رات کے اس پہر چاندنی میں چیزیں اپنی معمول کی صورت سے کچھ مختلف دکھائی دیتی ہیں۔ وہی درخت، وہی دیوار، وہی صحن، مگر روشنی بدل جائے تو جیسے ان کے درمیان کے فاصلے بھی بدل جاتے ہیں۔
میں کافی دیر سے چھت پر لیٹا ہوا ہوں۔ دن میں آدمی اپنے بارے میں اتنا نہیں سوچتا۔ بہت سی چیزیں اسے اپنے ساتھ بہائے لیے جاتی ہیں۔ کام، لوگ، باتیں، فیصلے۔ پھر کسی وقت خاموشی ملتی ہے تو آدمی کو محسوس ہوتا ہے کہ جن باتوں کو وہ اپنے بارے میں یقین سمجھتا رہا ہے، وہ صرف عادتیں تھیں۔
ہم اپنے لیے کچھ جملے خود ہی گھڑ لیتے ہیں- میں ایسا ہی ہوں، میں ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہوں، مجھے یہ پسند نہیں، میں اس طرح کا آدمی نہیں ہوں- ہم انہی جملوں کے اندر رہنے لگتے ہیں۔ کبھی کوئی معمولی سا واقعہ ان میں سے کسی ایک کو ہلا دیتا ہے۔ آدمی کوئی ایسا کام کر بیٹھتا ہے جس کی اسے خود سے توقع نہیں ہوتی۔ کسی شخص کے بارے میں اپنی رائے بدل جاتی ہے۔ کسی پرانی بات کا مطلب برسوں بعد کچھ اور دکھائی دینے لگتا ہے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ شاید آدمی اپنے بارے میں بھی اتنا نہیں جانتا جتنا وہ سمجھتا رہا ہے۔
دوسروں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ ہم کسی شخص کو ایک بار سمجھ لیتے ہیں اور پھر اسے اسی جگہ رکھ دیتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی نئی بات بھی پرانے آدمی کے حوالے سے سنتے ہیں۔ وہ خاموش ہو تو کوئی مطلب نکال لیتے ہیں۔ وہ بدل جائے تو کہتے ہیں وہ پہلے ایسا نہیں تھا۔ مگر شاید ہم بھی تو پہلے ایسے نہیں تھے۔ زندگی آدمی کو ہمیشہ کسی بڑے واقعے سے نہیں بدلتی۔ کبھی ایک چھوٹی سی بات اندر کہیں رہ جاتی ہے۔ کبھی کوئی ملاقات، کوئی جدائی، کوئی ناکامی، یا صرف وقت۔ پھر بہت دیر بعد پیچھے مڑ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو ہم اپنا نام سمجھتے تھے، وہ ہمارے اندر کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔
اپنے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہمیں واقعات سے زیادہ اپنی پرانی تعبیر دکھائی دیتی ہے۔ اور ممکن ہے وہ تعبیر اب درست نہ ہو۔ پڑھنے والا بدل جائے تو ایک ہی عبارت کا مطلب بھی بدل جاتا ہے۔ شاید انسان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم ایک وقت میں اسے جس طرح دیکھتے ہیں، ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ ویسا ہی رہے۔ پھر کسی انسان کو سمجھ لینے کا دعویٰ کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ اس کے کچھ حصے ہماری سمجھ میں آتے ہیں، کچھ نہیں۔ کچھ باتیں وہ خود بھی شاید نہ جانتا ہو۔ ہم پھر بھی وضاحت چاہتے ہیں۔ کسی واقعے کی وجہ، کسی تعلق کا نام، اور کسی فیصلے کا مطلب۔ جیسے نام مل جائے تو بے چینی بھی ختم ہو جائے گی۔
زندگی ہمیشہ اپنے بارے میں اتنی صاف گو نہیں ہوتی۔ کچھ باتیں آدمی کو معلوم ہونے سے پہلے جینا پڑتی ہیں- اور کچھ شاید جینے کے بعد بھی پوری طرح معلوم نہیں ہوتیں۔ اسی لیے بعض اوقات مسئلہ جواب نہ ملنے کا نہیں ہوتا۔ آدمی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خود کہاں کھڑا ہے۔ وہ بدل رہا ہوتا ہے، مگر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ کس طرف۔ اس کے کچھ تعلقات پیچھے رہ جاتے ہیں، کچھ ساتھ چلتے ہیں، کچھ نئے راستے کھلتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے جب پرانی شناخت اور نئی زندگی ایک دوسرے سے پوری طرح نہیں ملتیں۔ نہ آدمی وہ رہتا ہے جو پہلے تھا، نہ ابھی وہ بن پاتا ہے جس کا اسے اندازہ ہے۔ زندگی کا ایک بڑا حصہ اسی بیچ میں گزرتا ہے۔
میں اب آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں- چاند کافی اوپر آ چکا ہے۔ دور کہیں سے کسی آواز کی گونج آئی اور پھر رات میں گم ہو گئی۔ میں نے اپنے اردگرد دیکھا۔ درخت اپنی جگہ تھا۔ دیوار اپنی جگہ۔ صحن بھی وہیں تھا۔ کچھ دیر مجھے لگا کہ شاید چیزوں کے لیے اپنی جگہ کا مسئلہ اتنا پیچیدہ نہیں جتنا آدمی کے لیے ہے۔
آدمی اپنی جگہ لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ یا شاید پیدا ہوتا ہے اور پھر عمر بھر اسے بدلتا رہتا ہے۔ آج چاندنی میں کوئی چیز مجھ سے جواب نہیں مانگ رہی؛ رات بھی نہیں۔ سو میں نے بھی کچھ دیر کے لیے اپنے آپ سے کوئی جواب نہیں مانگا- میں خاموش لیٹا ہوا چاند کو دیکھ رہا ہوں- اور رات، اپنی پوری وسعت کے ساتھ، کسی نتیجے کے بغیر گزر رہی ہے۔


