ہم دکانوں کو کھلا رکھیں یا بند دوکانوں کو ضرور کھلا رکھیں۔ کان کھلے ہوں گے تو کوئی آپ کی لا علمی سے فائدہ نہ اٹھا سکے گا۔ آج کل سنی سنائی باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ بلا تصدیق آگے پہنچا دی جاتی ہیں۔۔ ضروری نہیں جو بات آپ نے سنی ہے وہ سچ نہ ہو۔ زبان جو کچھ کہتی ہے اور کان جو کچھ سنتے ہیں اس میں غلطی کا شائبہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ دونوں کانوں اور دونوں انکھوں کو کھلا رکھیں، اور اس کے ساتھ ساتھ دماغ کی کھڑکیوں سے جھانکتے اور پرکھتے رہیں کہ کیا درست اور کیا غلط ہو رہا ہے۔ کان جہاں ہمیں سماعت کی قوت دیتے ہیں، وہاں ہمارے لئیے مشکلات بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہی کان ہیں جن کی بدولت ہم کان پکڑنے پرمجبور ہو جاتے ہیں۔
بڑے لوگوں کا کہنا ہے کہ کان سیدھی طرح ایک طرف سے پکڑا جاۓ یا ہاتھ موڑ کر دوسری طرف سے، بات ایک ہی پے۔ کہنے والے ٹھیک ہی کہتے ہونگے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ کان کسی بھی طرح سے صرف پکڑا جائے کھینچا نہ جاۓ تو وہ تکلیف دہ نہیں ہوتا۔ البتہ جب کسی کا کان کھینچا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ ویسا ہی ہوتا ہے جیسے کسی نے آپ کے ٹانگ کھینچ لی ہو۔ کان کھینچنے سے ناصرف کان لال ہو جاتا ہے بلکہ سخت تکلیف سے برا حال ہو جاتا ہے۔ پچھلے زمانے میں کسی کو سزا کے طور پر مرغا بنا کر دونوں ہاتھوں سے کان پکڑاۓ جاتے تھے۔ یہ سزا بہت زیادہ تکلیف دہ ہوتی تھی، کیونکہ اس حالت میں کسی کے لعل کا منہ تو لال ہوجاتا تھا، کمر بھی تختہ ہو جاتی تھی اور ٹانگیں الگ کانپنے لگتی تھیں۔ ہزیمت تو اٹھانا ہی پڑتی تھی۔۔آپ کو پتا ہے کہ کان کو الٹا کیا جاۓ تو کیا بنتا ہے۔ اس کی ہئیت بالکل ہی بدل جاتی ہے۔ یعنی کان، ناک مبں بدل جاتا ہے اور ناک کان میں بدل جاتی ہے۔ یقین نہ آئے تو تجربہ کرکے دیکھ لیں۔ کان کے حروف کی ترتیب الٹ دی جاۓ تو مطلوبہ نتیجہ سامنے آ جاۓ گا۔ ناک اور کان ویسے بھی چہرے کے محلے میں دو پڑوسی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر دونوں کو یار لوگ ان کے فطری فریضے کے علاوہ سزا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ کسی کو سزا دینا مطلوب ہو تو ناک سے لکیریں نکلوائی جاتی ہیں یا خوب کان کھینچے جاتے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ غیر انسانی اور ذلت آمیز برتاؤ ہوتا ہے۔ ناک تو بیچاری پہلے ہی نازک اندام ہوتی ہے، جو بات بات پہ کٹتی رہتی ہے۔ اور کان بھی گل رخسار ہوتے ہیں مگر ان کی قسمت میں کھینچا تانی لکھی ہوتی ہے۔ جیسے یہ کان نہیں سیاسی جماعتیں ہوں۔
کانوں کا کام سننا ہوتا ہے۔ لوگ جو بھی جلی کٹی اور زہر ألود باتیں کسی کو سناتے ہیں، وہ سب باتیں کان ہی سنتے اور سہتے ہیں، اور سنانے والے چین سے رہتے ہیں۔ لیکن جب اسکول کے ہیڈ ماسٹر شرارتی بچوں کو سزا سنانے ہیں تو کان پکڑوا کر ان پر اپنا غصہ اتارتے ہیں۔
اسکولوں میں زیادہ تر بچوں کے کان مروڑنے اور کان پکڑاۓ جانے کی سزا کلاس میں شور مچانے پر اس وقت سنائی جاتی ہے، جب شور کی وجہ سے استاد کو کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ دعا دیں موبائل ٹیکنا لوجی کو کہ اس کا استعمال کرتے ہوئے طلباء اتنے محو ہو جاتے ہیں کہ انہیں شور مچانے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ خود ان کو بھی کوئی آواز نہیں سنائی نہیں دیتی، کیوں کہ ان کے کانوں پہ ائر فون وائر، آلہ صوت کی طرح لگی ہوتی ہیں۔ ناک اور کان خوبصورت ہوں تو چہرے کو پر کشش اور جاذب نظر بناتے ہیں۔ معتدل جسامت کے کان بالخصوص نسوانی حسن کو چار چاند لگاتے ہیں۔ کانوں میں سونے کی بالیاں، جھمکے اور بندے پہنے ہوں اور ناک میں ہیرے کی چمکتی لونگ ہو تو کیا کہنے۔ بشرطیکہ جھمکے بریلی کے بازار میں گرنے سے بچے رہیں اور لونگ کہیں گواچے نہ۔ دیکھا جاۓ تو ناک چہرے کے حسن و جمال میں کان سے بڑھ کر اضافہ کرتی ہے۔ ناک ستواں اور پتلی ہو تو تیکھے نقش کو اور حسین بنا دیتی ہے۔ یہاں تک کہ قدر دان تعریف کئے بغیر نہیں رہتے۔ انکی فٹافٹ شادیاں بھی ہو جاتی ہے۔ حالانکہ ضروری نہیں کہ بعد میں اچھی ناکوں والے ناک میں دم نہ کرتے ہوں۔۔ ایک زمانہ تھا کہ بچے کے والدین کان اینٹھنے کو ان کی تربیت کا حصہ سمجھتے تھے۔ بچوں کی غلطیوں اور شرارتوں پر ان کی گوشمالی کی جاتی تھی۔ لیکن اچھی بات یہ تھی کہ بچے سدھر جاتے تھے۔ آجکل بچوں کے پپا مکوں اور تھپڑوں سے بچوں کی دھنائی کرتے ہیں مگر بچے بجائے سنورنے کے مزید بگڑ جاتے ہیں۔ عورتوں اور مردوں کے کان چھوٹے ہوں یا بڑے اس سے فرق نہیں پڑتا اصل بات یہ ہے کہ ان کی قوت سماعت صحیح ہو۔ دوسری خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ کوئی پیٹ کا ہلکا ہو تو ہو، کانوں کا کچا نہ ہو۔ ورنہ معاملہ خراب ہو جاتا ہے۔ ہم لاکھ لوگوں کو سمجھائیں کہ ہمیں کانوں کا صحیح استعمال کرنا چاہئے، لیکن ان کے کان پہ جوں نہیں رینگتی۔ کانوں کی حفاظت بھی بہت ضروری ہے۔۔ سردیوں کی برفانی ہوا میں کانوں کو کنٹوپ یا مفلر سے ضرور ڈھانپ لینا چاہیۓ۔ ورنہ دانتوں کے ساتھ کان بھی بجنے لگیں گے۔ ہم پہ لازم ہے کہ ہم کانوں کا اچھا استعمال کریں۔ اچھا استعمال یہ ہے کہ آپ جتنا چاہیں پیٹ بھر کر کھانا کھائیں مگر دوسروں کے کان نہ کھائیں، نہ ہی دوسروں کے کان بھریں۔ اسی میں عافیت ہے۔
آجکل کے بچوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بڑوں کے کان کاٹتے ہیں۔ اسے کان کترنا بھی کہتے ہیں۔ ایسا کرنا کسی حد تک بہتر ہے، دانتوں سے ناخن کترنے سے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں غلط باتوں پہ کان دھرنے کی بجائے، اچھی باتیں کان کھول کر سننی چاہئیں۔ ایک اور بات ہے کہ جو بات سب کے سامنے کرنا مناسب نہ ہو وہ آہستگی سے کان میں کہہ کر فارغ ہو جائیں، ایسا نہ ہو کہ دوسروں کے کان کھڑے ہو جائیں کہ آخر ایسی کیا بات ہے جس کی پردہ داری ہے۔ جو لوگ خفیہ بات چپکے سے کہتے ہیں، اس کی خبر کسی کو کان و کان نہیں ہوتی۔ البتہ جب آپ محفل میں ہوں تو سرگوشیاں بالکل نہ کریں۔ یہ انتہائی معیوب بات ہوتی ہے۔ ذیادہ اونچا بولنا بھی محفل کے آداب کے منافی ہے۔ اتنا اونچا نہ بولیں کہ دوسروں کے کان کے پردے چاک ہو جائیں۔
سب مانتے ہیں کہ جس کے مونہہ سے شیریں الفاظ پھولوں کی طرح جھڑتے ہوں وہ غنچہ دہن شیریں سخن کہلاتے ہیں۔ انکی باتیں کانوں میں رس گھولتی ہیں۔ جن کی سماعت اچھی ہوتی ہے وہ اچھی باتیں ہمہ تن گوش ہو کر سنتے ہیں۔ جب کہ اونچا سننے والوں کے گوش گزار کچھ بھی کریں، ایسا لگتا ہے انہوں نے ہر بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیا۔ اگر گوشہ تنہائی میں جا کر یاد آجائےکہ ابھی تک انکم ٹیکس اسٹیٹمنٹ ایف بی آر کو نہیں بھیجی تو فورآ وکیل کے حلقہ بگوش ہو کر گوشوارہ بنانے بیٹھ جائیں تاکہ کل کو تمہاری گوشمالی نہ ہو جاۓ۔


