تضادات کا شکار معاشرہ — ایک لمحۂ فکریہ/ شہباز الرحمن خان

ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے معاشروں میں ایک عجیب اور قابلِ غور تضاد نظر آتا ہے۔ جب لوگ اپنے ملکوں میں رہتے ہیں تو غربت، مفلسی، بیماری، بدانتظامی اور لاقانونیت جیسے مسائل کے درمیان زندگی گزارتے ہیں، لیکن ان کی ایک بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ رمضان میں حج یا عمرے کے لیے سعودی عرب جائیں، گرمیوں کی چھٹیاں مغربی ممالک میں گزاریں، اور اپنے بچوں کو قرض لے کر، گاڑیاں یا جائیدادیں بیچ کر یورپ یا امریکہ بھیج دیں تاکہ وہ وہاں بہتر مستقبل حاصل کر سکیں۔
لیکن جب یہی لوگ مغربی ممالک میں جا کر آباد ہوتے ہیں تو انہیں اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کی شدت سے ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ وہ اسلامی اسکول تلاش کرتے ہیں، مدارس اور قرآن پڑھانے والے اساتذہ کی تلاش کرتے ہیں، حلال کھانے اور بریانی، نہاری جیسے اپنے روایتی کھانوں کو یاد کرتے ہیں اور اپنی تہذیبی شناخت سے جڑے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری طرف جب وہ اپنے آبائی ملک واپس آتے ہیں تو بعض اوقات غریب رشتہ داروں اور اپنے اردگرد کے لوگوں پر اپنی معاشی کامیابی کا اظہار کرتے ہیں۔ قسطوں پر لی ہوئی گاڑی، قسطوں پر خریدا ہوا گھر یا مہنگا موبائل فون دکھایا جاتا ہے، انگریزی بول کر برتری کا تاثر دیا جاتا ہے اور یوں یہ احساس پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہم آپ سے زیادہ کامیاب اور بہتر ہیں۔
اگر اس رویے کو گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ دراصل معاشی، سماجی، تہذیبی اور فکری تضادات کا نتیجہ ہے۔ ایسے معاشرے میں پروان چڑھنے والا فرد بیک وقت کئی مختلف اور بعض اوقات متصادم شناختوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ اسے مغرب کی معاشی ترقی اور سہولتیں بھی چاہییں، اپنی مذہبی شناخت بھی عزیز ہے، اپنی تہذیب سے وابستگی بھی برقرار رکھنی ہے، لیکن اپنے ہی معاشرے میں وہ اسی شناخت اور تہذیب سے فاصلے کا اظہار بھی کرتا ہے۔
اسی حوالے سے ایک ویڈیو قابلِ غور ہے جس میں ایک ہندوستانی خاتون اپنے گھر کو کرائے پر امریکہ میں دیتی ہیں، لیکن کرایہ دار کے گھر میں بیف باربی کیو کرنے اور شراب نوشی کرنے پر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے ذہنی اور جسمانی اذیت تک پہنچتا ہے اور بالآخر ریاستی اداروں کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔
اس واقعے کو کسی ایک فرد یا ایک قوم کے خلاف فیصلہ سمجھنے کے بجائے ہمیں اسے ایک بڑے سماجی سوال کے طور پر دیکھنا چاہیے: ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟
ہم مغرب کی معاشی ترقی، قانون کی حکمرانی، شہری آزادیوں، تعلیم اور سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن جب انہی معاشروں میں رہتے ہیں تو اپنے مذہبی اور ثقافتی اصولوں کے لیے الگ دائرہ بھی چاہتے ہیں۔ پھر جب اپنے ملک واپس آتے ہیں تو بعض اوقات اسی معاشرے کے لوگوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ تضاد صرف فرد کا نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویوں کا بھی آئینہ ہے۔
زندگی کے ایک بڑے حصے کے بعد، صرف معاشی کامیابی کی تلاش میں دوسرے معاشرے میں جا کر اگر انسان اپنی شناخت، عزت اور ذہنی سکون کے بنیادی سوالات سے دوچار ہو جائے تو یہ محض ذاتی مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ ہمارے معاشرتی اور فکری ڈھانچے کے لیے بھی لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔
ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کا مطلب صرف بیرونِ ملک منتقل ہونا، مہنگی گاڑی خریدنا، غیر ملکی زبان بولنا یا دولت کمانا نہیں۔ حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب ہمارے اپنے معاشرے میں بھی قانون کی حکمرانی، تعلیم، صحت، روزگار، انسانی وقار اور شہری آزادیوں کے وہ مواقع پیدا ہوں جن کے لیے لوگ اپنا ملک، اپنے والدین، اپنے رشتے اور اپنی جڑیں چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔
یہ سوال کسی ایک مذہب، ملک یا قوم کا نہیں؛ یہ ہم سب کے لیے غور و فکر کا مقام ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں