عالمی معیشت اور تزویراتی جغرافیے کی تاریخ گواہ ہے کہ سمندروں کی خاموشی میں کرۂ ارض کا رزق اور خوشحالی پوشیدہ ہوتی ہے، اور جب وہاں عسکری طلاطم پیدا ہو تو اس کے اثرات ہر براعظم کے ہر گھر تک پہنچتے ہیں۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کا موجودہ بحران اسی حقیقت کا سفاک ترین منظر نامہ ہے۔ رواں برس فروری اور مارچ 2026 میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے مابین کھلنے والے خونی معرکے نے جس آتش فشاں کی بنیاد رکھی تھی، وہ چھ ماہ کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد ستمبر میں بھی پوری طرح ٹھنڈا نہیں ہو سکا۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر راستہ “کھلا” ہونے کے دعوے کرنے والی سفارت کاری کے برعکس ستمبر 2026 کے تازہ ترین اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جس گزرگاہ سے یومیہ سوا سو سے زائد دیوہیکل تجارتی جہاز اور ٹینکرز اچھلتی لہروں کو چیرتے ہوئے گزرتے تھے، وہاں چوبیس گھنٹوں میں بمشکل تین سے چار تجارتی جہازوں کی آمد و رفت ریکارڈ کی گئی ہے۔ عالمی بحری تجارت اور سنڈیکیٹ انشورنس کمپنیاں جس خوف اور ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، وہ اس حقیقت کو ثابت کرتی ہے کہ تجارتی شاہراہوں کی اصل قوت صرف ان کا نقشے پر “موجود” ہونا نہیں بلکہ عملی طور پر “قابلِ اعتماد” ہونا ہوتی ہے۔ جس بازار کا دروازہ اس شرط پر کھلا ہو کہ اندر قدم رکھتے ہی سر پر پریسجن گائیڈڈ میزائل گر سکتا ہے، اسے جغرافیے کی زبان میں راستہ نہیں بلکہ معاشی تباہی کا گہرا کنواں کہا جاتا ہے۔
اس عالمی تباہی کا حجم سمجھنے کے لیے اعداد کا باریک بینی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔ دنیا کی کل پیٹرولیم مصنوعات کا تقریباً 20 فیصد، سمندری تیل کی تجارت کا ایک چوتھائی اور عالمی مائع قدرتی گیس (LNG) کی 20 فیصد سے زائد رسد اسی باریک آبنائے ہرمز کی مرہونِ منت ہے۔ یہاں ذرا سا بھی عسکری تحرک بیجنگ سے برلن اور ٹوکیو سے لے کر کراچی تک کی پیداواری صلاحیت کو فالج زدہ کر دیتا ہے۔ یہی دلخراش صورتحال باب المندب کی بھی ہے، جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور بحرِ عرب سے جوڑنے والا سب سے حساس معاشی جوڑ ہے۔ 2023 میں جہاں سے روزانہ 9.3 ملین بیرل ایندھن گزرتا تھا، وہاں اب یہ مقدار گھٹ کر 4.2 ملین بیرل سے بھی نیچے آ چکی ہے اور ایل این جی گیس ٹینکرز کا گزرنا تقریباً صفر ہو چکا ہے۔ عالمی تجارتی جہازوں کو اب برعکس سمت میں افریقا کے انتہائی جنوبی نقطے یعنی رأس امید (Cape of Good Hope) کا ہزاروں میل طویل، انتہائی گراں قدر اور خطرناک چکر کاٹنا پڑ رہا ہے، جس نے عالمی لاجسٹکس اخراجات میں سیکنڑوں فیصد اضافہ کر دیا ہے۔
سعودی عرب نے دہائیوں پہلے اس جغرافیائی قید سے نکلنے کی ایک تدبیر کی تھی۔ مشرقی خطے کے تیل کے کنوؤں سے خام مال اٹھا کر 1,200 کلومیٹر طویل مشرق-مغرب پائپ لائن کے ذریعے پورے صحرائے عرب کو پار کرا کے اسے بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع تک پہنچایا گیا، تاکہ ہرمز کی ناکہ بندی کے باوجود ایندھن کی برآمد جاری رہ سکے۔ مگر جنگ کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ بارود کبھی کاغذی نقشوں اور زمینی پائپ لائنز کی سرحدوں کا احترام نہیں کرتا۔ رواں ستمبر کے دوران اسی پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں پر ڈرون حملے کیے گئے اور ینبع کی ریفائنریز کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔ اگرچہ تہران اور بغداد کی سمت اشارے کیے گئے، مگر ایک ذمہ دار اور معروضی صحافتی نقطۂ نظر کا تقاضا ہے کہ شبہ کو خبر نہ بنایا جائے اور بغیر کسی آزاد و بین الاقوامی تصدیق کے حتمی فیصلہ صادر نہ کیا جائے۔ تاہم اس احتیاط سے ایران کا علاقائی اثر و رسوخ اور یمن کے حوثیوں کو ملنے والی عسکری و فنی معاونت نفی نہیں ہوتی۔ لیکن حوثی قیادت کو تہران کا محض ایسا بے جان ریموٹ کنٹرول سمجھنا جس کا بٹن دبایا جائے اور میزائل داغ دیا جائے، یمن کی اپنی خودمختار سیاسی تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت ہوگا۔ اگر تہران مکمل طور پر بے اثر ہوتا تو بیجنگ کبھی سعودی درخواست پر ایران سے یہ التجا نہ کرتا کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر استعمال کر کے بحیرۂ احمر کی ناکہ بندی میں نرمی لائے۔
19 ستمبر 2026 کی تازہ ترین سیکیورٹی اطلاعات نے اس کشیدگی کو ایک انتہائی نزاقت آمیز موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ سعودی سول ڈیفنس نے طائف، جبالِ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور ینبع سمیت متعدد علاقوں میں ہنگامی سیکیورٹی الرٹس جاری کیے۔ طائف کی جانب حوثیوں کے داغے گئے ڈرون اور میزائل کے ملبے سے جانی و مالی نقصان کی خبریں سامنے آئیں اور مکہ مکرمہ کے جنوب میں ممنوعہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے دعوے کیے گئے۔ اگرچہ حوثی قیادت نے ان دعووں کی تردید کی ہے، مگر حرمین شریفین کی مقدس ترین زمین کے بالکل قریب عسکری ملبہ گرنا اور بارود کی گونج سنائی دینا امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ حرمین کی حرمت ہر مسلمان کے ایمان کی اساس ہے جس پر کسی قسم کا سمجھوتا ممکن نہیں.سعودی سول ڈیفنس نے طائف، جبالِ ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور ینبع سمیت متعدد علاقوں میں ہنگامی سیکیورٹی الرٹس جاری کیے۔ طائف کی جانب حوثیوں کے داغے گئے ڈرون اور میزائل کے ملبے سے جانی و مالی نقصان کی خبریں سامنے آئیں اور مکہ مکرمہ کے جنوب میں ممنوعہ فضائی حدود کی خلاف ورزی کے دعوے کیے گئے۔ متحدہ عرب امارات (UAE) کی وزارتِ خارجہ نے بھی سعودی عرب کی سرزمین پر ہونے والے ان حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
اس تمام پس منظر میں 7 اگست 2026 کو طے پانے والا *مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ (Mecca Joint Defence Agreement)* خطے کی تاریخ کی ایک اہم ترین پیش رفت بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے میں آرٹیکل 5 کے طرز پر یہ اصول شامل کیا گیا کہ کسی ایک ریاست پر مسلح عسکری حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان نے اپنے پختہ سفارتی و عسکری موقف کا اعادہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے تحفظ اور حرمین الشریفین کی سلامتی کے لیے مکمل طور پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔ اس دفاعی معاہدے اور دوطرفہ سلامتی کے تحت پاکستان نہ صرف سعودی عرب کے دفاع کا پابند ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر حوثیوں کے ان عسکری ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گا جو سعودی سرحدوں یا مقدس مقامات کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بنیں گے۔ پاکستان کا یہ واضح موقف خطے میں کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رکھتا۔حرمین شریفین کی مقدس ترین زمین کے بالکل قریب عسکری ملبہ گرنا اور بارود کی گونج سنائی دینا امتِ مسلمہ کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ دوسری جانب جہاں امریکا اپنا راہ فرار ڈھونڈ رہا ہے اس کے حوثیوں سے پرانے رابطے ہیں ، نقصان اس سب میں امت مسلمہ کا ہو رہا ہے۔
امریکی پالیسی کا جائزہ لیا جائے تو واشنگٹن کی عسکری تاریخ میں گوریلا اور ناہموار جنگوں (Asymmetric Warfare) کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ ویتنام اور افغانستان جیسی دہائیوں پر محیط جنگیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا طویل اور پیچیدہ عسکری دلدل میں بارہا پھنستا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ موجودہ محاذ پر بھی امریکی سینٹرل کمانڈ اور دفاعی تجزیہ کاروں (CSIS) کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ پینٹاگون نے اپنے جدید ترین گائیڈڈ ہتھیاروں اور کروز میزائلوں کا وہ حجم استعمال کر ڈالا ہے جو حالیہ تاریخ میں بے مثال ہے۔ ہزاروں ٹوماہاک کروز میزائل اور جدید ترین پیٹریاٹ و تھاڈ انٹرسیپٹرز اس جنگ میں جھونک دیے گئے ہیں۔ تاہم امریکی حکمتِ عملی پر سخت سوالات اٹھ رہے ہیں کیونکہ پینٹاگون اپنے اربوں ڈالر کے مہنگے اور جدید ہتھیار زیادہ تر ایران کے کھلے میدانی علاقوں، عارضی خیمہ گاہوں اور ثانوی ٹھکانوں پر ضائع کر رہا ہے، جبکہ ایران کے بنیادی ایٹمی، عسکری اور زیرِ زمین انفراسٹرکچر اب بھی مکمل طور پر محفوظ اور قائم و دائم (Intact) ہیں۔ پینٹاگون کا اصل مقصد جنگ کا تصفیہ کرنے سے زیادہ خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب میں خوف کی فضاقائم کر کے اپنے اسلحے کی فروخت اور اربوں ڈالر کے نئے دفاعی معاہددوں کی راہ ہموار کرنا دکھائی دیتا ہے۔
فلسطین اور عرب اسرائیل تنازع کی تاریخ بھی گواہ ہے کہ جب بھی علاقائی حقوق کو نظر انداز کر کے عسکری حل مسلط کرنے کی کوشش کی گئی، اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوئے۔ 1966ء میں، جب اسرائیل نے فلسطینیوں کی بیداری کو کچلنے کے لیے فوجی حکومت کا خاتمہ تو کیا لیکن سرزمین پر بیسیوں غیر قانونی بستیاں قائم کیں اور مئی 1966ء میں غصے اور مزاحمت کے نتیجے میں تیسری فلسطینی قومی کونسل نے غزة میں مسلح جدوجہد کا اعلان کیا۔ اس کے ٹھیک ایک دہائی بعد، 1976ء اور 1977ء میں ارضِ فلسطین پر “یومِ الارض” (Land Day) کے ذریعے فلسطینی عوام کی وہ عظیم الشان احتجاجی تحریک ابھری جس نے ثابت کر دیا کہ پچیس سالہ فوجی تسلط، جبری بے دخلی اور نسل پرستانہ قوانین کے باوجود فلسطینی قوم کی شناخت اور مزاحمت کو ختم نہیں کیا جا سکا۔ 1977ء کا یہ وہی دور تھا جب اسرائیلی حکومت میں دائیں بازو کی لیکوڈ پارٹی اقتدار میں آئی اور فلسطینی اراضی پر قبضے کو پالیسی بنایا، مگر تاریخ نے دکھایا کہ جبر و استبداد اور جدید ترین اسلحے کے بل بوتے پر ابھرنے والے عسکری منصوبے اقوام کی روح اور جغرافیائی حقیقت کو کبھی پامال نہیں کر سکتے۔
تاریخ کا یہ وہی سبق ہے جو آج خلیج کے پانیوں میں دہرایا جا رہا ہے۔ نہ تہران کا سیاسی زعم، نہ واشنگٹن کا عسکری و تجارتی سیٹ اپ، اور نہ ہی صنعاء کا عسکری جنون عالمی معیشت اور انسانوں کی بقا سے بڑھ کر ہو سکتا ہے۔ جنگ کے فیصلوں کی دستاویزات شیشے کے ٹھنڈے ایوانوں میں تیار ہوتی ہیں، مگر ان کی قیمت دنیا بھر کا غریب، ملکی صنعتیں اور عام شہری ادا کرتے ہیں۔ منصفانہ صحافت کا یہی تقاضا ہے کہ ایک ہی ترازو اور ایک ہی باٹ رکھا جائے، یعنی نہ دوست کے لیے الگ وزن ہو، نہ مخالف کے لیے الگ معیار۔
سمندری تجارتی شاہراہوں کو سیاسی یرغمال بنانے کی یہ پالیسی فی الفور ختم ہونی چاہیے۔ آبنائے ہرمز کی بلا تعطل بحالی، باب المندب کو محفوظ بنانا، اور عالمی ایندھن کی گزرگاہوں کو عسکری حملوں سے پاک رکھنا صرف کسی ایک ملک یا ریاست کا مفاد نہیں، بلکہ پوری دنیا اور نسلِ انسانی کی معاشی بقا کی لازمی شرط ہے۔


