مکالمہ سے میرا رشتہ/ڈاکٹر ابرار ماجد

میرے لکھنے کے شوق کو عوام تک پہنچانے میں پہلی حوصلہ افزائی “ہماری ویب” نے دی، لیکن سائبر دنیا میں اس سفر کو مکمل کرنے اور آگے بڑھانے میں “مکالمہ” کا بھی انتہائی مثبت اور فعال کردار رہا ہے۔

“مکالمہ” سے میری ملاقات یوں ہوئی کہ ایک دن میں اپنی تحریروں کی اشاعت کی کوششوں میں تھا کہ غائبانہ طور پر اس کا تعارف ہوا۔ معلوم ہوا کہ اس کے ایڈیٹر صاحب ایک وکیل ہیں، تو دل نے کہا کہ یہ تو اپنا ہی کوئی پورٹل ہے! اسی گھمنڈ اور بے تکلفی میں، میں نے بغیر سوچ بچار کے انعام رانا صاحب کو ایک پیغام بھیج دیا۔ انہوں نے میری توقعات سے بڑھ کر یوں حوصلہ افزائی کی کہ شاید میرے کالمز کی تدوین کا اختیار بھی مجھ پر ہی چھوڑ دیا، جو کہ اعتماد کی انتہا تھی۔

اس اعتماد کی کیفیت یہ تھی کہ ادھر میں کالم بھیجتا تھا اور دوسری طرف سے چند ہی لمحات میں اشاعت کا لنک موصول ہو جاتا، یوں لگتا جیسے کوئی روبوٹ کام کر رہا ہو! اس بے مثال اعتماد پر میں بھائی انعام رانا اور ان کی پوری ٹیم، خصوصاً بہن عاصمہ مغل کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں۔ اس محبت نے میرے اندر احساسِ ذمہ داری کو مزید بڑھا دیا، جسے نبھانے میں، میں نے اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔

پھر ایک دن فرطِ محبت میں مجھ سے رہا نہ گیا تو میں نے عاصمہ بہن سے پوچھ ہی لیا: “کیا آپ کبھی آرام نہیں کرتیں؟ دن ہو یا رات کا کوئی حصہ، میں جیسا بھی کالم بھیجوں، آپ اسے شائع کر کے مجھے زیر کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔” اس پر انہوں نے جو جواب دیا، وہ میرے اندازوں کے مطابق ۲۰۰ فیصد درست تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تربیت ان کے والدین نے اس انداز سے کی ہے کہ ان کی ہر بات اور عمل میں محبت کا خزانہ چھپا ہے۔

پھر انعام بھائی سے معلوم ہوا کہ عاصمہ کے نام کے ساتھ کچھ تبدیلی ہوئی ہے (یعنی ان کی شادی ہو گئی ہے)، جسے انہوں نے شاید “مغل” کے لفظ کے پیچھے چھپا رکھا تھا۔ اس بات سے بے خبر رہنے میں میری اپنی غفلت کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا ازالہ میں خود ہی چاول پکا کر اور کھا کر کر لوں گا!

خیر، لفظوں کی انہی عنایتوں نے ہمیں “مکالمہ فیملی” بنا دیا ہے۔ اس بندھن پر ہماری تمام وفائیں، سماعتیں، صدائیں، سوچیں اور تحریریں مکالمہ فیملی کی اداؤں اور تمناؤں پر قربان ہیں۔

میں معذرت خواہ ہوں کہ اس بار سالگرہ کے موقع پر عاصمہ بہن کو اس طرح مبارکباد یا ریسپانس نہ دے سکا جس کی وہ حقدار تھیں۔ لیکن میرے ان سے عمر میں بڑا ہونے اور ان کے کھلے دل پر مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اس بات کا بالکل برا نہیں مانیں گی۔

آخر میں، میری طرف سے “مکالمہ” کی پوری فیملی اور اس کے سربراہان کو دلی مبارکباد! مجھے آج اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ “مکالمہ” کے لفظ، اس کے مزاج اور اداؤں میں لطافت، چاشنی، اعتماد، محبت اور شفقت کی لاج رکھنے میں ہم سب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کی گواہی قارئین کی وہ محبت ہے جس کے باعث “مکالمہ” دھیرے دھیرے ہمارے معاشرے کی ایک مضبوط فکری آواز بنتا جا رہا ہے۔

اس موقع پر میں اپنے تمام قارئین کا بھی “مکالمہ فیملی” کا حصہ ہونے کے ناطے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میری گزارش ہے کہ میرے الفاظ کے پیچھے چھپے جذبات کو کسی فارمل انداز میں نہ دیکھا جائے بلکہ انہیں دل سے محسوس کیا جائے۔ میں ذاتی طور پر محبت اور عشق کی تعریف ہی یہ کرتا ہوں کہ “اپنے احساسات کو کسی دوسرے کی ملکیت میں دے دینا کہ وہ جیسے چاہے ان پر حکمرانی کرتا پھرے۔” اس لیے آخر میں میری اپنی تمام فیملی سے یہی التجا ہے کہ ایسے جذبوں اور احساسات کی مکمل حوالگی کے لائق صرف ایک ہی ذات (ربِ کریم) ہے، اور انسان ان کا حقدار صرف اس کے خلیفہ ہونے کی حیثیت سے ہے۔

سچ پوچھیں تو دل سے لکھنے اور پھر اس پر زیادہ نہ سوچنے کی میری عادت اس “مکالمہ” نے ہی خراب کر رکھی ہے! اس لیے اگر لکھتے ہوئے کوئی غلطی یا کوتاہی ہو گئی ہو تو ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں۔بحثیت فیملی ممبر مکالمے کی ترویج تو میرے دل کی تمنا ہے
With best regards,

اپنا تبصرہ لکھیں