لفظ مکالمہ کا مفہوم ہے کلام کرنا، بات چیت، گفتگو، رائے دینا اور اظہار خیال کرنا ہے۔ مگر یہاں ہم ایک ایسے مخصوص مکالمے سے متعلق بات کر رہے ہیں اور ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کا ذکر کر رہے ہیں، جس کی دسویں سالگرہ یکم ستمبر 2026 کو منائی جا رہی ہے۔ یہ مستی جانب سے سب متعلقین کو بہت بہت مبارک ہو۔ مکالمہ ایک ایسا منفرد پلیٹ فارم ہے جس میں ہمارے بیشتر مشہور و معروف یا کچھ غیر مقبول پیشرو افراد کسی بھی موضوع پر اپنے مضمون کو، خواہ وہ خود موضوع شدہ ہو یا دلیل و حوالہ جات کی چیٹ پرمبنی ہو موزوں و مناسب انداز مین ‘ پلیٹ ‘ میں چاٹ کی طرح سجا کر اسے پوری’ فارم ‘ کے ساتھ مکالمے کے پلیٹ فارم پر پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ پیشکشیں، جو کسی بھی مرد و عورت کی جانب سے تحریری یا آڈیو/ ویڈیو کی صورت میں منظر عام پر لائی جاتی ہیں، انتہائی غیر متعصب انداز میں، منافرت سے پاک لیکن موافق و اختلافی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہیں، اور ہر خاص و عام کو مدعو کرتی ہیں کہ وہ بھی اس کے بارے میں مناسب اور موزوں ملفوظات کے ساتھ اپنے مفہوم اور متوازن راے کا اظہار کریں۔
راقم جو ” مکالمے ” کی چھک چھک کرتی، آن لائن دوڑتی ٹرین کا نووارد مسافر ہے، محسوس کرتا ہے کہ مکالمے کا پلیٹ فارم, جو اب باقاعدہ ایک ادارے کی صورت اختیار کر چکا ہے، ناصرف معروف لکھنے والوں اور بات کہنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے بلکہ انکے نقطہ ہائے نظر کو بلا کم و کاست، جوں کا توں ۔مکلمے میں شائع کردیتا ہے۔ مکالمے میں ہر مکتب فکر کی جانب سے متنوع موضوعات، مثلا ملکی سیاست، سائنسی ایجادات، اطلاعات، مذہبی اعتقادات، اردو، انگریزی لٹریچر کی مکتوبات پر نقد و نظر اور تجزیات، تصنیفات، شاعری، افسانے، طنز و مزاح بین الاقوامی امور، معرکوں، جنگوں، معاشرتی و معاشی مسائل اور دیگر ادبی نگارشات سمیت انہونے واقعات اور تہذیبوں کے افتراق سے متعلق موضوعات نیز کسی بھی قلمرو کے خواص و ا ختلافات پر قلمکاروں کی تخلیقات بمع تحفظات اس ادارے کا حصہ بنتی ہیں۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ مکالمہ منتخب خبروں کے ذریعے، لوگوں کی متلاشی آنکھوں کو آگاہی دیتا ہے۔ اس کام کے ساتھ لکھنے والوں کے مزاج کی تسکین کے لئے پڑھنے والوں اور ملاحظہ کرنے والوں کی تعداد مناظرکے روپ میں مہیا کی جاتی ہے۔ اس سی کسی بھی پوسٹ کی قبولیت و اہمیت اور معیار کا پتہ چلتا ہے۔ مکالمے کی پوری ٹیم اخلاص ، محنت اور لکھنے والوں سے رابطے کے ضمن میں لائق تحسین خدمات سر انجام دے رہی ہے۔ بہتر آن لائن رسائی کو ملحوظ نظر رکھتے ہوۓ ترتیب و تزئین کی خاطر متواتر نئی ویب سائٹس ارتقائی منازل طے کر رہی ہے، جن کی وجہ سے کبھی کبھار اشاعتی امور سرسری طور پر تعطل کا شکار بھی ہو جاتے ہیں۔ ادارہ مکالمہ سے وابستہ چیف ایڈیٹر، ایڈیٹوریل بورڈ، نیوز ایڈیٹر سمیت جملہ خواتین و حضرات، ٹیکنیکل ٹیم اور ویب ایڈیٹرز جس جاں فشانی، مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ ہمہ وقت مصروف عمل رہتے ہیں، اس پر وہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ لکھنے والوں کے لئے ادب و احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا انکا طرہ امتیاز ہے۔ اگرچہ ادارہ مکالمہ اس نوع کے دیگر اداروں میں ممتاز مقام رکھتا ہے، اس کے باوجود اس میں اصلاح و ترمیم کی مسلسل ضرورت رہتی ہے۔
راقم کی اس سلسلے میں ایک تجویز ہے کہ اس معروف ادارے کی ممبر شپ کا مناسب فیس کے ساتھ آغاز کیا جانا چاہئے۔ اس کی بدولت اس میں اپنی نگارشات اور تجزیاتی مشاہدات پیش کرنے والے ناصرف ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں گے بلکہ مکالمے کے بڑھتے ہوۓ اخراجات کی ادائی میں مدد ملے گی۔ اس طرح مکالمے کا دامن مزید وسعت اختیار کر سکے گا۔
اردو ادب کے حوالے سے یہاں شعراء کی عدم دلچسپی محسوس کی جارہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ عصر حاضر کے مشہور شعراء کا کلام اور انکا تفصیلی تعارف مکالمے کا حصہ بنے۔
مکالمے کی ویب میں کافی عرصے سے پرانے عنوانات اور انکی تصویری جھلکیاں زیادہ عرصے تک موجود رہتی ہیں جن کو متواتر دیکھتے رہنے سے نظروں میں اکتاہٹ اور عدم دلچسپی محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس سلسلے میں ایک پالیسی کے تحت کسی بھی مواد کو طویل مدتی ڈسپلے کی بجاۓ اوسط مدت کے لئے اشتہاری مضامین کے طور پہ شائع ہوں۔
کیا یہ ممکن ہے کہ مکالمے کو رونق بخشنے والے اور خامہ فرسائی کرنے والے، کم از کم پاکستان میں قیام کرنے والوں کے چیدہ چیدہ پرانے اور نئے قلم کاروں کا اجتماع ہر سال سالگرہ کے موقعے پرمنعقد ہو، تاکہ آپس کی تجاویز کے تبادلے کے ذریعے ادارے کے تسلسل کو مزید مستحکم اور ممیز کیا جاسکے۔ گر قبول افتاد زہے عز و شرف۔ آخرمیں مکالمہ کی دسویں سالگرہ پر اس عاجز کی طرف سے دسویں سالگرہ پر عشرہ مرتبہ پر مسرت مبارکباد۔


