صحیفوں میں اک تصور موجود ہے کہ یہ پورا کائناتی بندوبست اک اظہاریہ ہے۔ جدید کائناتی فکر میں بھی اس سے ملتا جلتا ایک خیال ہے کہ انسان شاید کائنات کا وہ حصہ ہیں جس کے ذریعے کائنات خود کو جاننے کی کوشش کرتی ہے۔ اور تمام کہکشائیں، ستارے، اور سیارے اسی اظہاریے کا حصہ ہیں۔ لیکن یہ مظاہرہ صرف خوبصورت کہکشاؤں، ستاروں یا سیاروں تک محدود نہیں، کیونکہ وہ سب تو ایک نظام کے قیدی ہیں۔ ان میں کوئی سوچ، کوئی اختیار¹ موجود نہیں ہے۔ اپنے مخصوص مداروں میں گھومتے ہیں۔ اور گھومتے گھومتے خاموش بھی ہو جاتے ہیں۔
مظاہر کو یہ کہاں منظور تھا کہ اتنا بڑا نظام بن جائے اور کوئی اس پر سوچنے والا نہ ہو۔ یک خلیاتی حیاتیات سے شروع ہونے والا یہ ہنگام حضرت انسان تک آ پہنچا²۔ پھر مظاہر نے اس ہنگام میں موجود جانداروں میں بقا کی جبلت³ بھی ڈال دی۔ حضرتِ انسان اسی بقا کی جبلت کا ایک شاندار اور جدید اظہار ہے۔
بقا کی جبلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کم سے کم توانائی لگا کر خود کو باقی رکھا جائے، یعنی آسائشات پیدا کی جائیں۔ قدیم ادوار میں یہ ممکن نہ تھا کیونکہ خدمات کے بدلے خدمات، اجناس کے بدلے اجناس یا اجناس کے بدلے خدمات اور مزید، یعنی تبادلے کی معیشت تھی۔ لیکن تبادلے کی معیشت ایک چھوٹے گروہ (معاشرے) تک ہی چل سکتی ہے۔ جب آبادی بڑھی تو مزید گروہ بنے اور ان کے درمیان تبادلہ شروع ہوا یعنی تجارت وجود میں آئی، اور تجارت آسان بنانے کے لیے لکھت پڑھت وجود میں آئی⁴۔ لکھت پڑھت کے نتیجے میں کرنسی وجود میں آئی اور خرید و فروخت مزید آسان اور آزاد ہو گئی۔
خرید و فروخت میں در آنے والی اس آزادی کے بعد بکنے والی اشیاء میں تنوع پیدا ہو گیا اور فہرست بڑھ گئی اور اقدار، افکار، اوقات، احساسات، اثرات، اطلاعات، اختراعات، اسرار، اوصاف وغیرہ جیسی غیر مرئی اشیاء بھی منڈی کی زینت بنیں۔ یہ سلسلہ یہیں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں خواب و خیال بھی شامل ہو گئے، حتی کہ رشتہ، تعلق، اتحاد اور نفاق بھی بکنے لگے۔ اور ان اشیاء کی خرید و فروخت آسان ٹھہری اور منافع کی شرح بھی اجناس سے زیادہ نکلنے لگی۔ جس کے نتیجے میں آسان بقا کا حصول یعنی آسائشات کا حصول اور آسان ہو گیا۔ اور لوگ آسائشات کو پانے کی حرص میں اپنی خودداری، خواب، خیال، تعلق، اتحاد اور آزادی بیچنے لگے۔ بلکہ اپنے ہم نسل و ہم قبیلہ لوگوں کی زندگیوں کے بھی سودے کرنے لگے۔
لیکن چند لوگ جنہیں زندگی کا شعور ٹھیرا۔ جنہیں خودی کا ادراک رہا۔ انہوں نے خوابوں کی خرید و فروخت کو حرام کاری اور بدمعاشی سمجھا۔ نہ کسی سے خواب خریدے نہ اپنے خواب بیچے۔ زیرِ نظر احمد فراز کی یہ نظم ایک ایسا ہی منظر نامہ پیش کرتی ہے۔ ایک نظر نظم پر ڈالیے پھر اس پر مزید بات کرتے ہیں۔
فقیرانہ روش رکھتے تھے
لیکن اس قدر نادار بھی کب تھے
کہ اپنے خواب بیچیں
ہم اپنے زخم آنکھوں میں لئے پھرتے تھے
لیکن روکشِ بازار کب تھے
ہمارے ہاتھ خالی تھے
مگر ایسا نہیں پھر بھی
کہ ہم اپنی دریدہ دامنی
الفاظ کے جگنو
لئے گلیوں میں آوازہ لگاتے
“خواب لے لو خواب”
لوگو!!!
اتنے کم پندار ہم کب تھے
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں
کہ جن کو دیکھنے کی آرزو میں
ہم نے آنکھیں تک گنوا دی تھیں
کہ جن کی عاشقی میں
اور ہوا خواہی میں
ہر ترغیب کی شمعیں بجھا دی تھیں
چلو ہم بےنوا،
محرومِ سقف و بام و در ٹھہرے
چلو ہم بد مقدر، بے ہنر ٹھہرے
پر اپنے آسماں کی داستانیں
اور زمیں کے انجم و مہتاب کیوں بیچیں
خریدارو!
تم اپنے کاغذی انبار لائے ہو
ہوس کی منڈیوں سے درہم و دینار لائے ہو
تم ایسے دام تو ہر بار لائے ہو
مگر تم پر ہم اپنے حرف کے طاؤس
اپنے خون کے سرخاب کیوں بیچیں
ہمارے خواب بےوقعت سہی
تعبیر سے عاری سہی
پر دل زدوں کے خواب ہی تو ہیں
نہ یہ خوابِ زلیخا ہیں
کہ اپنی خواہشوں کے یوسفوں پر تہمتیں دھرتے
نہ یہ خوابِ عزیزِ مصر ہیں
تعبیر جن کی اس کے زندانی بیان کرتے
نہ یہ ان آمروں کے خواب
جو بےآسرا خلقِ خدا کو دار پر لائیں
نہ یہ غارت گروں کے خواب
جو اوروں کے خوابوں کو تہہِ شمشیر کر جائیں
ہمارے خواب تو اہلِ صفا کے خواب ہیں
حرف و نوا کے خواب ہیں
مہجور دروازوں کے خواب
محصور آوازوں کے خواب
اور ہم یہ دولتِ نایاب کیوں بیچیں
ہم اپنے خواب کیوں بیچیں؟
احمد فراز
اس نظم کی قرأت کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ احمد فراز کی یہ نظم ایک رجزیہ گیت⁵ کا رنگ لیے ہوئے ہے۔ کردار کسی کشمکش یا جدوجہد کا شکار ہے اور کسی دو راہے پر کھڑا ہے جہاں سے وہ اپنے کردار کا سودا کر کے آسان راہ پر چل سکتا ہے، لیکن اس نظم کے ذریعے نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی یاد دہانی کروا رہا ہے کہ وہ اپنے اصولوں پہ کار بند کیوں ہے۔
نظم کا آغاز ماضی کے صیغے میں ہوتا ہے۔ کردار اپنی سوچ کا آغاز ہی خودداری کو قرار دیتا ہے۔ اور آسائشات کی حرص سے خود کو مبرا گردانتا ہے۔ اور مصائب و آلام کی بھٹی میں تپ کر کندن ہوئے اپنے کردار پر فخر کا اظہار بھی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ پھر کردار دشمن کو للکار بھی رہا ہے۔ اور آخر میں اپنے خوابوں کا دفاع کرتا محسوس ہوتا ہے تاکہ اپنے ساتھیوں کا خون گرما سکے۔ جیسے کہ راحت اندوری صاحب نے فرمایا:
یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو
پھر احمد فراز صاحب نے خوابوں کے مضمون پر یوسفِ کنعاں کے قصے کا کیا خوب استعمال کیا ہے۔ اور اس نظم میں جس بات نے مجھے حیران کیا وہ یہ ہے کہ عام طور پر تقدس میں لپٹے قصے میں جس نکتے کو نظر انداز کیا جاتا ہے وہ زلیخا کی ہوس ہے۔ اور احمد فراز صاحب نے نہ صرف اس ہوس کو بعینہ لکھا ہے بلکہ اپنے خوابوں کے دفاع میں بھی استعمال کیا ہے۔
لیکن یہ کائنات 2 جمع 2 برابر 4 ہے کے اصول پر قائم ہے۔ کائنات یا یوں کہہ لیں کہ مظاہر بنیادی طور پر بے رحمی کی حد تک بے نیاز ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ اپنی ناداری میں کس حد تک خودداری رویے کے حامل ہیں۔ اور اگر ہم برٹرینڈ رسل کی بات⁶ سے خیال مستعار لے کر اسے وسعت دیں تو یہ بالکل واضح ہے کہ خودداری، قوم، نسل، خواب، غیرت و حمیت اس وقت کے کھلونے ہیں جب آپ کے پاس کوئی ذاتی کارنامہ، کامیابی یا ملکیت موجود نہ ہو۔ اور اسی حقیقت کا اعتراف احمد فراز نے اپنی ایک اور نظم ‘خوابوں کے بیوپاری’ میں کیا ہے، جس میں خواب بونے والے کا انجام یہ ہے کہ اسے اپنا تن تک بیچنا پڑ گیا۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آیا خواب و خیال، انا و خودداری، غیرت و حمیت جیسی اعلی اقدار بھی اختیار کی طرح ہمارے شعور کا ہمیں دیا گیا دھوکا ہیں؟ کیونکہ اس بے رحم و بے نیاز کائنات کو اگر دیکھیں تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب بھی بقا کی خاطر شعوری اختراعات ہیں۔ اور کیا یہی اختراعات اس کائنات کی بڑی ایجادات میں سے ایک ہیں؟
حواشی
1۔ کچھ فلسفیوں کا ماننا ہے کہ ہم انسانوں کا اختیار بھی ہمارے شعور کی اختراع ہے۔ دراصل ہم بھی کوئی اختیار نہیں رکھتے، لیکن ہمارا شعور ہمیں اختیار کے دھوکے میں رکھتا ہے۔ تاکہ ہم بقا کی چکی میں پستے رہیں۔
2۔ انسان فی الوقت معلوم کائنات میں تجسس رکھنے والا واحد جاندار ہے جس کے تجسس نے اتنا پیچیدہ شعور پیدا کیا۔
3۔ بقا کی جبلت کیمیائی، حیاتیاتی، طبیعاتی اور ریاضیاتی قوانین کا ہی مجموعہ ہے۔ طبیعیاتی قوانین کے تحت کائنات بے ترتیبی کی طرف ہی بڑھتی ہے، لیکن بے ترتیبی کے لیے ترتیب کا ہونا ضروری ہے۔ زندگی اسی ترتیب کا حصہ ہے۔ کیمیائی طور پر ہمارا جسم تعاملات کا ایک ایسا نظام ہے جو ان تعاملات کے لیے دوبارہ ایندھن فراہم کرتا رہتا ہے، مثلا آسان الفاظ میں ہمارا جسم اپنے خلیات دوبارہ بناتا رہتا ہے یعنی انہی خلیات کی نقول بناتا رہتا ہے۔ ریاضیاتی طور پر صرف وہ جاندار باقی رہتے ہیں جو اپنے آپ کو ایک خاص رفتار سے نقل کر سکتے ہیں۔
4۔ تاریخ کے چند اہم ابواب سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ لکھت پڑھت کا محرک تجارت تھی نہ کہ تخلیقیت جیسا عظیم خیال۔ اور اکثر نئی ایجادات کے پیچھے تجارت ہی کار فرما ہے۔
5۔ رجزیہ گیت ایسے گیت ہوتے ہیں جو جنگ میں جنگجوؤں کا حوصلہ بڑھانے، دشمن کو للکارنے اور اظہار شجاعت کے لیے گائے جاتے ہیں۔
6۔ لارڈ برٹرینڈ رسل نے اپنی کتاب سکیپٹیکل ایسسیز میں لکھا ہے جس کا مفہوم کچھ یہ بنتا ہے کہ جب کسی انسان کے پاس ذاتی کامیابی نہیں ہوتی تو وہ قومی کامیابی کو اپنی کامیابی مانتا ہے اور قومی توہین کو اپنی توہین گردانتا ہے۔


