عشق وہ کار مسلسل ہے / مہ ناز رحمٰن

ہم انسانی حقوق کے کارکنوں کے سامنے بہت سے کیسز آتے ہیں جو ہمیں انتہائی ذہنی تکلیف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔جنید حفیظ کی اسیری اور اس کی وکالت کے جرم میں راشد رحمٰن کا قتل ایک ایسا کیس ہے جس نے مجھے مسلسل ذہنی اذیت میں مبتلا رکھا ہے۔ توصیف احمد خان کی کتاب
“عشق وہ کارِ مسلسل ہے”۔ راشد رحمان کی جدوجہد کے بارے میں ہے، لیکن اسے پڑھتے ہوئے مجھے بار بار محسوس ہوا کہ میں صرف راشد رحمان کی زندگی کے بارے میں نہیں پڑھ رہی، بلکہ پاکستان کو پڑھ رہی ہوں۔
میرے لیے یہ کتاب پاکستان کی صورتحال کی ایک منی ایچر، ایک microcosm ہے۔
کیونکہ راشد رحمان نے جن مسائل کے لیے جدوجہد کی، وہ کسی ایک فرد یا ایک برادری کے مسائل نہیں تھے۔ وہ ہمارے پورے معاشرے کے مسائل ہیں۔
وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی ٹاسک فورس کے رکن کی حیثیت سے کسانوں، مزارعوں، خواتین، بچوں، اقلیتوں اور دوسرے محروم طبقات کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے آپ کتاب نہیں پڑھ رہے، بلکہ پاکستان میں گھوم رہے ہیں۔
آپ کو وہ غریب کسان ملتا ہے جو اپنی محنت کے باوجود زمین کا مالک نہیں۔
وہ عورت ملتی ہے جس کے پاس انصاف تک پہنچنے کے وسائل نہیں۔
وہ بچہ ملتا ہے جس کے حقوق کوئی پوچھنے والا نہیں۔
وہ اقلیتی شہری ملتا ہے جو اپنے ہی ملک میں خوف کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔
اور پھر آپ کی ملاقات راشد رحمان سے ہوتی ہے۔
ایک ایسے وکیل سے جس نے وکالت کو محض پیشہ نہیں سمجھا، بلکہ محروم انسانوں کے حق کی لڑائی سمجھا۔
راشد رحمان کی زندگی کا سب سے المناک پہلو جنید حفیظ کا مقدمہ ہے۔
جنید حفیظ پر توہینِ مذہب کا الزام تھا۔ راشد رحمان نے اس کا دفاع قبول کیا۔ انہیں دھمکیاں دی گئیں کہ وہ مقدمے سے دست بردار ہو جائیں، لیکن وہ پیچھے نہیں ہٹے۔
کیونکہ راشد رحمان جانتے تھے کہ کسی شخص پر الزام لگ جانا اس کے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق ختم نہیں کر دیتا۔
اور پھر اسی جرم میں کہ انہوں نے ایک ملزم کا قانونی دفاع کیا، انہیں قتل کر دیا گیا۔
یہاں میرے خیال میں اس کتاب کا اصل سوال سامنے آتا ہے:
راشد رحمان کا جرم کیا تھا؟
کیا کسی ملزم کو وکیل فراہم کرنا جرم ہے؟
کیا کسی ایسے شخص کا مقدمہ لڑنا جرم ہے جس پر الزام عائد کیا گیا ہو؟
اگر ایسا ہے تو پھر قانون، عدالت اور انصاف کا تصور ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔
اور اتفاق دیکھیے کہ ہم آج بھی اسی سوال کے سامنے کھڑے ہیں۔
چند روز پہلے ہی توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھانے والی ایک خاتون کے قتل کے فتوے جاری کیے جانے کی خبریں سامنے آئیں۔جس نے سول سوسائٹی کو بے حد تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ایمان مزاری اور ہادی کی مسلسل اسیری بھی ہمارے باعث تشویش ہے۔
راشد رحمان کی شہادت ہمیں خبردار کرتی ہے کہ الزام کو سزا بننے سے روکنا ہوگا۔
فتویٰ عدالت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
ہجوم عدالت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔
اور کسی کی جان لینا انصاف نہیں ہو سکتا۔
توہینِ مذہب ایک انتہائی حساس معاملہ ہے، لیکن اسی لیے اس معاملے میں قانون، ثبوت، عدالت اور انصاف کی ضرورت اور بھی زیادہ ہے—کم نہیں۔
توصیف صاحب کی اس کتاب کی میرے نزدیک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ہمیں راشد رحمان کی ذات سے آگے لے جاتی ہے۔
یہ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کے غریب، پسماندہ اور بے اختیار لوگوں پر کیا گزرتی رہی ہے۔
اور شاید یہی راشد رحمان کے عشق کی اصل نوعیت تھی۔
یہ کسی ایک شخص سے عشق نہیں تھا۔
یہ انصاف سے عشق تھا۔
انسان سے عشق تھا۔
محروم کے حق سے عشق تھا۔
اور اسی لیے کتاب کا عنوان اتنا معنی خیز ہے:
عشق وہ کارِ مسلسل ہے۔
کیونکہ سماجی انصاف کی جدوجہد کسی ایک دن، ایک مقدمے یا ایک شخص کے ساتھ ختم نہیں ہوتی۔
راشد رحمان چلے گئے، مگر وہ سوال چھوڑ گئے جو آج بھی ہمارے سامنے ہے:
کیا ہم ایسا پاکستان بنا سکتے ہیں جہاں کسی انسان کو اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے، کسی مظلوم کا مقدمہ لڑنے، یا کسی ملزم کے دفاع کا حق استعمال کرنے کی سزا اپنی جان دے کر نہ دینی پڑے؟
اگر ہم اس سوال کا جواب “ہاں” میں دینا چاہتے ہیں تو پھر راشد رحمان کی جدوجہد کو یاد کرنا کافی نہیں۔
اس جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا۔
کیونکہ عشق اگر واقعی عشق ہے تو وہ کارِ مسلسل ہی ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں