امن کے دعوے اور لاشوں کا حساب / اے وسیم خٹک

سیاست میں سب سے سستی چیز دعویٰ ہے اور سب سے مہنگی چیز حساب۔ خیبر پختونخوا میں برسوں سے ایک جملہ بار بار دہرایا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کا دور امن کا دور تھا۔ جملہ اتنی بار بولا گیا کہ کچھ لوگوں کو سچ لگنے لگا۔ مگر صحافت کا پہلا سبق یہ ہے کہ ہر دعوے کو تاریخ کے سامنے کھڑا کر کے دیکھو۔ اگر وہ ٹھہر جائے تو مان لو، ورنہ سوال اٹھاؤ۔ آج میں یہی کرنا چاہتا ہوں۔
2013 میں پی ٹی آئی نے صوبے کی حکومت سنبھالی اور اسی برس ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر حملہ ہوا، جس میں سینکڑوں قیدی فرار ہو گئے۔ ستمبر میں پشاور کے آل سینٹس چرچ میں سو سے زائد بے گناہ عبادت گزار مارے گئے۔ 2014 میں پشاور اور کوہاٹ کی امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا، اور پھر 16 دسمبر آیا، جب آرمی پبلک سکول کے ڈیڑھ سو کے قریب معصوم شہید ہوئے، جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔ جنوری 2016 میں چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی لہو میں نہا گئی۔ 2018 میں ہارون بلور اپنے بیس سے زائد ساتھیوں سمیت پشاور کے انتخابی جلسے میں شہید ہوئے۔ اور مارچ 2022 میں قصہ خوانی بازار کی ایک مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ساٹھ سے زائد نمازی خاک و خون میں لوٹ گئے۔

یہ فہرست یہیں ختم نہیں ہوتی۔ مردان، شبقدر، چارسدہ اور پشاور کے چھوٹے بڑے دھماکے الگ ہیں، اور ٹارگٹ کلنگ میں مارے جانے والے پولیس اہلکار، سیاسی کارکن اور علما بھی الگ۔ مگر مقصد اعداد و شمار کی جنگ لڑنا نہیں۔ سوال بہت سادہ ہے۔ جس دور میں مسجدیں، گرجا گھر، امام بارگاہیں اور درس گاہیں محفوظ نہ ہوں، اسے امن کا دور کہنا امن کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟
انصاف کا تقاضا ہے کہ یہ بھی مان لیا جائے کہ دہشت گردی کے سب سے خونریز برس 2009 سے 2014 کے تھے، ضربِ عضب کے بعد حالات بہتر ہوئے، اور انسدادِ دہشت گردی کسی ایک صوبائی حکومت کا اکیلا کام نہیں۔ وفاق اور ریاستی ادارے برابر کے شریک ہیں۔ میں یہ رعایت دینے کو تیار ہوں۔ مگر رعایت اور ملکیت میں فرق ہوتا ہے۔ جو جماعت امن کا سہرا اپنے سر باندھنا چاہے، اسے جانوں کا حساب بھی اپنے نام لکھوانا ہوگا۔ کریڈٹ کے وقت ہم اکیلے اور حساب کے وقت سب شریک، یہ اصول سیاست میں تو چل جاتا ہے، ضمیر کی عدالت میں نہیں۔

اصل تشویش کی بات وہ ہے جو ان واقعات کے بعد سامنے آئی۔ ایکسپریس ٹریبیون نے 22 نومبر 2021 کو خبر دی کہ حکومت نے سو سے زائد ٹی ٹی پی قیدی خیرسگالی کے طور پر رہا کر دیے، اور ان میں سے بیشتر نے چھ ماہ کا انتہا پسندی سے واپسی اور بحالی کا پروگرام مکمل ہی نہیں کیا تھا۔ دسمبر 2022 میں دی نیوز نے عمران خان کا یہ بیان شائع کیا کہ ان کی حکومت کابل کے ساتھ تقریباً چالیس ہزار پاکستانی طالبان کی آباد کاری پر بات چیت کرتی رہی، جن میں پانچ سے دس ہزار جنگجو بھی شامل تھے۔ جنوری 2023 میں ڈان نے رپورٹ کیا کہ وہ سابق فاٹا میں ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو آباد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔

ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے۔ جس تنظیم نے اے پی ایس کے بچوں کے خون کی ذمہ داری قبول کی، اس کے قیدیوں کے لیے خیرسگالی؟ جن قبائلی اضلاع کے لوگ آپریشنوں کے بعد بڑی مشکل سے اپنے گھروں کو لوٹے تھے، وہاں انہی جنگجوؤں کی آباد کاری کا خیال؟ مجھے نہیں معلوم کہ ان فیصلوں کے پیچھے کون سی مجبوریاں اور کون سے مشورے تھے، اور یہ بھی سچ ہے کہ ایسے فیصلے تنہا کسی ایک جماعت کے نہیں ہوتے۔ مگر جو فیصلہ سازی کی میز پر بیٹھا ہو، اس سے سوال پوچھنے کا حق ان ماؤں کو ضرور ہے جن کی گود اجڑ گئی۔

اس کے بعد کیا ہوا، یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ تجزیہ کار آج تک بحث کرتے ہیں کہ کالعدم تنظیم کو دوبارہ سانس کیسے ملی۔ جنوری 2023 میں پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں سو کے قریب اہلکار شہید ہوئے، اور صوبے کے لوگوں نے پھر وہی مناظر دیکھے جو وہ برسوں پہلے دیکھ چکے تھے۔ ہر بار کوئی نہ کوئی وضاحت آتی ہے، کوئی نہ کوئی بیان، اور کوئی نہ کوئی نیا دعویٰ۔
امن نعروں سے نہیں آتا، ان فیصلوں سے آتا ہے جن کی قیمت لیڈر خود ادا کرتا ہے۔ ہمیں نہ کسی جماعت سے دشمنی ہے نہ کسی سے عقیدت۔ ہمیں بس اتنا چاہیے کہ جو ہماری لاشوں پر امن کی عمارت کھڑی کرنے کا دعویٰ کرے، وہ پہلے بنیادوں کا حساب دے۔ اور جب تک یہ حساب نہیں ہوتا، ہر دعوے کے پیچھے ایک سوال کھڑا رہے گا: اگر یہ امن تھا، تو وہ جنازے کس کے تھے؟

اپنا تبصرہ لکھیں