اسلام آباد قدرتی نظاروں کے حسن سے مالا مال اور دلوں کو بھانے والے موسموں کا ایک پر شکوہ شہر ہے۔ کوہ مری اور گلیات کے نواح میں ہونے کی وجہ سے یہ شہر لاہور، ملتان اور کراچی کے مقابلے میں پہاڑی علاقوں کے خوشگوار اثرات کو اپنے اندر سمو ۓ رکھتا ہے۔ اگر مری اور قرب و جوار کے دلکش پہاڑی سلسلوں کو کسی خوبصورت دلہن کے عروسی لباس سے تشبیہ دی جاۓ۔ تو یہ شہر اس دلہن کےکامدانی ہے کے نقرئی کام سے مزین اس ڈوپٹے کی مانند ہے جو کبھی گھونگھٹ اور کبھی آنچل بن کر جھلمل کرتا، ہوا کے دوش پہ لہراتا دکھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد میں، مری اور مرگلہ سے قریب تر ہونے کی وجہ سے، ارد گرد کی بارشوں کے دوران، رم جھم کی سوغات یوں نیچے اترتی ہیں جیسے پڑوس سے بھیجے گئے کھانوں کی لذیذ ڈشیں خوان نعمت پر سج گئی ہوں۔ ایسے میں اکثر درختوں کے پتوں اور سبزے پر گوہر بارباران کے شفاف قطروں کی رعنائیوں اور ٹھندی ہوائوں کا وہ سکون بخش سمان پیدا ہو جاتا ہے گویا زمین پر جنت اتر آئی ہو۔ خوبصورت پھولوں سے سجے گلشنوں کا یہی حسن ہے جو لوگوں کے مزاج اور احساسات کو محبت اوروفاؤں کے جذبات سے ہم کنار کرتا ہے۔۔ اجھی ہمسائیگی کی یہ دین سکون بخش محسوس ہوتی ہے جہاں محبت کرنے والے لوگ بستے ہوں اور سکھ چین پاتے ہوں۔ ہمارے آس پاس رہنے والوں کے رویے اچھے ہوں تو زندگی سہولت اور خوبصورتی کا حسین امتزاج بن جاتی ہے۔ مگر نہ جانے کیوں اس سال کئی ماہ سے (حالیہ بارشوں سے پہلے) اسلام آباد اور اس سے متصل بعض علاقوں میں گرم ہواؤں اور آگ برساتی گرمی نے درختوں کے پتوں کے گرد خاک و گرد کے جالے بن رکھے تھے۔ ہر طرف گرم ہواؤں نے حواس و مزاج میں غیر معمولی تپش پیدا کر رکھی تھی۔ لوگ گھروں میں دبک گئے تھے۔ رہ نوردوں کے لئے سایہ بھی حسرت بن گیا تھا۔ راستے سنسان اور بازار ویران اور بے رونق ہو گئے تھے۔
اس سال گرمی کے موسم نے اپنا ایسا رنگ دکھایا کہ پورے ملک کی طرح اسلام آباد کے باسیوں کے ہنستے مسکراتے چہرے بھی کمہلا کر رہ گئے۔ گرمی کی شدت نے اشجار و طیور کی پیاس کو بھڑکا دیا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسلام آباد کے پڑوس میں واقع ہمارا علاقہ، جو ملٹی پروفیشنل کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی ( MPCHS) کے نام سے مشہور ہے، یہ (بی-17) بھی کہلاتا ہے، گرمی کی شدت اور خشک سالی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یہ جگہ اگرچہ خوبصورتی اور اشیاء کی فراہمی کے اعتبار سے کاروباری سہولیات سے مزین ہے، لیکن اس سوسائٹی کے بہت سے بلاکس میں زیر زمین پانی ناپید ہے۔ یہاں کے شہریوں کو سوسائٹی کی طرف سے واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہر روز تپش اور بڑھتی ہوئی بے درد گرمی نے پانی کا مزید بحران پیدا کردیا۔ نتیجتاً فالتو ٹینکرز کی قیمتوں میں پچاس فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے میں عام بات ہے کہ جہاں کسی چیز کی رسد کم ہوئی وہاں اس کی قیمتوں کو پر لگ گئے۔ ان حالات میں متاثرہ لوگوں کے مزاج میں بھی خشکی اور چہروں پہ ناگواریت کے سائے پھیل جاتے ہیں۔
اچھے ہمسایوں کا ملنا اسی طرح نصیب سے ہوتا ہے جیسے بیٹیوں کو اچھی سسرال اور بیٹوں کو اچھی بیگمات ملتی ہیں۔ ایسا نہ ہو تو زندگیاں گرمیوں میں پھیلتی ویرانیوں کی طرح تکلیف دہ ہوجاتی ہے۔ ہمسائے اچھے ہوں تو اپنائیت ہر ایک کے گلے کا ہار بن جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرا میں شجر سایہ دار قطار باندھے کھڑے ہوں۔ ایک دوسرے کا خیال کرنے کی ٹھندی ہوائیں سرسرائیں تویوں گمان ہوتا ہے جیسے باد صبا مسرت کے خوشبو دار پھولوں سے مہک اٹھی ہو۔ یادش بخیر،ایک وقت تھا جب لاہور میں ہماری اوائل عمری کے زمانے میں محلے داری اور آپس داری کی آبشاریں تصنع کے میل سے پاک میل جول کو دلکش بنایا کرتی تھیں۔ ہمارے والدین مخلصانہ ناطوں کے قائل تھے۔ جب بھی گھر میں پلاؤ، بریانی، پاۓ نہاری بنتی وہ خاص اہتمام سے محلے بھر کے گھرانوں میں کھانے کے ڈونگے بھیجتے تھے۔ یہ ڈونگے کھانے اور محبت دونوں سے بھرے ہوتے تھے۔ عید کے موقع پر بیشر ہمسایوں کے بچوں میں عیدیاں بانٹی جاتی تھیں۔ ساری خوشیاں اور غم حقیقی اعزاء کی طرح سانجھی ہوا کرتی تھیں۔ کوئی لڑائی جھگڑا ہوتا نہ کسی کو گریز پا کی ضرورت پڑتی تھی۔
لاہور کی حسین یادیں لئے ہم راولپنڈی آئے تو یہاں بھی اچھی ہمسائیگی نے ہمارے قیام کو خوبصورت برتاؤ سے مالا مال کیا۔ سجیلی صبح شام کی مہمان نوازی نے اور رشتہ داروں، مخلص ہمسایوں نے جیون کو آبدار نگینوں کی مانند شب و روز کوچمکتا دمکتا بنا دیا تھا ۔ ایک طرف سادگی تھی۔ زندگی میں تصنع اور بناوٹ کا شائبہ تک نہ تھا۔ دوسری طرف دوستوں کی رفاقت نے لگاؤ کی ثقافت قائم کر رکھی تھی۔ ہمارے دوستوں میں لیاقت علی خان مرحوم، خالد پرویز صدیقی، غضنفر علی، ذیشان پرچون والا، رفیق بیکری والا، اشرف چنگیزی مرحوم تھے۔ طارق ڈین، جناب رؤف صاحب اور عبد الطیف عرف غفوری بھی محبانوں میں شامل تھے۔۔ ہم سید پوری گیٹ میں رہائش رکھتے تھے۔ عید کی نماز سیٹلائٹ ٹاؤن میں ادا کرتے تھے ۔ واپسی پر راستے میں ہمارے والد مرحوم ہمیں اپنے دوست چچا مرزا جی کے گھر ضرور لے جاتے تھے۔ جہاں شیر خورمہ ، مٹھائی اور چاۓ سے ہماری تواضع ہوا کرتی تھی۔ محلے داروں کے ساتھ کبھی کوئی اختلاف ہوا نہ کسی بات پہ لڑائی جھگڑا اور خفگی ۔ آرام، سکون اورآپس داری نے گویا گلی محلے کے راستوں میں محبت کے روشن دیپ جلتے تھے۔ مگر جونہی اسلام آباد میں قدم رکھا ما سوائے ارشد اقبال اور انکے والد کی قربت کے پراۓ ہوگئے۔ کوئی جان نہ پہچان نہ مزاجوں میں ہم اہنگی۔ اب بی-17 میں انجینئر ارشد، پروفیسر غلام مصطفے’ ، اور فاروقی صاحب کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ اور بس ۔ ۔بیگانگی، عدم مروت اور رواداری سے بیزاری دکھائی دیتی ہے۔ اسلام آباد جہاں دوسرے مقامات سے آۓ ہوۓ مختلف لوگوں کے مختلف مزاج ہوتے ہیں، وہ کم کم ملتے ہیں۔ لیکن ہمارے مہربانی فیاض احمد نے ہمارے اس تاثر کی ایسی نفی کی کہ تب سے اب تک لئے عشرے گزرنے کا باوجود محبت و احترام کے رشتے ہنوز جوان ہیں۔ یہاں ٹھندی ہوائیں کم اور اکیلے پن کی ٹھندی آہیں زیادہ ہیں۔ بھلا ہو بنک۔ مینیجر علی عمران صاحب کا جو اس اداسی میں تشفی اور خوش خلقی کا استعارہ ہیں۔


