نجی اسکولوں کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ/شہباز الرحمن خان

حکومتِ سندھ کو نجی اسکولوں میں طلبہ کے لیے مخصوص یونیفارم، مونوگرام اور مخصوص کتابوں کی لازمی خریداری کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ پہلے ہی مہنگائی کے موجودہ دور میں متوسط طبقے کے لیے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم دلانا ایک بڑا مالی چیلنج بن چکا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار اور سہولیات کے مسائل کے باعث والدین، اپنی استطاعت سے بڑھ کر، اپنے بچوں کو نجی اسکولوں میں داخل کرانے پر مجبور ہیں۔
مسئلہ صرف ماہانہ فیس تک محدود نہیں۔ والدین کو مہنگی یونیفارم، مونوگرام، مخصوص اسٹیشنری اور ایسی کتابیں خریدنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے جو اکثر مخصوص اسکول یا ادارے سے ہی حاصل کرنا ضروری ہوتی ہیں۔ اس عمل سے والدین پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے اور تعلیم ایک بنیادی ضرورت کے بجائے مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات کا ذریعہ بنتی جا رہی ہے۔
حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ نجی اسکولوں کو مخصوص مونوگرام والی کتابیں لازمی قرار دینے اور غیر ضروری طور پر مخصوص دکانداروں یا اداروں سے یونیفارم خریدنے کے عمل کو ریگولیٹ کرے۔ اگر طالب علم کی شناخت مقصود ہے تو موجودہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس کا کہیں زیادہ مؤثر اور کم خرچ انتظام کیا جا سکتا ہے۔
آج کے دور میں کمپیوٹرائزڈ حاضری، بارکوڈ یا QR کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ، ڈیجیٹل اسٹوڈنٹ آئی ڈی اور دیگر جدید سافٹ ویئر سسٹمز دستیاب ہیں۔ اسکول کے داخلی دروازے پر ڈیجیٹل حاضری اور شناخت کا نظام بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعے طالب علم کی شناخت، حاضری اور دیگر ضروری ریکارڈ محفوظ طریقے سے مرتب کیے جا سکتے ہیں، بغیر اس کے کہ والدین پر مہنگی اور مخصوص یونیفارم یا مونوگرام کا غیر ضروری بوجھ ڈالا جائے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کے شعبے میں اپنی موجودگی اور نگرانی کا مؤثر احساس دلائے۔ نجی اسکولوں کو تعلیم فراہم کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اس کے ساتھ والدین کے مالی حقوق اور مفادات کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتِ سندھ نجی اسکولوں کی فیس، یونیفارم، کتابوں، اسٹیشنری اور دیگر لازمی اخراجات کے حوالے سے واضح اور مؤثر ضابطہ کار بنائے، تاکہ متوسط طبقے کے والدین کو غیر ضروری مالی دباؤ سے نجات مل سکے اور تعلیم واقعی ایک قابلِ رسائی بنیادی ضرورت بن سکے۔

اپنا تبصرہ لکھیں