عورت کی دنیا اور اس کا اختیار/نادیہ زید

فیمنزم پر گفتگو سنتے ہوئے مجھے ہمیشہ ایک عجیب تضاد محسوس ہوتا ہے۔ ایک طرف ہم عورت کی آزادی، تعلیم، روزگار، ملکیت اور خود اختیاری کی بات کرتے ہیں، اور بجا طور پر کرتے ہیں۔ دوسری طرف وہ تمام محنت جو عورت نے تاریخی طور پر انسانی معاشرے کی تشکیل اور بقا کے لیے کی، ہم خود اسی کو کم تر سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ حمل کی جسمانی مشقت، ڈیلیوری ، بچے کو دودھ پلانا، راتوں کو جاگنا، اس کی نگہداشت، محبت اور تحفظ، اس کی ابتدائی نفسیاتی اور سماجی تشکیل، اور گھر کو اس حال میں قائم رکھنا کہ دوسرے افراد اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں، یہ سب کام انسانی زندگی کے لیے بےحد اہم ہیں۔ ان کے بغیر نہ اگلی نسل اس طرح تیار ہو سکتی ہے، نہ موجودہ نسل اپنی پیداواری ذمہ داریاں ہی ٹھیک سے ادا کر سکتی ہے۔ پھر بھی ان کاموں کو وہ سماجی وقعت نہیں ملتی جو کسی بھی تنخواہ دار پیشے کو ملتی ہے۔ مجھے بارہا یوں لگتا ہے کہ ہم گھر میں کی گئی محنت کو کمتر اس لیے سمجھتے ہیں کہ ہم نے بنا سوچے قدر کے مفہوم کو آمدن کے مفہوم کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ جو کام پیسہ لائے، وہ تو اہم۔ پر جو زندگی سنبھالے، وہ معمولی۔ اور یہ بے ایمانی مجھے ہمیشہ کھٹکتی ہے۔

اور Ethics of Care کی پوری بحث ہی اس بات سے شروع ہوتی ہے کہ انسان کبھی مکمل طور پر خودکفیل نہیں ہوتا۔ وہ محتاج پیدا ہوتا ہے، زندگی کے مختلف مرحلوں میں دوسروں کی نگہداشت کا محتاج رہتا ہے، اور جس خودمختاری پر اسے اتنا ناز ہوتا ہے وہ بھی بےشمار رشتوں، خدمات اور دیکھ بھال کے سہارے قائم ہوتی ہے۔ Social Reproduction Theory اسی فکر پر معاشی نکتہ نظر سے بات کرتی ہے کہ دفاتر، کارخانوں، یونیورسٹیوں اور منڈیوں میں چلتی ہوئی معیشت کے پیچھے ایک اور محنت جس میں انسانوں کو جنم دینا، پالنا، سنبھالنا اور اس قابل بنانا کہ وہ ایک دن خود اسی نظام کا حصہ بن سکیں بھی مسلسل کی جارہی ہوتی ہے۔۔ Nancy Fraser اسی تضاد پر بات کرتی ہیں کہ سرمایہ دارانہ نظام جس نگہداشت اور نسلی تسلسل پر کھڑا ہے، اسی کو اپنی مرکزی معاشی قدر میں پوری طرح شمار نہیں کرتا۔ عجیب بات یہ ہے کہ گھر سے باہر ہمیں recognition کی اہمیت خوب سمجھ آتی ہے۔ محقق کو اپنے کام کی شناخت چاہیے، ملازم کو تعریف اور ترقی، ہر انسان کو یہ احساس کہ اس کی محنت دیکھی گئی اور مانی گئی۔ مگر گھر کے اندر عورت کی محنت کو پہلے فرض کہہ کر معمول بنا دیا جاتا ہے، پھر اسی فرض کی قیمت بھی اسی سے وصول کی جاتی ہے۔ بچے جنتے جنتے جسم بدل گیا تو کشش کم ہوگئی، راتیں جاگتے جاگتے چہرے پر تھکن اتر آئی تو رونق جاتی رہی، برسوں چولہے کے آگے کھڑی رہی تو پیاز اور مصالحے کی بو اس کے چھوٹا ہونے کا ثبوت بن گئی۔ عجب انصاف ہے ناں کہ جس جسم نے نسل کو جنم دیا، اسی جسم کو بدل جانے پر کمتر کہا جاتا ہے۔ جن ہاتھوں نے سب کو کھلایا، انہی ہاتھوں کی بو ناگوار ٹھہرتی ہے۔ اور جس عورت نے عمر بھر دوسروں کی زندگیاں سنبھالیں، آخر میں اسی سے پوچھ لیا جاتا ہے، تم نے آخر کیا ہی کیا ہے؟

وقت کے ساتھ مجھے اس بات کا احساس بھی زیادہ ہوا ہے کہ “جو ہونا چاہیے” اور “جو ہوتا ہے” ایک ہی چیز نہیں ہے۔ اصولاً شادی شراکت ہونی چاہیے، دونوں ایک دوسرے کی محنت کو مانیں، ایک کے کیریئر، وقت اور خواب دوسرے سے کم قیمتی نہ ہوں، اور گھر، بچے، پیسہ اور فیصلے مشترک ذمہ داری ہوں۔ مگر زندگی ہمیشہ اصولوں کے مطابق نہیں چلتی، اور اچھے، منصف مزاج، دیانت دار انسان ہر ایک کے حصے میں نہیں آتے۔ عورت جب محبت میں اپنا وقت، پیشہ اور سب آسانیاں پیچھے چھوڑتی ہے تو خطرہ یہ ہوتا ہے کہ اس ایثار کو احسان نہیں، فرض سمجھ لیا جائے گا۔ اور پھر جو طاقت ایک فریق کے ہاتھ میں جمع ہو، وہ اسی کے مفاد کے مطابق استعمال ہونے لگے گی۔ Bourdieu کے habitus اور طاقت کے تصورات یہ بتاتے ہیں کہ اختیار صرف کھلے جبر میں نہیں ہوتا، وہ تو روزمرہ کے معمولات میں بھی چھپا ہوتا ہے۔ کس کے پیشے کی خاطر شہر بدلے گا، کس کی ملازمت بچوں کے بعد مؤخر ہوگی، کس کے وقت کو زیادہ قیمتی سمجھا جائے گا، بڑے مالی معاملات میں کس کی رائے محض رائے رہے گی اور کس کی رائے فیصلہ بن جائے گی۔ یہ سب چھوٹی باتیں الگ الگ معمولی لگ سکتی ہیں، مگر اکٹھی ہو کر گھر کے اندر طاقت کا پورا نظام بناتی ہیں۔ اسی لیے اب مجھے اب عورت کی معاشی خودمختاری پر زور محض careerism نہیں لگتا۔ پیسہ صرف خرچ کرنے کی آزادی نہیں دیتا، وہ اختیار، تحفظ، گفت و شنید کی قوت اور ضرورت پڑنے پر کسی ناموافق صورتِ حال سے نکلنے کی عملی صلاحیت بھی دیتا ہے۔ جب معاشرہ پہلے ہی عورت کو اپنے کام پر نہ اجرت دیتا ہے اور نہ قدر ہی کرتا ہے تو پھر اپنی پوری زندگی اس امید پر رکھ دینا کہ سامنے والا ضرور قدر کرے گا، میرے خیال میں ایک بڑا ہی مہنگا جوا ہے۔

لیکن اس کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر کوئی عورت ملازمت کرتی ہے، کیریئر بناتی ہے، مالی طور پر خودمختار ہے، تو اسے اپنی اس خودمختاری کی قیمت دوسری عورت کے کام کو کمتر دکھا کر ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔ جو عورت گھر میں رہ کر بچے پال رہی ہے، ان کی نگہداشت، گھر کے کام اور روزمرہ کی بےشمار ذمہ داریاں اٹھا رہی ہے، وہ کوئی کم تر زندگی نہیں گزار رہی۔ اورضروری نہیں کہ سب عورتیں ایک ہی راستہ اختیار کریں۔ اور اب ہمیں ہم ایک عورت کی قدر ثابت کرنے کے لیے دوسری عورت کی قدر گھٹانا بھی بند کرنا ہوگا۔ اپنے لیے مالی خودمختاری چاہنا بالکل درست ہے، مگر اس کے ساتھ اتنی دیانت بھی ہونی چاہیے کہ ہم مان سکیں کہ جو کام ہم خود نہیں کر رہے، وہ بےوقعت نہیں ہو جاتا۔ ہر محنت کی اپنی قدر ہے۔ اگر کسی عورت نے اپنا کیریئر چنا اور بچوں کی نگہداشت دوسروں کے سپرد کی، تو بچوں کی محرومی کا بوجھ صرف اسی کے سر نہ رکھیے کہ باپ بھی اسی گھر اور انہی بچوں کا برابر کا ذمہ دار ہے۔ اور اگر کسی مرد یا عورت نے بچوں کے لیے اپنا کیریئر پیچھے رکھا، تو اسے یہ مت سنائیے کہ اب راستہ صرف آپ کی مرضی سے چلے گا۔ اگر کوئی ایسا کہے بھی، تو بہت کچھ اب بھی آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اپنی مفت کی خدمات واپس لے لیجیے، اپنا وقت، اپنی محنت، اپنی توانائی پھر سے اپنی ملکیت بنائیے۔ آپ کسی سے کم تر نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں