پنجاب کے لیے حقیقی خطرہ کون؟-نصیب باچا یوسفزئی

​ہر معاشرے اور تاریخ کے ہر دور میں ایک تلخ حقیقت ہمیشہ یکساں رہی ہے: طاقتور اشرافیہ، حکومتِ وقت اور پالیسی ساز اپنے اقتدار، بقاء اور تحفظ کی خاطر یا تو جنگجوؤں اور غیر ریاستی عناصر کو پالتے ہیں یا پھر اپنے اثر و رسوخ کے بل بوتے پر ان کے ساتھ لوٹ مار، لین دین اور سمجھوتوں کے ذریعے اچھے تعلقات قائم رکھتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوان اور حکمران طبقہ محفوظ رہیں، جبکہ اس پورے ہولناک کھیل میں عام شہری اور کمزور طبقات ایندھن اور خاشاک کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔
​پاکستان کی سیاسی اور داخلی تاریخ بھی اس سچائی سے مختلف نہیں رہی۔ جب سے اس ریاست میں سیکیورٹی اور خارجہ پالیسیوں کا تسلط قائم ہوا، عوام کو ہمیشہ یہی بتا کر خاموش کرایا جاتا رہا کہ تمام تر مسائل، بدامنی اور خطرات کا منبع سرحد پار، ہندوستان، اسرائیل یا دیگر بیرونی طاقتیں ہیں اور عام شہری اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن جب پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ نے یہ بیان دیا کہ پنجاب کو اتنا خطرہ پڑوسی ملکوں سے نہیں بلکہ اپنے ہی صوبوں سے ہے، تو انہوں نے بظاہر ایک زہریلی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن درحقیقت پاکستان کے باقی صوبوں کے عوام کو موقع دیا کہ وہ ثبوتوں، ایویڈنسز، دلائل اور تاریخ کے ساتھ کھل کر بات کریں۔
​اس بیان کا اشارہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی طرف تھا جہاں دہشت گردی کا مسئلہ درپیش ہے۔ لیکن جب اس سوال کا تاریخی، قانونی اور تحقیقی جائزہ لیا جائے کہ خطرہ خیبر پختونخوا کے مظلوم عوام سے دیگر صوبوں کے عام شہریوں کو ہے یا اقتدار پر قابض اشرافیہ، پالیسی سازوں اور ان کے تاریخ ساز فیصلوں سے خیبر پختونخوا کو، تو حقائق ایک بالکل مختلف داستان سناتے ہیں۔
​اس تناؤ اور نفرت کی اصل جڑ کسی بھی صوبے کے عام عوام بالکل نہیں ہیں، بلکہ وہ مخصوص سیاسی اشرافیہ، حکمران طبقہ اور پالیسی ساز ہیں جو اپنے سیاسی مفادات کی خاطر عوام کے ذہنوں میں تعصبات کی آبیاری کرتے ہیں۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ان لوگوں نے دہائیوں سے دیگر قومیتوں بالخصوص پختونوں کو ایک منفی اور خوفناک اسٹیریو ٹائپ (Stereotyping) کے طور پر پیش کیا۔ اپر پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں میں بچوں کو ڈرانے، سلاتے وقت یا گھر سے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے “سو جا نہیں تے خان آ جائے گا”، “باہر نہ نکل، تینو خان پھڑ کے لے جائے گا” یا “چپ کر جا، نہیں تے پٹھان نوں دے دیاں گی” جیسے پنجابی جملے بولے جانا، اسی نسلی تعصب اور خوف کی سوشلائزیشن کا ایک گہرا عکس ہے جو حکمران طبقے کی پھیلائی ہوئی سوچ کا نتیجہ ہے۔ یہی تعصبات بعد میں ایسی پالیسیوں اور فیصلوں میں ڈھلتے ہیں جن کا خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
​اگر ہم افغان جہاد کے آغاز سے لے کر آج تک کے تمام واقعات کا سلسلہ وار، بے باک اور تاریخی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی سرزمین پر دہشت گردی، بارود اور جنگ جوئی کا جو انفراسٹرکچر بنا، اس کے قانونی، سیاسی اور انتظامی راستے ملک کے مرکزی ایوانوں، اقتدار کے مراکز اور وفاقی دارالحکومت میں بیٹھے پالیسی سازوں نے فراہم کیے تھے۔
​افغان جہاد شروع ہونے کے ایک سال بعد، نومبر 1980ء میں خیبر پختونخوا کی سرزمین پر پہلا عرب جہادی اسٹرکچر بنانے کے لیے جو پہلا عرب آیا، اس کا نام کمال الدین السنانانِیری تھا، جو ایک مصری سکالر تھا۔ وہ جب پشاور آیا تو پشاور میں اس کا بنیادی رابطہ اور اسے پناہ دینے والی شخصیت جماعت اسلامی کے شعبہ تحریر و تصنیف سے منسلک رہنما، خلیل احمد حامدی (خلیل الحامدی) تھے۔ انہوں نے کمال الدین السنانانِیری کو پشاور میں 40 دن رکھا، جہاں اس نے گلبدین حکمت یار اور برہان الدین ربانی سمیت دیگر افغان مجاہدین سے ملاقاتیں کیں اور پورا نیٹ ورک بنا کر 40 دن بعد واپس چلا گیا۔
​کمال الدین السنانانِیری جب واپس سعودی عرب پہنچا تو اس کی ملاقات شیخ عبداللہ عزام سے ہوئی۔ عبداللہ عزام وہی شخصیت ہیں جنہوں نے بعد میں پشاور میں ‘مکتب الخدمت’ نامی ادارہ قائم کیا۔ مکتب الخدمت کا کام عرب مجاہدین کو پشاور میں کھانا، رہائش، پیسے اور اسلحہ فراہم کرنا تھا۔ لیکن عبداللہ عزام کو پشاور آ کر یہ ادارے اور اسٹرکچر بنانے کے لیے ایک قانونی راستے اور کور کی ضرورت تھی۔ یہ قانونی کور انہیں اس وقت کے آمریت اور وفاقی حکمرانوں، خصوصاً جنرل ضیاء الحق نے فراہم کیا۔ ضیاء الحق نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ‘بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی’ کا بوجھل کور بنایا اور اس کے لیے 1985ء کا صدارتی آرڈیننس (Ordinance No. XXX of 1985) جاری کیا۔ اس آرڈیننس کا بنیادی مقصد عرب مجاہدین، عرب سکالرز، عرب بیانیے اور تجزیوں کو قانونی طریقے سے یہاں بسانا تھا۔
​عبداللہ عزام براہِ راست پشاور نہیں آئے تھے۔ انہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم اسی یونیورسٹی میں پروفیسر کی سرکاری ملازمت دی گئی۔ اس پروفیسر کی ملازمت کے قانونی سہارے سے وہ یہاں داخل ہوئے اور اسی کی بنیاد پر انہوں نے پشاور کے سفر اور سرگرمیوں کو قانونی شکل دی۔ اس 1985ء کے صدارتی آرڈیننس کے تحت قائم ہونے والی یونیورسٹی کے بانی اراکین میں ضیاء الحق کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن باز (جنہوں نے جہاد کا فتویٰ دیا تھا) اور سب سے اہم نام ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف کا تھا۔ ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف ‘رابطۃ العالم الاسلامی’ (Muslim World League) کے سیکرٹری جنرل تھے، جنہیں اس یونیورسٹی کا بانی رکن بنایا گیا۔ اسی ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف نے عبداللہ عزام کو اس یونیورسٹی میں پروفیسر کی جاب دی تاکہ وہ قانونی طور پر داخل ہو سکیں۔
​عبداللہ عزام کی تنخواہ پاکستان نہیں بلکہ رابطہ العالم الاسلامی دے رہی تھی، اور انہوں نے پشاور آ کر جو مکتب الخدمت بنایا وہ بھی اسی فنڈنگ سے بنا، جس نے بعد میں اسامہ بن لادن اور دیگر عرب جنگجوؤں کو پشاور میں اکٹھا کر کے ایک منظم جہادی اسٹرکچر میں ڈھالا۔ پالیسی سازوں کے اس کھیل کے بدلے وفاقی دارالحکومت کو فیصل مسجد کی صورت میں ایک عظیم الشان عمارت اور Custodianship کا تحفہ ملا، جبکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے حصے میں صرف اسلحہ، بارود اور خون آیا۔
​اسی سیاسی اشرافیہ بالخصوص شریف خاندان کا غیر ریاستی عناصر سے تعلق 1980ء کی دہائی کے آخر میں کھل کر سامنے آیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے آن ریکارڈ انکشاف کیا تھا کہ 1989ء میں ان کی منتخب حکومت کو گرانے کے لیے اسامہ بن لادن نے 10 ملین ڈالرز ایک ملٹری جنرل کے ذریعے فراہم کیے تھے، جس نے اسامہ کو نواز شریف سے ملایا تھا۔ اسامہ بن لادن سے فنڈز لے کر پولیٹیکل اسٹرکچر میں غیر ریاستی عناصر کو جگہ دینے کا مقصد بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرنا تھا، کیونکہ ان کی حکومت ان جنگجوؤں کے خلاف کارروائیاں کر رہی تھی۔ اس بات کی تصدیق معروف سینئر صحافی حامد میر اور پاکستان انٹیلی جنس کے سابق افسر خالد خواجہ کی گفتگو اور تحریروں سے بھی ہوتی ہے۔ خالد خواجہ وہ شخصیت تھے جنہوں نے خود سیاسی قیادت اور اسامہ بن لادن کے درمیان ملاقاتیں کرائیں اور مالی معاہدے طے کرائے۔ حامد میر نے بھی اس بات کی صحافتی سطح پر توثیق کی کہ کس طرح اقتدار کی خاطر اسامہ بن لادن سے مدد حاصل کی گئی اور ان عناصر کو ملک کی سیاست میں اثر و رسوخ فراہم کیا گیا۔
​اس کے بعد، ستمبر 2001ء میں امریکہ کی آمد، خطے میں ڈرون اسٹرائیکس کے آغاز اور 2007ء میں اسلام آباد کی زمین پر لال مسجد کا آپریشن ہونے کے بعد جب القاعدہ کے تعاون سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا قیام عمل میں آیا، تو خیبر پختونخوا کو ہولناک دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ لیکن اس نائن الیون کے بعد کے منظر نامے میں بھی پنجاب کے حکمرانوں کا طرزِ عمل اپنے صوبے کو الگ تھلگ رکھنے پر مبنی تھا۔
​ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی اسپیشل فورسز کی ریڈ کے بعد برآمد ہونے والی انٹیلی جنس دستاویزات امریکہ لے جائی گئیں۔ امریکہ میں ‘عابد نصیر کیس’ (United States v. Abid Naseer) کی سماعت کے دوران نیویارک کی وفاقی عدالت میں یہ تحریری خطوط بطور ثبوت پیش کیے گئے۔ ان میں اسامہ بن لادن کے نائب عطیہ عبدالرحمن کا ایک خط شامل تھا جو انہوں نے شیخ اسامہ کو لکھا تھا۔ اس خط میں عطیہ عبدالرحمن تحریر کرتے ہیں کہ TTP کے حوالے سے حکیم اللہ محسود اور قاری حسین نے انہیں بتایا ہے کہ شہباز شریف کی پنجاب حکومت نے انہیں پیغام بھیجا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں اور نارمل تعلقات بحال کرنے کو تیار ہیں، بشرطیکہ وہ پنجاب کی حدود میں کوئی سیکیورٹی آپریشن یا دھماکے نہ کریں۔ حکومت کی جانب سے اپنے علاقے کو محفوظ رکھنے کے بدلے مالی تعاون اور قیدیوں کی رہائی کی پیشکش بھی شامل تھی۔
​آج جب خیبر پختونخوا کے عوام، معصوم شہری، پولیس اور سیکورٹی فورسز روزانہ کی بنیاد پر اپنے جوانوں کے جنازے اٹھا رہے ہیں، تو اس کی وجہ خیبر پختونخوا کے لوگ یا عام عوام بالکل نہیں ہیں، بلکہ حکومت وقت، سیاسی اشرافیہ اور پالیسی سازوں کا وہ طرزِ عمل ہے جس کے تحت ایک طرف سیاسی مفاد کے لیے رابطے رکھے گئے اور دوسری طرف TTP سے التجا کی گئی کہ وہ مخصوص علاقوں کو چھوڑ کر دیگر حصوں میں جو چاہیں کریں۔ مریم نواز صاحبہ کی جانب سے خیبر پختونخوا کو ‘خطرہ’ قرار دینا اسی تاريخی پالیسیوں، حکمران طبقات کی ناکامیوں اور اپنے خاندان کی سیاسی تاریخ پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
​خطرہ صوبوں کے عوام کو ایک دوسرے سے بالکل نہیں ہے، نہ پنجاب یا کسی اور صوبے کے عام شہریوں سے خیبر پختونخوا کو کوئی شکایت ہے، بلکہ پورا خطرہ اس حکمران اشرافیہ، اقتدار کے بھوکے سیاستدانوں اور ان زہریلی پالیسیوں سے ہے جنہوں نے اپنے اقتدار کی خاطر دہشت گردی کی نرسریوں کو قانونی کور دیا، فنڈز لیے، اپنے اقتدار کو بچانے کے معاہدے کیے اور باقی ملک بالخصوص خیبر پختونخوا کے مظلوم عوام کو بارود اور خون کے حوالے کر دیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں