستانیں رقم کر دیں۔ یہ سب بے سبب و بے وجہ ہو رہا ہے۔

ایک وقت تھا نظاموں میں جمہوریت کے گن گاۓ جاتے تھے۔ راۓ عامہ کی قدر تھی۔ آزادیوں اور حقوق کی پہچان تھی۔ مگر اب جمہوری قدریں پامال ہو رہی ہیں۔ جمہوری اداروں کی رگوں میں طاقت کے مراکز کی طرف سے خون کی ڈرپس لگائی جائیں تو وہ چل پاتے ہیں۔ جمہوریت براۓ نام رہ گئی ہے نفرتوں کا، لڑائی جھگڑوں کا، مال بنانے کا۔ اقتدار کو طول دینے کے لئے بندوں کی خرید و فروخت کا۔ اس جمہوریت میں مادر پدر آزادی کا مطلب ملکی مفاد کو پس پشت ڈالنا، بد امنی اور ہنگامہ خیزی کو فروغ دینا، بد عنوانی اور گھپلوں سے مال بنانا ،سڑکیں بند کرنا، ملکی معیشت کو نقصان پہنچانا، جرائم کا ارتکاب کرنا۔ گرفت ہونے پر بے گناہی اور معصومیت کا ڈھنڈورا پیٹنا۔ ایسی جمہوریت ہم جیسے غریب ملکوں کو وارا نہیں کھاتی۔ جمہوریت کا موجودہ تصور محض اللے تللے۔ جو کسی بھی غریب ملک کے لئے ناقابل برداشت۔ اس سے کہیں بہتر مستعد، سیکیوریٹی اور دفاعی ضرورتوں کو پورا کرنے والی غیر منتخب مگر راست قیادتوں کی حکومتیں کامیابی کے ساتھ کام کرتی اور ملک کو ترقی سے ہم کنار کرتی ہیں۔ ہمارے سیاستدانوں کو پہلے جمہوریت کے شعور اور آگہی کی کلاسیں اٹینڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری تقاضوں کو سمجھنے اور جمہوری مزاج کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ اس کا فقدان جمہوریت کو فقط نقائص اور فساد کا گہوارا بنا دیتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ تبدیلی آ نہیں رہی، آ گئی ہے۔ مگرلگتا ہے ابھی نہیں ائی۔ ہنوز دلی دور است۔ جب تک بلٹ ٹرین نہیں چلے گی فاصلے برقرار رہینگے اور دلی دور ہی رہے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں