کسی عظیم شخصیت کی یاد منانے کا سب سے خوب صورت طریقہ یہ ہے کہ اس کی تعلیمات کی روشنی ہمارے کردار تک پہنچے۔ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت انسانی تاریخ کا وہ واقعہ ہے جس نے صرف ایک زمانے کو نہیں بدلا بلکہ انسان کے تصورِ زندگی، اخلاق، معاشرت، عدل اور ذمہ داری کو ایک نئی معنویت عطا کی۔ یہ وہ انقلاب تھا جس نے انسان کو محض قبیلے، نسل، دولت اور طاقت کی شناخت سے نکال کر انسان ہونے کی بنیاد پر عزت دی۔ اسی لیے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کو اگر صرف ایک تاریخی خوشی یا سالانہ مذہبی تقریب بنا دیا جائے تو شاید ہم اس واقعے کی اصل روح کو بہت محدود کر دیتے ہیں۔
عرب کا وہ معاشرہ جس میں کمزور کی آواز طاقتور کے قدموں تلے دب جاتی تھی، عورت کی حیثیت متنازع تھی، غلام انسان ہونے کے باوجود انسانی حقوق سے محروم تھا اور قبائلی تفاخر نے معاشرے کو چھوٹے چھوٹے تعصبات میں تقسیم کر رکھا تھا، وہاں ایک ایسی شخصیت جلوہ گر ہوئی جس نے انسان کو انسان کے سامنے جھکنے سے نکال کر خالق کے سامنے جھکنا سکھایا۔ آپ ﷺ نے یہ تصور مضبوط کیا کہ شرافت خون کی میراث نہیں، کردار کی کمائی ہے،عزت منصب کی محتاج نہیں، تقویٰ اور اخلاق سے پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ پیغام تھا جس نے معاشرے کی بنیادوں کو بدل دیا۔ آج جب ہم اپنے نام، خاندان، عہدے، دولت اور تعلقات پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں دیکھنا چاہیے کہ ہم نے اس پیغام سے حقیقتاً کیا حاصل کیا۔
میلاد کی محفل میں رسولِ رحمت ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے ہماری زبانیں محبت کے دعوے سے بھر جاتی ہیں، مگر زندگی کے معمولات میں اس محبت کا عکس کہاں دکھائی دیتا ہے؟ اگر ملاوٹ موجود ہو، دھوکا عام ہو، حق تلفی ہو، کمزور کی آواز دبائی جائے، پڑوسی تکلیف میں ہو اور ہم محض اس لیے بے خبر رہیں کہ مسئلہ ہمارا نہیں، تو پھر ہمیں اپنے جشن اور اپنے عمل کے درمیان موجود فاصلے کو ضرور محسوس کرنا چاہیے۔ محبت صرف عقیدت کا اظہار نہیں، اطاعت کی ذمہ داری بھی ہے۔ جس ہستی نے امانت، دیانت، رحم، عدل اور حسنِ سلوک کو زندگی کا حصہ بنایا، اس سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے رویوں میں بھی ان اقدار کی خوشبو محسوس ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا ایک عظیم پہلو یہ ہے کہ آپ نے تبدیلی کا آغاز انسان کے اندر سے کیا۔ آپ نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں عبادت اور اخلاق الگ الگ دائرے نہیں تھے۔ مسجد سے نکلنے والا انسان باہر بھی وہی خدا ترسی، گھر میں بھی وہی رحم اور مخالف کے سامنے بھی وہی انصاف لے کر جاتا تھا۔ آج ہماری بڑی آزمائش یہی ہے کہ ہم نے دین کو بعض اوقات ظاہری علامتوں تک محدود کر دیا ہے، جبکہ سیرتِ طیبہ انسان کے باطن اور ظاہر دونوں کی اصلاح کا مطالبہ کرتی ہے۔ زبان پر درود ہو اور زبان ہی سے کسی کی عزت پامال ہو جائے، ہاتھ میں تسبیح ہو اور ہاتھ ہی کسی کا حق روک لے، تو یہ تضاد ہمیں اپنے اندر تلاش کرنا چاہیے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں کمزور انسان کے لیے غیر معمولی شفقت ملتی ہے۔ یتیم، مسکین، غلام، بیوہ، مسافر اور محتاج معاشرے کے حاشیے پر موجود کردار نہیں تھے بلکہ انسانی معاشرے کی ذمہ داری تھے۔ یہی وجہ ہے کہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں صرف خوشی نہیں دیتا، ایک اخلاقی سوال بھی ہمارے سامنے رکھتا ہے،ہمارے اردگرد کتنے لوگ ایسے ہیں جنہیں ہماری توجہ، مدد یا صرف ایک عزت بھری نظر کی ضرورت ہے؟ ہم بڑے بڑے اجتماعات میں محبت کا اظہار کرتے ہیں، مگر کیا ہماری گلی کا غریب، ہمارے محلے کا بیمار، ہمارے دفتر کا نچلے درجے کا ملازم اور ہمارے خاندان کا بے سہارا فرد بھی ہماری اس محبت کا حصہ ہے؟
آج کی نئی نسل ایک ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم، رابطے بہت ہیں مگر تعلق کم، آوازیں بہت ہیں مگر سننے والے کم۔ ایسے دور میں سیرتِ رسول ﷺ نوجوان نسل کے لیے محض مذہبی مضمون نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی رہنمائی بن سکتی ہے۔ آپ ﷺ نے نوجوانوں کو اعتماد دیا، ذمہ داریاں سونپیں اور ان کی صلاحیتوں کو پہچانا۔ اگر ہم واقعی نئی نسل کو سیرت سے جوڑنا چاہتے ہیں تو صرف تقریری مقابلے اور چند روزہ تقریبات کافی نہیں ہوں گی۔ ہمیں ان کے سوالات سننے ہوں گے، انہیں دلیل سے سمجھانا ہوگا اور اپنے کردار سے وہ نمونہ دکھانا ہوگا جس کی وہ پیروی کر سکیں۔ بچے نصیحت سے کم اور مثال سے زیادہ سیکھتے ہیں۔
ریاست اور معاشرہ بھی اس پیغام سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ اگر انصاف کمزور کے لیے مہنگا اور طاقتور کے لیے آسان ہو، اگر تعلیم طبقاتی تقسیم پیدا کرے، اگر علاج دولت کی استطاعت سے مشروط ہو اور اگر قانون کی گرفت انسان کے مرتبے کو دیکھ کر ڈھیلی یا سخت ہو جائے تو پھر رحمتِ عالم ﷺ کے قائم کردہ اخلاقی تصورِ معاشرہ پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ آپ ﷺ نے انصاف کو تعلقات، طاقت اور مفاد کا تابع نہیں بنایا۔ یہی اصول آج بھی کسی صحت مند معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
میلادِ مصطفیٰ ﷺ دراصل انسان کی تجدید کا موقع بھی ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تاریخ کے سب سے بڑے انقلاب ہمیشہ ہتھیاروں سے نہیں آتے، بعض انقلاب ایک سچے کردار، ایک عادلانہ رویے، ایک معاف کر دینے والے دل اور ایک ایسی زبان سے جنم لیتے ہیں جو سچ بولنے کا حوصلہ رکھتی ہو۔ اگر ایک فرد اپنے گھر میں ظلم کم کر دے، ایک تاجر اپنے کاروبار میں دیانت لے آئے، ایک افسر اپنے اختیار کو امانت سمجھنے لگے، ایک استاد اپنے شاگرد کو صرف نمبر نہیں بلکہ انسان سمجھ کر تربیت دینے لگے اور ایک نوجوان اپنی صلاحیت کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرنے لگے تو شاید یہی میلاد کا سب سے بامعنی تحفہ ہوگا۔
رسولِ اکرم ﷺ کی محبت کسی ایک دن کی کیفیت نہیں۔میلادکی محفل ختم ہونے کے بعد اگر ہمارے دل بھی ویسے ہی خالی ہو جائیں جیسے چراغ بجھنے کے بعد گلی، تو پھر جشن کی روشنی کہاں گئی؟ میلاد کی اصل روح اس وقت زندہ ہوگی جب درود ہماری زبان سے اتر کر ہمارے معاملات میں آئے گا، جب سیرت کتاب سے نکل کر کردار بنے گی اور جب محبتِ رسول ﷺ ہمارے لیے دوسروں کے حقوق کا احترام بن جائے گی۔
شاید سب سے خوب صورت میلاد وہ ہے جس کے بعد ایک انسان پہلے سے بہتر انسان بن جائے۔ جس گھر میں سختی کم اور محبت زیادہ ہو، جہاں والدین اولاد کو سمجھیں، اولاد والدین کی عزت کرے، جہاں پڑوسی ایک دوسرے کا سہارا بنیں، جہاں اختلاف دشمنی نہ بنے اور جہاں طاقتور کمزور کے حق کی حفاظت کرے، وہاں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ محض بیان نہیں رہتی، زندگی بن جاتی ہے۔ ہمیں اپنے جشن کو کم کرنے کی نہیں، اس کے مفہوم کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔


