شکر سے بنی لڑکی۔۔۔۔۔صادقہ نصیر رانا

شکر سے بنی لڑکی۔۔
وہ کیسی لڑکی تھی۔
بہت چینی میٹھا کھاتی تھی۔
ساری شکر
ساری مٹھائیاں
اور بہت سارے میٹھے آم ۔
وہ سارا میٹھا کھا جاتی تھی۔
ماں اس سے چھپاکر مٹھائی رکھتی تھی۔
پر وہ بڑی رسیا تھی مٹھائی کی۔
نہ جانے وہ کیسے ڈھونڈ لیتی تھی
چھپائی ہوئی مٹھائی۔
روزانہ ٹرنک اور الماری میں سے چھپی ہوئی مٹھائی کو رفتہ رفتہ نکال کر کھا جاتی تھی؛
گلاب جامن ، بیسن کا حلوہ،
فریزر کے خفیہ خانے میں رکھی ہوئی ساری میٹھی ٹھنڈی قلفیاں ۔
اور برفی کی تو وہ عاشق تھی۔
ماں ڈانٹ کر کہتی؛ “میں نے مہمانوں کے لئے رکھی تھی”۔
ماں ناراض ہوتی تھی۔
اس کو مہمانوں کی پرواہ کب تھی۔
ایک دن ساری خفیہ مٹھائی کا ڈبہ ختم ہوگیا ۔
اسے بھی معلوم نہ تھا کہ ڈبے میں اب برفی نہیں ہے۔
اس نے کپڑوں میں چھپی مٹھائی کو ہاتھ ڈالا ؛
ڈبے میں سے چیونٹیاں نکل رہی تھیں۔
چیونٹیوں کا انبوہ
مٹھائی کے ذرے کھا کر نکل رہا تھا۔
چیونٹیاں بھی مٹھائی کی عاشق ہوتی ہیں۔
ماں نے کہا دانتوں میں کیڑا لگ جائے گا
وہ سوچنے لگی؛
ایسی ہی چیونٹیوں جیسا؟؟؟
پھر اس نے سنا کہ جو میٹھا کھاتا ہے؛
وہ میٹھا ہو جاتا ہے۔
زہریلی موذی بیماریاں؛
اور کڑوے زہریلے لوگ اسے کھا جاتے ہیں۔
اس کو ڈر لگا۔
پر اب کیا ہو سکتا تھا۔۔
وہ تو سر سے پاؤں تک شیرے میں لتھڑ چکی تھی۔
پہلے دانتوں کو کیڑا لگا
اور پھر اس کے میٹھے خون سے بنے وجود کو زہر یلے آدم خور حیوانوں نے کھا لیا ۔۔
اب وہ میٹھا نہیں کھاتی۔
بس زہر پیتی ہے۔
کیونکہ وہ ایک منفرد
میٹھی سوچ رکھتی تھی۔
جب وہ کریلے کا عرق پیتے ہوئے ہنس کر سوچتی ہے ؛
سقراط نے بھی تو کوئی میٹھی بات کی ہوگی۔
تبھی زہر کا جام
اس کو کھا گیا۔۔
میٹھا کھانے اور
میٹھا ہونے کا انجام
نہ معلوم اچھا ہے یا برا؟
میٹھے آموں اور برفی کا قرض چکانا پڑتا ہے۔
پر میٹھے کے عاشق برے نہیں ہوتے۔۔
شکر ہی بانٹتے ہیں۔
۔۔
اپنا تبصرہ لکھیں