پشاور میں ممتاز عرف ممتازے کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد سوشل میڈیا پر ایک سوال نے جنم لیا؛ کراچی کے راؤ انوار اور پشاور کے سی سی پی او میں آخر فرق کیا ہے؟
راؤ انوار پر سینکڑوں مبینہ جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کو ہلاک کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ ان کا جواز بھی یہی تھا کہ وہ معاشرے کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کرنے کے لیے کارروائیاں کر رہے تھے۔ آج اگر خیبر پختونخوا میں بھی پولیس مقابلوں کو جرائم کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جانے لگے تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ ہم قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہے ہیں یا بندوق کے ذریعے فوری انصاف کے ایک ایسے راستے پر چل پڑے ہیں جہاں فیصلہ عدالت نہیں، پولیس کی گولی کرتی ہے؟
یہ بات واضح ہے کہ دہشت گرد، بھتہ خور، قبضہ مافیا، مسلح جرائم پیشہ عناصر اور معاشرے کے لیے خطرہ بننے والے افراد کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی نہیں ہونی چاہیے۔ انہیں قانون کے شکنجے میں لانا ریاست کی ذمہ داری ہے، لیکن پولیس کا کام ملزمان کو گرفتار کرنا، شواہد اکٹھے کرنا، تفتیش کرنا اور عدالت کے سامنے پیش کرنا ہے۔ پولیس کو یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ خود ہی مدعی بنے، خود ہی تفتیش کرے، خود ہی ملزم کو مجرم قرار دے اور پھر سڑک پر سزا بھی سنا دے۔
یقیناً ہر پولیس مقابلہ جعلی نہیں ہوتا۔ بعض مواقع پر مسلح ملزمان واقعی پولیس پر فائرنگ کرتے ہیں اور جوابی کارروائی میں ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں، لیکن اصل سوال ان واقعات کا ہے جہاں ’’مقابلہ‘‘ قانون کے بجائے ایک مستقل طریقۂ کار بن جائے اور عدالت تک پہنچنے سے پہلے ہی ملزم کی زندگی کا فیصلہ کر دیا جائے۔
اس بحث کا ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی غیر معمولی شمولیت نے اس کے کردار، ترجیحات اور عملی تربیت کو بھی بڑی حد تک سیکیورٹی آپریشنز کی طرف موڑ دیا ہے۔ نتیجتاً پولیسنگ کی وہ بنیادی مہارتیں، جو معاشرتی جرائم کی روک تھام، تفتیش، فرانزک شواہد کے حصول، انٹیلی جنس بیسڈ تحقیقات اور ملزمان کو عدالتوں سے سزا دلوانے کے لیے درکار ہوتی ہیں، پسِ پشت چلی گئی ہیں۔ پولیس اگر مسلسل دہشت گردی سے نمٹنے والے ایک سیکیورٹی فورس کے کردار میں رہے گی تو عام جرائم سے نمٹنے کے لیے درکار پیشہ ورانہ تفتیشی صلاحیتوں کا کمزور ہونا ایک فطری خطرہ ہے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ حالات کی سنگینی اور طویل عرصے سے جاری سیکیورٹی بحران نے پولیس کو بھی دفاعی اداروں کی طرح عوامی اور قانونی جوابدہی کو کسر شان سمجھتی ہے، حالات کے جبر نے پولیس میں بھی یہ ذہنیت پیدا کر دی ہے کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اختیارات درکار ہیں۔ یوں پولیس بھی رفتہ رفتہ اس تصور کی عادی ہوتی گئی ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کو معمول کے قانونی احتساب سے مستثنیٰ سمجھا جائے۔ اگر یہی سوچ پولیسنگ میں مستقل رویے کی شکل اختیار کر لے تو قانون نافذ کرنے والا ادارہ خود کو قانون کی جوابدہی سے بالاتر سمجھنے لگتا ہے اور یہی کسی بھی آئینی معاشرے کی بقاء کے لیے خطرناک مرحلہ ہوتا ہے۔
اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ اسٹریٹ جسٹس کا یہ کلچر عموماً ان لوگوں کے خلاف استعمال ہوتا ہے جن کے پاس نہ سیاسی طاقت ہوتی ہے، نہ دولت، نہ کوئی بااثر سرپرست اور نہ ہی ایسا خاندان جو ان کے لیے ریاستی اداروں کے دروازے کھٹکھٹا سکے۔ دوسری طرف بااثر وڈیرے، جاگیردار، خان، سیاست دان، مقتدر بیوروکریٹس، طاقتور خاندان اور بااثر حلقوں سے وابستہ افراد اپنے دفاع کے لیے وکلا، عدالتوں اور قانونی ذرائع تک مکمل رسائی رکھتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پولیس مقابلے کا مسئلہ محض پولیسنگ کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاست میں برابر کے قانون کے تصور پر سوال بن جاتا ہے۔
ایک کمزور شخص کے لیے قانون کی گولی اور ایک طاقتور شخص کے لیے قانون کی عدالت—یہ دو الگ نظامِ انصاف ہیں۔ اگر ریاست واقعی قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتی ہے تو قانون کا معیار ملزم کی حیثیت، خاندان، سیاسی اثرورسوخ یا سماجی مقام سے تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
وردی کسی پولیس اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں بناتی بلکہ اسے قانون کا سب سے ذمہ دار محافظ بناتی ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والا ادارہ خود قانون کی حدود پامال کرنے لگے تو پھر شہری کس سے انصاف کی توقع کریں؟
افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ ہمارا معاشرہ بعض اوقات ایسے اقدامات پر تالیاں بجاتا ہے جنہیں قانون کی نظر میں ثابت کرنے کی ذمہ داری عدالت کی ہے۔ کسی شخص کے بارے میں یہ تاثر کہ وہ بدمعاش، دہشت گرد یا جرائم پیشہ تھا، اسے عدالت سے سزا کے بغیر موت کے حق کا جواز نہیں بن سکتا۔ ورنہ کل یہی منطق کسی ایسے شخص کے خلاف بھی استعمال ہو سکتی ہے جسے پولیس یا کوئی طاقتور ادارہ محض اپنے مخالف کے طور پر دیکھتا ہو۔
اگر پولیس ہی گرفتار کرے، پولیس ہی تفتیش کرے، پولیس ہی فیصلہ کرے اور پولیس ہی سزا نافذ کر دے تو پھر عدالتیں کس لیے ہیں؟ وکلا، مقدمات، شہادت اور عدالتی کارروائی پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کرنے کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟
عدالتوں کو بھی ایسے واقعات کو محض پولیس کا داخلی معاملہ سمجھنے کے بجائے قانون کی حکمرانی کے سوال کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ جہاں پولیس مقابلے میں ہلاکت ہو، وہاں شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ حقیقی مقابلے اور مبینہ جعلی مقابلے کے درمیان فرق واضح ہو سکے۔
جرائم کے خلاف سخت کارروائی ریاست کی ضرورت ہے، لیکن سخت ریاست اور بے لگام ریاست میں فرق ہوتا ہے۔
ہمیں ایسا نظام نہیں چاہیے جس میں مجرم طاقتور ہو تو عدالت کا راستہ اختیار کیا جائے اور کمزور ہو تو سڑک پر ’’انصاف‘‘ کر دیا جائے۔ ہمیں ایسا نظام چاہیے جہاں قاتل ہو یا پولیس اہلکار، غریب ہو یا بااثر—ہر شخص قانون کے سامنے جوابدہ ہو۔
کیونکہ ریاست کی اصل طاقت یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنی بندوقیں ہیں؛ ریاست کی اصل طاقت یہ ہے کہ اس کی بندوق بھی قانون کے تابع ہے۔


