کیا کیجئیے کہ ؛
ایک تو ہمیں محبت ہوجاتی ہے۔
بہت جلدی ہو جاتی ہے ۔
ہر ایک سے ہو جاتی ہے۔
اور بہت شدید ہوتی ہے۔
کیا جھیل، کیا دریا، سمندر اور پہاڑ۔
اونچے درختوں کی اوٹ سے
جھانکتے چاند سے ،
ڈوبتے نکلتے سورج سے۔
موسموں سے بھی یوں ہے کہ ہمارے موسم صرف چار نہیں پانچ ہیں ۔
پانچویں موسم سے محبت کسی نے دیکھی ہو؟؟؟
گرم ریت کے صحراؤں سے،
یخ بستہ سفید ریت سے۔
ہر میدانوں کی گزرگاہ سے،
ساحلوں سے؛
اور ان کی نرم گیلی ریت پر قدم رکھتے
سارے کے سارے انسانوں سے۔
جو بھی حد نگاہ میں ہے؛
ہماری محبت کا پھیلاؤ ہے۔
کہیں بھی حد نگاہ صفر نہیں ہے۔
بالکل صاف صاف
دکھائی دیتی ہے۔
دور تک ہماری محبت۔
کوئی فلوٹر آنکھوں میں نہیں، غبار راہ نہیں حائل ۔
صرف اتنی بات ہے کہ؛
کم کم جاتے ہیں۔
اور جہاں جاتے ہیں؛
دل وہیں اٹک جاتا ہے؛
اور ہم اپنے ساتھ سارے لوگ ، منظر اور احساس اٹھا لاتے ہیں ۔
اور کبھی تو کہانیاں بھی اٹھا لاتے ہیں اور ان کو گھر آکر بنتے ہیں۔۔
اور کوئی جو آئےہمارے ہاں تو ؛
ہم اس کے احساس کے ساتھ اسے پکڑ کر بٹھا لیتے ہیں ۔
یہ احساس دیر تلک رہنے والی محبت کا تحفہ ہے۔۔
یہی ہماری تجارت اور گزر بسر ہے۔
ہمیں اپنی محبتوں کی ان اداوں پر ناز ہے۔۔۔۔۔
کار جہاں دراز ہے ۔
۔۔


