آج کے اس تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں میڈیا کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ پرنٹ میڈیا اپنی سابقہ حیثیت بڑی حد تک کھو چکا ہے، جبکہ الیکٹرانک میڈیا بھی بڑھتی ہوئی کمرشلائزیشن اور مختلف نوعیت کے دباؤ کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں سوشل میڈیا اور مکالمہ جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم عوام کے لیے اپنی آواز بلند کرنے کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آئے ہیں۔
مکالمہ میرے لیے محض ایک ویب پلیٹ فارم نہیں بلکہ اظہارِ رائے کی ایک ایسی کھڑکی ہے جہاں مختلف طبقات، علاقوں اور نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ اپنی بات دنیا تک پہنچا سکتے ہیں۔
میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور میں گزشتہ دس برس سے مکالمہ کے لیے لکھ رہا ہوں۔ جب سے مکالمہ نے اپنے سفر کا آغاز کیا، میں نے گلگت بلتستان، ریاست جموں و کشمیر، پاکستان کے سیاسی، سماجی، انسانی حقوق اور دیگر اہم معاملات پر مسلسل لکھا ہے۔ میرے لیے یہ بات ہمیشہ قابلِ قدر رہی کہ مکالمہ نے میرے خیالات کو محض اس بنیاد پر روکنے یا تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کسی مخصوص پالیسی یا بیانیے سے مختلف ہیں۔ یہی مکالمہ کی اصل طاقت ہے۔
ایسے معاشرے میں جہاں اظہارِ رائے کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہوں، وہاں کسی پلیٹ فارم کا مختلف آوازوں کو جگہ دینا ایک بڑی صحافتی اور سماجی خدمت ہے۔ خصوصاً ان علاقوں اور قوموں کی آواز کو سامنے لانا، جن کے مسائل عموماً مین اسٹریم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں مناسب جگہ نہیں پاتے، ایک قابلِ تحسین عمل ہے۔
مکالمہ ایک طرح سے معاشرے کا آئینہ ہے۔ یہاں ہمیں سیاست، تعلیم، معیشت، انسانی حقوق، سماجی مسائل، ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلی، انسانی صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر مختلف زاویوں سے پڑھنے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف معلومات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ بہت سے ایسے مسائل بھی سامنے آتے ہیں جو عام طور پر میڈیا کی ترجیحات میں شامل نہیں ہوتے۔
مکالمہ کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں سے تعلق رکھنے والے لکھاری اس پلیٹ فارم سے جڑے ہوئے ہیں۔ مختلف موضوعات پر ان کے کالم اور تجزیے قارئین کو ایک وسیع تر عالمی تناظر فراہم کرتے ہیں، جبکہ کرنٹ افیئرز اور حالاتِ حاضرہ سے متعلق مواد بھی یہاں پڑھنے کو ملتا ہے۔
میرے نزدیک مکالمہ عوام کی آواز ہے ، سماج کی آواز ہے، انسانی حقوق کا ترجمان اور آزادی صحافت کی فروغ کیلئے ایک اعلیٰ کوشش ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں اگر ایک پلیٹ فارم لوگوں کو اظہارِ رائے کی آزادی اور مناسب جگہ فراہم کرے تو وہ معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے ۔
مکالمہ کے دس سال دراصل صرف ایک ادارے یا پلیٹ فارم کے دس سال نہیں، بلکہ مختلف آوازوں، مختلف خیالات اور مختلف معاشرتی مسائل کو جگہ دینے کے دس سال ہیں۔
میری دعا ہے کہ مکالمہ اپنے اس سفر کو مزید آگے بڑھائے، ڈیجیٹل میڈیا کے نئے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور اپنی رسائی کو مزید وسیع کرے اور مستقبل میں بھی ان آوازوں کو جگہ دیتا رہے جو اکثر نظر انداز کی جاتی ہے ۔
مکالمہ کی پوری ٹیم کو دس سال مکمل ہونے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات ۔
مکالمہ زندہ رہے، مکالمہ آگے بڑھے، اور عوام کی آواز اسی طرح دنیا تک پہنچاتا رہے۔
نیک خواہشات اور دعاؤں کیساتھ ۔


